#Elction-2019, #Modi, #Media, #Schems, #Radio, #Tv, #broadcasting,

آکاش وانی سے چناو وانی تک

آکاش وانی سے چناو وانی تک

ڈاکٹر سلیم خان

سرزمین ِ ہندپر ریڈیائی نشریات کا آغاز ویسے تو ۱۹۲۳؁ میں ممبئی کے ریڈیو کلب سے ہوگیا تھا لیکن اس کو انڈین براڈاکاسٹ کمپنی کا نام سے ۱۹۲۷؁ میں منسوب کیا گیا ۔ اسی سال لال کرشن اڈوانی کا جنم ہوا ، اور آج اس ادارے کی حالت بھی اڈوانی جی جیسی ہوگئی ہے ۔ایک زمانے تک لوگ آل انڈیا ریڈیو سے تفریح کا سامان کیا کرتے تھے اب بور ہونے کے لیے’من کی بات ‘ سنتے ہیں۔ آکاش وانی سے کسی وقت خبریں نشر ہوا کرتی تھیں لیکن اب سرکار کا پرچار ہوتا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر ایک سرکاری ادارے میں جہاں سے بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کے نعرے نشر ہوتے ہیں جنسی استحصال کی شکایت کرنے والی ۹ خاتون ملازمین سے ہمدردی کرنے کے بجائے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔یہ احمقانہ موقف اگر کسی کی سمجھ سے بالاتر ہو کہ آل انڈیا ریڈیو میں برسرِ روزگار مظلوم خواتین کی شکایت پر کارروائی کیوں کی گئی تو اسے ہندوستان کی قدیم تہذ یب و ثقافت کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ ان روایات کو دیکھنا چاہیے جن کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے مہا بھارت میں گرو درونا چاریہ نے ایک لویہ نامی قبائلی نوجوان کا انگوٹھا کٹوا کر اسے تیراندازی کی مہارت سے محروم کردیا تھا ۔ اس واقعہ میں یہ درس عبرت ہے کہ ظلم کو خندہ پیشانی اور سعادتمندی کے ساتھ برداشت کرو ۔ حقائق کو دیکھو مگر زبان پر نہ لاو ورنہ زبان کاٹ دی جائے گی۔
آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کومستقل کرنے کا مطالبہ کرنے والے عارضی( Casual) اناؤنسرز اینڈ کمپیئر یونین کے زیر اہتمام دہلی کے جنتر منتر پر چند ماہ قبل ایک مظاہرہ ہوا تھا ۔ اس نعرے لگ رہے تھے ۔ ’ ہم ریڈیو کی آواز ہیں لیکن ہمارا ہی گلا گھونٹا جا رہا ہے‘۔ آل انڈیا ریڈیو میں فی الحال جو کچھ ہو رہا ہے وہی ملک بھر کی صورتحال ہے ۔ اس کے ایک شکار منی پور کے صحافی کشورچندر وانگ کھیم ہیں جن کو ہائی کورٹ نے پچھلے ہفتہ رہا کردیا ۔ کشورچندر منی پور کے مقامی ٹی وی چینل آئی ایس ٹی وی میں اینکر تھے۔ ان کو جب گرفتار کیا گیا تو کشور کی خاطر خواہ حمایت مقامی یا قومی صحافی برادری نے نہیں کی۔ چینل کے مالکین میں بھی اپنے ملازم کو بچانے کی جرأت نہیں تھی اس لیے اس نے بھی ہاتھ کھینچ لیا بلکہ الٹا نوکری سے نکال دیا ۔حکمراں پارٹی کے خلاف بولنے کے لئے کشور پر آئی پی سی کی دفع ۱۲۴(اے ) کے تحت بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن مقامی عدالت نے ان سنگین الزامات کو خارج کرتے ہوئے ان کو نومبر کے آخر میں بری کر دیا۔ یہ اس لیے ممکن ہوسکا کہ ہندوستان میں بغاوت کا الزام لگا کر اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانا بہت آسان ہے لیکن وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ’ ‘اگر ہمارا بس چلے تو سیڈیشن لاء کو ہم اور سخت بنائیں‌گے، تاکہ اس پروویزنس کی یاد آتے ہی لوگوں کی روح کانپے… ایسا قانون بنائیں‌گے۔‘‘ وزیرداخلہ بھول گئے کہ اس طرح کے قانون کا استعمال ان کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔
عدالت سے کلین چٹ ملنے کے باوجود ریاستی حکومت کے زیر اثر کام کرنے والی پولیس نے کشور چندر کو ۲۴ گھنٹوں کے اندر دوبارہاین ایس اے کے تحت حراست میں لے لیا اور ایک سال تک جیل میں رکھنے کی منظوری حاصل کرنے کے لئے ۱۳ دسمبر کو صلاح کار بورڈ تشکیل دیا ۔ اس کالے قانون کے تحت گرفتاری کے وقت وانگ کھیم پر سوشل میڈیا میں وائرل ایک یوٹیوب ویڈیو کا حوالہ دیا گیا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیراعلیٰ این بیرین سنگھ اور آر ایس ایس پر تنقید کرنے کا الزام تھا ۔ کشورچندر نے اس جبر کےخلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ وسط مارچ سےان کی صحت بگڑنے لگی تھی اور وزن میں اچانک گراوٹ آگئی تھی اس لیے امپھال کے سرکاری اسپتال میں لے جایا گیا تھا ۔ان کی اہلیہ رنجیتا ایلانگ نے بیماری کا اندازہ لگانے کے لیے پریسکرپشن(دواؤں کی پرچی) کی تصویر لینے کی کوشش تواسے روک کر جیلر کے پاس بھیج دیا گیا ۔ ڈاکٹروں نے بتایا شوگر لیول بڑھا ہوا ہے مگر خاص قسم کی غذا مہیا کرانے میں دقت ہے۔ خیر امید ہے رہائی کے بعد کشور چند کا علاج ہوسکے گا ۔
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے صحافیوں کے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں ہندوستان کا مقام سب سے اوپر والوں میں کیوں ہے؟ وسط مارچ میں احمد آباد کے صحافی چراغ پٹیل کے موت کی خبر آئی ۔ وہ ٹی وی ۹ نیوزچینل میں کام نے والا بی جے پی کا ناقد صحافی تھا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر باہری چوٹ کے نشان نہیں ہیں۔ جسم کا نچلا حصہ زیادہ بری طرح جلا ہے۔ پٹیل کی لاش جس جگہ ملی اس کے آس پاس جلنے کے نشان ہیں اس لیے ممکن اس کو قتل کے بعد جلایا گیا ہو۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چراغ بغیر کسی تناو کے تنہا نظر آتا ہے۔ موت سے پہلے وہ اپنے دوست سے فون پر سیاست پر بات چیت بھی کرتا ہے ۔ اس کے باوجود پولس نے پہلے اسے حادثہ یا خودکشی کہہ کر ہلکاکرنے کی کوشش کی لیکن جب موبائل فون بھی نہیں ملا تو پولس شک کرنے پر مجبور ہوگئی اور اس کے بھائی جیمن پٹیل کی جانب سے درج شدہ ایف آئی آر میں قتل کی دفع شامل کر دی۔ ملک کے آدرش صوبے کی راجدھانی میں نڈر صحافیوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک روا ہو تو جمہوریت اور انتخابات محض ایک ڈھکوسلہ معلوم ہوتے ہیں ۔
اس تناظر میں انتخابی مہم کو دیکھیں تو آل انڈیا ریڈیو کی خبروں کے آخر میں موسم کا حال یاد آتا ہے۔ موسم باراں ویسے تو بارش کی کی نوید لے کر آتا ہے لیکن اس کو اس طرح بھی بیان کار جاتا ہےکہ’’ گرج چمک کے ساتھ چھینٹے پڑیں گے‘‘ اس لیے کہ تیز ہوا کے بغیربادل نہیں آتے اور بادلوں کے بغیر بارش نہیں ہوتی ۔ گھنے بادل اگر آسمان میں بجلی بن کر نہ کڑکیں تب بھی برسات کا مزہ نہیں آتا ۔ انتخابی موسم میں ہر بار یہ الفاظ صادق آتے ہیں کیونکہ گرج چمک مختلف سمتوں سے مختلف انداز میں ہوتی ہے۔ این ڈی اے والے نمو ٹی وی اور اس کے ساتھ مودی جی پر فلم بھی بناڈالتے ہیں یہ اور بات ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر پابندی لگادیتا ہے۔ وزیراعظم پلوامہ کا ذکر کرکے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہیں یہ اور بات ہے کہ یوگی جی کی مانند ان کا کچھ نہیں بگڑتا لیکن سب کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ۔ جیا پردا پراعظم خان اگر لب کشائی کریں تو ان کے خلاف مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔
انتخابی مہم میں پرچار منتری قوم پرستی کا اپنا آخری پتاّ پھینک چکے ہیں ۔ اس میں ان کا بظاہر فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ اول تو اس کے سبب حکومت کی ناکامیوں پر پردہ پڑ جاتا ہے نیز حزب اختلاف اگر اس کی حمایت کرے تو اس کا کریڈٹ سرکار کے حصے میں آجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر حزب اختلاف کی جماعتیں سوال اٹھائیں تو ا سے فوج کی توہین قرار دےدیا جاتا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر قوم دشمن اور پاکستان نواز ی کا خطاب دے دیا جاتا ۔ اس لیے اپوزیشن کی یہ کوشش ہے کہ وہ حکومت کے اس مایا جال میں پنےس کے بجائے بیروزگاری، کسان اور بدعنوانی جیسے بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز رکھے۔اس کوشش میں کانگریس کی جانب سے جب یدورپاّ کی ڈائری کے صفحات شائع کرکے بدعنوانی کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو بی جے پی کمل ناتھ کے معاون پر چھاپہ مار کراسے کروڈوں روپیوں کے ساتھ رنگے ہاتھ گرفتار کروادیتی ہے۔
کانگریس والے چوکیدار چور ہے چلاتے چلاتے جب تھک جاتے ہیں تو نوٹ بندی سے متعلق لاکھوں کروڈ کے گھپلے والی ویڈیو دکھا دیتے ہیں مگر ذرائع ابلاغ حسبِ توقع اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ نکسلوادی چھتیس گڑھ جگہ جگہ بارودی سرنگیں بچھاتے ہیں اور ایک بی جے پی رکن اسمبلی کو مار ڈالتے ہیں پھر بھی انتخابی عمل جاری رہتا ہے۔ کشمیری جنگجو آر ایس ایس رہنما کو اس کے محافظ سمیت ہلاک کردیتے ہیں اور ہندو ترشول دھاری بھیڑ آسام میں ایک مسلمان کی پٹائی کرکے اس کی ویڈیو جاری کرتی ہے لیکن کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوتی۔ ایسے میں سپریم کورٹ بھی اپنا کام کررہی ہے ۔ اس کی جانب سے رافیل معاملے میں ایک ایسا فیصلہ سامنے آجاتا ہے جو مودی جی پر سرجیکل اسٹرائیک سے کم نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک تو اس معاملے میں حکومت کے اعتراضات کو مسترد کرکے سماعت شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آگے چل کر اگر فیصلہ مودی جی کے خلاف آجائے تو وہ ان کی انتخابی کامیابی کو نیست و نابود کر کے انہیں جیل بھیج سکتا ہے۔ خیر اس میں شک نہیں کہ یہ سیاسی کھیل اب ایک نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں