#two, #Fortress,

دو کلیاں

دو کلیاں
رمانہ تبسم،پٹنہ سیٹی،انڈیا
رابطہ۔9973889970

’’اماں ایک روٹی اور دو نہ ۔۔۔۔۔!ــ‘‘
شازیہ نے پلیٹ ماں کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’پانی پی لو۔۔۔۔۔!‘‘
زرینہ نے برتن سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’نہیںاماں۔۔۔۔۔میںپانی نہیںپیوں گی۔۔۔۔۔ابھی میرا پیٹ نہیں بھرا ہے۔مجھے ایک روٹی اور چاہئے۔‘‘
’’ ایک تم ہی نہیںہو کھانے کے لئے اور بھی بچے ہیں۔جتنا کھانے کو مل رہا ہے،اس میں اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘
’’آدھا پیٹ کھانے کو دیتی ہو ۔۔۔۔۔ اس پر بھی کہتی ہوکہ۔۔۔۔۔اللہ کا شکریہ ادا کرو۔۔۔۔۔ نہیں کروں گی۔‘‘ وہ معصومیت سے بولی اور کلپتے ہوئے رکابی پھینک کروہاںسے چلی گئی۔اس کی چھوٹی بہن نے اس کی رکابی سے گرا ہوا آلو اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لیا۔
اسلم ہاتھ میں ڈاکڑ کا رپورٹ لئے جیسے ہی گھر میں داخل ہوا۔ شازیہ کو غصہ سے رکابی پھینک کر جاتے ہوئے اداس نظروں سے دیکھنے لگا۔اس کا منہ ناک چڑھا ہوا دیکھ کر وہ جان گیاکہ آج پھر وہ کھانے کی وجہ کر کلپتے ہوئے یہاں سے گئی ہیکیونکہ اکثر وہ روٹی یا سبزی کم ملنے کی وجہ کر ماں سے غصہ رہتی تھی۔۔۔۔۔ان سب کا گنہگار وہ خود ہے۔جنہیں پیٹ بھر کر کھانے کے ساتھ ساتھ اچھی پرورش بھی نہیں دے پا رہا ہے۔ایک اوسط درجہ کے آدمی کو اتنے بچے نہیں رکھنا چاہئے۔اس نے ایک نگاہ ڈاکڑ کی رپورٹ پر ڈالی۔ زرینہ کو آٹھواں بچہ ہونے والا ہے ۔ اگر زرینہ کو شروع سے ہی اچھی غذا ملتی تو بچے بھی تندرست پیدا ہوتے ۔۔۔۔۔ اگر میری زرینہ کو کچھ ہو گیا تو ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ آٹھواں بچہ بیٹا ہوگا۔۔۔۔۔ یا بیٹی ۔۔۔۔۔اگر ڈاکڑ کی بات ۔۔۔۔ ۔نہیں۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔اے اللہ۔۔۔۔۔ یہ مجھ سے کیا ہو گیا۔ایک بیٹا کے امید میںسات لڑکی ہو گئی اور میں اب بھی بیٹاکی امید لگائے بیٹھاہوں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔مجھے بیٹا نہیں چاہئے۔
’’کیاہوا۔۔۔۔۔؟آپ اتنا گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟‘‘زرینہ نے اسلم کو جھنجھورتے ہوئے کہا۔
اسلم نے چونک کر زرینہ کی طرف دیکھا۔اس کی صحت میں نمایاں فرق آچکا تھا۔کتنے خوشحال گھر کی تھی۔ تمتماتے ہوئے گلابی خسار ،مخملی ہونٹ، غزالی آنکھیں پہلی ہی نظر میں اس کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو گیا تھا۔ وہ ایک ادنی سا اس کے والد کی فیکٹری میں ملازم تھا۔اس کی ایمانداری اور شرافت پر زرینہ نے اپنے گھر والوں کے خلاف ہو کر اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ میںنے اسے آج تک دیا ہی کیا ہے۔شادی کے بعد اس کی کیا حالت کر دی ۔ میری وجہ کر اس کی خوبصورتی کملہ کر رہ گئی ہے ۔بالکل ہڈیوں کا ڈھیر ۔۔۔۔۔ جس پر سفید کھال منڈھی ہوئی ۔۔۔۔۔ لیکن اس نے کبھی اف تک نہیںکیا۔ہمیشہ میرا حکم مانتی رہی ۔
’’آپ کیا سوچ رہے ہیں۔۔۔۔۔؟‘‘زرینہ نے اسلم کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔ آج آپ شازیہ کی حرکت کی وجہ کرپریشان ہیں۔آپ فکر نہ کریں۔ میں اسے سمجھا دوں گی،آج کل وہ بہت ضدی ہو گئی ہے۔ ہر چیز کے لئے ضدکرتی ہے۔ ‘‘
اسلم نے پریشان نظروں سے اس کی طرف دیکھااور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بیٹھایا۔اس کے ہاتھ اور پیر پھولے ہوئے تھے۔
’’زرینہ مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔میں تم سب کا گنہگار ہوں۔‘‘
اسلم نے آنسوبھری نگاہوں سے زرینہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ مجھ سے ۔۔۔۔۔ کس بات کی معافی مانگ رہے ہیں۔‘‘
’’زرینہ! ایک بیٹا کی خواہش میں،میں نے تمہاری کیا حالت کر دی ہے۔تم مجھے ہمیشہ سمجھاتی تھی کہ بیٹاہویابیٹی بچے جنت کے پھول ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ میں نے تمہار ی با ت ہرگز نہیں مانی ۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔مجھے تو بیٹا چاہئے تھا۔۔۔۔۔ کاش زرینہ ۔۔۔۔۔ میں تمہاری بات پہلے ہی مان لیتا توآج تمہاری یہ حالت نہیںہوتی۔ہماری دو کلی ہوتی۔۔۔۔۔تو وہ پھول بن کر صحیح سے کھلتی۔۔۔۔۔ہم اس کی ہرخواہش کو پوری کرتے ۔۔۔۔۔ انہیں شہر کے اچھے اسکول میں پڑھاتے ۔۔۔۔۔ ان کا مستقبل تابناک بناتے۔۔۔۔۔زرینہ سرکار نے صحیح نعرہ دیاہے۔ہم دوہمارے دو۔۔۔۔۔چھوٹا خاندان خوشحال خاندان۔۔۔۔۔زرینہ میں تمہیں کچھ ہونے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔مجھے اب بیٹا نہیں چاہئے ۔۔۔۔۔ مجھے صرف میری زرینہ چاہئے۔‘‘اسلم نے زرینہ کو اپنی بانہوںمیں لیتے ہوئے گیلی آواز میں کہا۔
’’آپ میرے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔آپ کا پیار میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔ تو مجھے کچھ نہیںہو سکتا ہے۔‘‘
’’میں تمہیں کچھ ہونے بھی نہیں دوں گا۔ماں صحت مند رہے گی تبھی بچے بھی تندرست ہو سکتے ہیں۔‘‘
’’چلئے دیر آئیں درست آئیں۔۔۔۔۔بیٹا یا بیٹی کودو نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ دونوں کائنات کے پھول ہوتے ہیں۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں