need-new-social-political-initiative

ایک نئی سماجی اور سیاسی پہل کی ضرورت

ایک نئی سماجی اور سیاسی پہل کی ضرورت

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل
جس وقت آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے 2019کے لوک سبھا انتخاب کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہوگا اور قریب ۲۰ ریاستوں میں ۹۱ سیٹوں پر امیدواروں کی قسمت ای۔وی۔ایم۔ میں بند ہوچکی ہوگی۔
2014کے الیکشن میں جب پورے اتر بھارت میں مودی لہر چل رہی تھی اس وقت بی جے پی کو کل 31%ووٹ ملے تھے اور لوک سبھا میں اسے 282سیٹیں ملی تھیں۔ اس طرح اسے تیس سال میںپہلی بار واضح اکثریت کے ساتھ سرکار بنانے کا موقع ملا تھا۔ اس کے بعد بھی بی جے پی نے اپنی سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی حلیف پارٹیوں کو نہیں چھوڑا بلکہ لگاتار اپنے بیس کو پھیلانے اور مضبوط کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
2014کے الیکشن نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس کے باوجود کہ بی جے پی پارلیمنٹ میں اکثریت کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، مگر سماجی طور پر پوپلر ووٹ شیئر کا 69%اس کے خلاف تھا۔ دوسرے لفظوں میں ملک کی دو تہائی آبادی اس کی سیاسی پالیسیوں نیز اس کی لیڈر شپ سے اتفاق نہیں رکھتی تھی۔ چنانچہ جب 2019کا الیکشن قریب آنے لگا تو سیاسی مفکرین اور دانش وروں کی ایک بڑی جماعت نے ملک کی غیر بی جے پی پارٹیوں کو باہم مل کر الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا۔ شروع میں ایسا لگا کہ سیاسی پارٹیاں نوشت دیوار پڑھ کر ایک ساتھ آنے کو تیار ہیں۔ مگر ان کی شخصی اور گروہی سیاست ملکی مفاد پر غالب آگئی اور انھوں نے اتحاد کا تانا بانا بکھیر دیا۔ یہ صورتحال بی جے پی کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم ابھی تک کے جو اپی نین پول آئے ہیں اس سے ثابت ہوتاہے کہ اس بار معلق لوک سبھا ہوگی۔ کس پارٹی کو کتنی سیٹیں ملیں گی اس کا اندازہ تو 23؍مئی کو ہی ہوگا۔
2014کے انتخاب کے وقت مودی جی نے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کیے تھے۔ پچھلے پانچ سال میں واضح اکثریت اور مضبوط لیڈر کے باوجود وہ کوئی کرشمہ کرنے میں ناکام رہے بلکہ ٹھیک ٹھاک چل رہی معیشت کا بھی بنٹا دھار کردیا جس نے نوجوانوں، کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔دوسری طرف ملک میں سماجی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بہت دھکا لگا اور قانون کی حکمرانی ختم ہوگئی۔ اقلیتوں اور کمزور طبقات کو دہشت زدہ رکھنا اسٹیٹ پالیسی کا حصہ بن گئی اور حکومت اور اس کی ایجنسیاں ایسے افراد اور گروہوں کی پشت پناہ بن گئیں۔
اس وقت نوجوان بے کار اور کسان پریشان ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔سیاسی پارٹیاں تو سیاسی بصیرت کے امتحان میں ناکام ہوگئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کا جو الیکٹوریٹ ہے جس نے ہمیشہ ملک کو بحران سے باہر نکالا ہے اور صحیح سیاسی فیصلہ کرکے بڑے بڑے سیاست دانوں، صحافیوں اور پول پنڈتوں کو چکرا دیا ہے اس بار کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
بی جے پی کا بیس ووٹ 20%ہے، پچھلی بار 11%اسے فلوٹنگ ووٹ ملے تھے جس نے اس کو واضح اکثریت دلادیا تھا۔ بی جے پی کاجو بیس ووٹ ہے، وہ تو پوری طرح سالم ہے اس میں کوئی ٹوٹ نہیں ہوئی ہے۔لیکن 11%کا جو فلوٹنگ ووٹ ہے اس میں سے ایک بڑا حصہ اس سے الگ ہوگیا ہے۔ کچھ سیاسی پارٹیوں نے جیسے یو پی میں بہوجن اور سماج وادی پارٹی نے آپس میں اتحاد کرلیا ہے۔ اس بار اس اتحاد کو 40سے زائد سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اسی طرح بہار میں بھی آر جے ڈی کے ساتھ کئی پارٹیاں مل کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ لہٰذا بہار میں بھی آدھی سے زیادہ سیٹوں پر ان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ پچھلی بار کئی ریاستوں میں بی جے پی کو ساری سیٹیں مل گئی تھیں، اس بار ایسی کوئی ریاست نہیں ہے جہاں وہ سب سیٹ جیت جائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بی جے پی کو ایک سو سیٹ کا نقصان ہوگا۔ اس کی بھرپائی وہ کیسے اور کہاں سے کرے گی یہ دیکھنے کی چیز ہوگی۔ بی جے پی کی حلیف پارٹیوں کو پچاس سیٹ مل سکتی ہیں۔ اس طرح این ڈی اے کی مجموعی تعداد 250سے زیادہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ اگر کوئی بات اچانک ہوجائے تو اس کی پیش گوئی مشکل ہے۔
اس طرح حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے سامنے موقع ہے کہ وہ حکومت بنائیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی لیڈران عوام کے جذبات کا لحاظ رکھتے ہیں یا شخصی مفاد کے آگے سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ سیاست دانوں سے اعلیٰ ظرفی کی توقع رکھنا نیم کے پیڑ سے آم کا پھل حاصل کرنے جیسی بات ہے۔
ملک کی سیاست چاہے جو رخ لے اور اقتدار جس شخص اور پارٹی کے ہاتھ آئے ملک کے جو کمزور طبقات ہیں یعنی جو اقلیتیں ہیں، پس ماندہ ذات اور برادریاں ہیں، دلت اور آدی باسی ہیں ان کو ایک سماجی اور سیاسی پلیٹ فارم بنانا ہوگا، ورنہ پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی جو طاقتیں ہیں، وہ ایک ایک کرکے ان کو نقصان پہنچائیں گی۔ اس لیے کہ فسطائیت کا یہی مزاج رہا ہے اور یہی اس کی حکمت عملی رہی ہے۔ ملک کو فسطائی سیاست کے انجام بد سے بچانے کے لیے ایک مضبوط سماجی اور سیاسی محاذ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں