sudan-army_ruled-president_omar-bashir-government-parliament-suspended-constitution-military_council-affairs-state-constitution-be_established-elections

سوڈان: فوج نے صدر عمرالبشیرکی حکومت اور پارلیمان ،آئین کومعطل کر دیا دوسال تک فوجی کونسل امورِ مملکت چلائے گی نیا آئین مرتب ہوگا، پھرانتخابات کرائے جائیں گے

سوڈان: فوج نے صدر عمرالبشیرکی حکومت اور پارلیمان ،آئین کومعطل کر دیا
دوسال تک فوجی کونسل امورِ مملکت چلائے گی
نیا آئین مرتب ہوگا، پھرانتخابات کرائے جائیں گے


خرطو م 11اپریل ( الہلال میڈیا )
سوڈان میں مسلح فوج نے صدر عمر حسن البشیر کو عوامی احتجاجی تحریک کے بعد معزول کر دیا ہے اور انھیں گرفتار کرکے گھر پر نظر بند کردیا ہے ۔فوج نے حکومت کے ساتھ پارلیمان کو بھی تحلیل اور آئین کو معطل کر دیا ہے۔

سوڈان کے وزیر دفاع عواض ابن عوف نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا ہے اور کہا ہے کہ ’’ فوج نے رجیم کا تختہ الٹ دیا ہے اور اس کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ معزول صدر عمر حسن البشیر کو ایک محفوظ جگہ حراست میں رکھا جائے گا۔
sudan-army_ruled-president_omar-bashir-government-parliament-suspended-constitution-military_council-affairs-state-constitution-be_established-elections
ابن عوف نے کہا کہ’’ آئین کو معطل کردیا گیا ہے، موجودہ حکومت اور پارلیمان کو تحلیل کردیا گیا ہے۔سوڈان میں اب دو سال کے عبوری دور میں ایک فوجی کونسل امورِ مملکت چلائے گی اور نیا آئین مرتب کیا جائے گا‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں انتخابات عبوری دور کے خاتمے کے بعد ہوں گے۔فوج نے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور جمعرات کی شب 10 بجے سے صبح 4 بجے تک تاحکم ثانی کرفیو کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ابن عوف نے ملک کی فضائی حدود کو 24 گھنٹے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی سرحدی گذرگاہیں بھی تاحکم ثانی بند رہیں گی۔انھوں نے ملک بھر میں جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ بیرون ملک سوڈان کے سفارت خانے کھلے رہیں گے اور وہ معمول کی سرگرمیاں انجام دیتے رہیں گے۔

فوج نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں معزول صدر عمر البشیر کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں گرفتار کیے گئے تمام سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

معزول صدر کے خلاف گذشتہ چار ماہ سے احتجاجی تحریک جاری تھی۔یہ تحریک ملک میں مہنگائی اور روٹی کی قیمت میں اضافے کے خلاف شروع ہوئی تھی اور پھر مظاہرین نے سوڈانی صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔ اس دوران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور جھڑپوں میں ستر سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔سبکدوش سوڈانی حکومت نے چند ہفتے قبل 32 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی لیکن اس کے بعد سے اس نے ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری نہیں کیے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں