bjp-chief-mayawati-join-after-may_23

بی ایس پی سربراہ مایاوتی کیا 23 مئی کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر لیں گی؟

بی ایس پی سربراہ مایاوتی کیا 23 مئی کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر لیں گی؟

نئی دہلی،12؍اپریل (آئی این ایس انڈیا)

لوک سبھا انتخابات میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں مغربی اترپردیش کی 8 اہم سیٹوں پر جمعرات کو پولنگ ہو گئی ہے۔یہ سیٹیں ایسی ہیں جن کا پیغام اتر پردیش سے ہوتے ہوئے بہار تک جاتا ہے۔سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ان سیٹوں پر جم کر پولرائزیشن ہوا تھا اور نتیجہ یہ رہا ہے کہ بی جے پی نے پورے اترپردیش میں اپوزیشن کو صاف کر دیا تھا۔یہی حال کچھ سال 2017 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی رہا ہے۔گزشتہ 2 سال تک اپوزیشن کو یہ بات بالکل نہیں سمجھ میں آ رہی تھی کہ بی جے پی کا سامنا کس طرح کیا جائے۔لیکن پھر ’ریاضی‘ کے ایک فارمولے نے سخت مخالف ایس پی اور بی ایس پی کو ایک ساتھ آنے کے لئے مجبور کر دیا۔دونوں نے اتحاد کرکے گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا کا ضمنی انتخاب جیت لیا۔اس کے بعد کیرانہ میں ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی نے بھی دونوں نے جیت درج کی۔لیکن اس کیرانہ ماڈل سے آگے ان تمام جماعتوں کا اتحاد پھنس گیا اور لوک سبھا انتخابات ایس پی-بی ایس پی نے آپس میں اتحاد کر لیا اور 3 نشستیں آر ایل ڈی کے لئے چھوڑ دیں۔لیکن نہ مایاوتی اور نہ اکھلیش نے کانگریس کو زیادہ اہمیت دی۔ مایاوتی کا رخ کانگریس کو لے کر کچھ زیادہ ہی سخت ہے۔ادھر کانگریس نے بھی پرینکا گاندھی کی قیادت میں اترپردیش میں تمام 80 سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا اعلان کر دیا۔لیکن بات صرف یہیں آکر ختم نہیں ہوئی۔چار بار پردیش کی وزیر اعلی رہیں مایاوتی کو سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے۔ایس پی-بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے مہاگٹھ بندھن کے رہنماؤں کی مشترکہ ریلی صرف سہارنپور میں ہوئی ہے اور اس میں بھی مایاوتی نے پلیٹ فارم سے مسلمانوں سے کانگریس کے خلاف اور مہا گٹھ بندھن کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کر ڈالی۔ جس نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے پیشانی پر پسینہ لا دیا ہے۔سینئر صحافی سوات چترویدی نے دعوی کیا ہے کہ اس بات کی بحث ہے کہ مایاوتی بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑ ہی نہیں رہی ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ مایاوتی کی اس اپیل سے مسلمانوں کا بٹوارہ ہو سکتا ہے جس کا فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے۔وہیں دوسری طرف ہندو ووٹروں کا بی جے پی کے حق میں منقسم ہو سکتا ہے۔وہیں صحافی سوات چترویدی کے مطابق اس بات کی بھی بحث ہے کہ جس طرح آج تک ’بہن جی‘ کرتی رہی ہیں، وہ کسی بھی قومی پارٹی کے ساتھ جا سکتی ہیں، جو 23 مئی کو آنے والے انتخابات کے نتائج پر منحصر ہوگا۔ وہیں جس طرح سے اکھلیش کا کانگریس کے تئیں موقف نرم ہے اس پر بھی مایاوتی نے کہا ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ کانگریس پر حملہ بولیں۔ مایاوتی کانگریس سے کیوں اتنا ناراض ہیں اس کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔پہلی بڑی وجہ ہے کہ پرینکا کی ٹیم اس وقت اتر پردیش میں دلت ووٹروں پر مکمل طور پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔اس پر ابھی مایاوتی کا مکمل راج ہے جبکہ اندرا گاندھی کے وقت یہ کانگریس کا ووٹ بینک ہوا کرتا تھا۔کانگریس کا خیال ہے کہ اس لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں جتنی ہی سیٹیں مل جائیں وہیں بہت ہیں۔پارٹی دلت اور اعلی ذات کو اپنے پالے میں کر ریاست کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔اس میں پرینکا چہرہ بن جائیں تو کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔دوسری طرف پرینکا گاندھی اسی کوشش میں بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد سے بھی مل چکی ہیں۔مایاوتی کو ناگوار گزرا ہے۔مایاوتی نہیں چاہتی ہیں کہ دلتوں میں ان کے مقابلے کوئی لیڈر کھڑا ہو جائے۔تیسری کبھی ان کے سب سے قریب رہے نسیم الدین صدیقی کو کانگریس نے انتخاب لڑا دیا ہے۔مجموعی طور پر جو نتیجے سامنے آر ہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔دوسری طرف کانگریس بھی ان کے مطالبے ماننے کو تیار نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں