suspended-sudanese-president-omar-albasheer-almighty-monthly-mirror

معزول سوڈانی صدر عمر البشیر ماہ وسال کے آئینے میں!

معزول سوڈانی صدر عمر البشیر ماہ وسال کے آئینے میں!

خرطوم ۔12؍ اپریل( الہلال میڈیا)

سوڈان میں فوج نے صدر عمر حسن البشیر کو عوامی احتجاجی تحریک کے بعد معزول کردیا ہے۔وہ 1989ء میں ایک فوجی بغاوت کے بعد اقتدار میں آئے تھے اور گذشتہ تیس سال سے وہ سوڈان کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے ۔

وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سمجھ رہے تھے اور گذشتہ چار ماہ سے دارالحکومت خرطو م ،اس کے جڑواں شہر اُم درمان اور دوسرے شہروں میں سراپا احتجاج بنے عوام کی آوازوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہوئے تھے مگر 11 اپریل کو فوج نے ان کے ساتھ ان کی حکومت اور پارلیمان کو بھی چلتا کیا ہے۔عمر البشیر کے اقتدار کا سورج تو ڈوبنے ہی والا تھا مگر وہ اپنے ساتھ اپنے مصاحبین اور ملکی آئین کو بھی لے ڈوبے ہیں۔ان کی زندگی اور اقتدار کے ماہ وسال کامختصر احوال حسب ذیل ہے:

یکم جنوری 1944ء : عمرالبشیر کی دارالحکومت خرطوم سے 100 کلومیٹر شمال میں واقع گاؤں ہوش بناجا میں ایک دیہی خاندان کے ہاں پیدائش ۔

1973: فوجی جوان کی حیثیت سے آرمی میں بھرتی۔ایک سال بعد 1974ء میں مصری فوج کے ساتھ عرب، اسرائیل جنگ میں شرکت۔

30 جون 1989ء : فوج کے بریگیڈئیر کمانڈر کی حیثیت سے اسلام پسندوں کی حمایت سے اقتدار پر قبضہ اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو چلتا کیا۔

2003ء : سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں مقامی قبائل کی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لیے فوج اور ملیشیاؤں کو تعینات کردیا اور پھر وہاں خانہ جنگی چھڑ گئی۔ اس خانہ جنگی میں اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق تین لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

2009ء : ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات کی پاداش میں صدر عمر البشیر کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ۔2010ء میں عدالت نے ان کے خلاف نسل کشی کے الزام میں وارنٹ جاری کیے تھے۔انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

2010ء : سوڈان میں منعقدہ کثیر جماعتی صدارتی انتخابات میں وہ صدر منتخب ہوئے تھے۔اقتدار پر قابض ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا انتخاب تھا۔حزب اختلاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔وہ 2015ء میں دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تھے۔

2013ء : پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے ۔حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں دسیوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دسمبر 2018ء: سوڈانی حکومت کے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے فیصلے کے خلاف دارالحکومت خرطو م سمیت مختلف شہروں میں لوگوں نے احتجاج شروع کردیا تھا۔پھر یہ احتجاج ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہوگیا اور سوڈانی شہریوں کی تحریکوں ، مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے صدر عمر البشیر اور ان کی حکومت سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیا۔وقت کے ساتھ اس مطالبے میں شدت آتی گئی۔

11اپریل 2019ء: سوڈان میں گذشتہ چار ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں فوج نے عمر البشیر کو صدارت کے منصب سے معزول کردیا اور انھیں گرفتار کرکے گھر پر نظربند کردیا ۔اس طرح ایک اور عرب ملک میں عوامی احتجاجی تحریک کامیاب ٹھہری اور تین عشرے تک مطلق العنان حکمراں رہنے والے عمرالبشیر کو ناخوشگوار طریقے سے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں