#Mosques, #women,

مسجدیں اور خواتین

مسجدیں اور خواتین

شمع فروزاں

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے میں مردوعورت دونوں برابر ہیں؛ کیوں کہ اللہ ہی مردوں کے بھی خالق ہیں اور عورتوں کے بھی: خلق الذکر والأنثیٰ (اللیل:۳) چوں کہ عبدیت میں دونوں برابر ہیں؛ اس لئے عبادت کا حکم بھی دونوں سے تقریباََ یکساں طور پر متعلق کیا گیاہے؛ چنانچہ قرآن مجید میں جہاں مختلف عبادتوںکا اور اوامر و نواہی کا ذکر آیا ہے، وہاں مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کیا گیاہے(احزاب: ۳۵) بندہ اللہ کے سامنے جن طریقوں سے اپنی عبدیت کا اظہار کرتا ہے، ان میں سب سے اعلیٰ طریقہ نماز کا ہے؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اسلام کے پانچ ارکان میں کلمۂ شہادت کے بعد اول درجہ پر رکھا ہے، دوسری عبادتیں زیادہ تر ایک طبقہ پر فرض کی گئی ہیں، دوسرے پر نہیں، جیسے: زکوٰۃ مالداروں پر، روزہ صحت مندوں پر، حج اصحاب ثروت اور سفر کی طاقت رکھنے والوں پر، جہاد مردوں پر؛ لیکن نماز مالداروں اور غریبوں، صحت مندوں اور بیماروں، گھر پر مقیم لوگوں اور مسافروں، مردوں اور عورتوں سبھوں پر فرض کی گئی ہے، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں نماز کو کس درجہ اہمیت دی گئی ہے!
نماز میں تین باتیں اہم ہیں: نماز پڑھنا، جماعت کے ساتھ پڑھنا اور مسجد میں ادا کرنا، ان میں سے پہلے حکم میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں، جیسے مردوں پر نماز فرض ہے، اگر عورتیں ناپاکی کی حالت میں نہیں ہو تو ان پر بھی فرض ہے؛اس لئے قرآن مجید میں بہت سے مواقع پر نماز ادا کرنے کا عمومی حکم دیا گیا ہے، اور اس میں مردوں اور عوتوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے؛ بلکہ عورتوں کے نماز پڑھنے کی صراحت بھی کی گئی ہے؛ چنانچہ سورۂ احزاب میں ارشاد ہے: وأقمن الصلاۃ (احزاب: ۳۳)حدیثوں میں تو بکثرت خواتین کے نماز پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
فرض نمازوں میں جماعت کی بڑی اہمیت ہے، اللہ تعالیٰ نے خود اس کا حکم فرمایا ہے: وارکعوا مع الراکعین (بقرہ: ۴۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ مسجد میں تو نماز پڑھائی ہی ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر گھر میں بھی جماعت سے نماز پڑھائی ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: ۱۳۰۱۳) اسی طرح تراویح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تو جماعت سے ادا فرمائی ہی ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۷۶۹۲)؛ لیکن گھر میں بھی آپ نے تہجد کی نماز جماعت سے پڑھی ہے، جس میں بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی شریک رہا کرتی تھیں (نسائی، حدیث نمبر: ۱۶۰۵) اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ نے گھر میں تنہا نماز تہجد ادا فرمائی، ازواج مطہرات کی نیند اور راحت کا خیال کرتے ہوئے انہیں نہیں اُٹھایا، (بخاری، حدیث نمبر: ۵۱۹)؛ البتہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں بہ مقابلہ تنہا ادا کرنے کے کسی قدر مشقت ہے؛ اسی لئے مردوں پر تو جماعت واجب قرار دی گئی، عورتوں پر واجب نہیں رکھی گئی (عمدۃ الرایۃ علی شرح الوقایۃ:۹؍ ۱۱۲) ؛تاہم اگر کوئی عورت جماعت میں شریک ہونا چاہے تو آپ نے اس سے منع بھی نہیں فرمایا؛ اسی لئے مسجد نبوی میں جو جماعت ہوتی ، اس میں آگے مردوں کی، درمیان میں بچوں کی اور پیچھے خواتین کی صفیں ہوا کرتی تھیں (مسند احمد، حدیث نمبر: ۱۲۸۹۶)
نماز سے متعلق تیسری اہم بات مسجد میں نماز کے ادا کرنے کی ہے، یوں تو روئے ارض پر کہیں بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے؛ مگر مسجد چوں کہ خاص طور پر نماز ہی کی ادائیگی کے لئے بنائی جاتی ہے؛ اس لئے اس کی خاص اہمیت ہے، اورمردوں پر واجب ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو مسجد کی جماعت میں شریک ہوں (بخاری، حدیث نمبر: ۴۳۸) ؛ البتہ یہ واجب کفائی ہے (بدائع الصنائع: ۱؍۱۵۵) یعنی اگر مسجد میں بالکل نماز ادا نہیں ہوئی تو تمام اہل محلہ گنہ گار ہوں گے؛ لیکن کچھ لوگوں نے ادا کر لیا اور کچھ نے مسجد کے بجائے گھر میں جماعت کر لی تو گھر میں ادا کرنے والے بھی گنہ گار نہیں ہوں گے؛ البتہ مسجد میں نماز پڑھنے کا خصوصی ثواب حاصل نہیں ہوگا، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ مسجد اتنے فاصلہ پر نہ ہو کہ وہاں پہنچنا دشوار ہو، یا مسجد جانے میں کوئی خوف اور خطرہ دامن گیر نہ ہو، یا بیمار نہ ہو، یاکسی اور وجہ سے معذور نہ ہو، اگر مسجد دور ہونے کی وجہ سے یا اس لئے کہ بوڑھے اور معذور لوگ وہاں تک نہیں جا سکتے، کوئی مصلیٰ بنا لیا جائے اور وہاں لوگ نماز ادا کر لیں، جیسا کہ آج کل بعض تعلیمی اداروں ، مارکٹوں، آفسوں اور ائیر پورٹ وغیرہ میں ہوتا ہے، تو اسے تارک واجب نہیں سمجھا جائے گا اور امید ہے کہ پورا اجر حاصل ہوگا؛ کیوں کہ مجبوری کی حالت کے احکام قدرت واختیار کی حالت سے الگ ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عورتوں کے مسجد جا کر نماز پڑھنے یا ایسے جماعت خانوں میں نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات پر تو سبھوں کا اتفاق ہے کہ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام میں عورت کو مجسم ناپاکی نہیں سمجھا گیا ہے، اور اس کے لئے مسجد میں جانا ممنوع نہیںہے، ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی عورت مسجد میں داخل ہو تو وہ گنہ گار ہو جائے، یا مسجد کی انتظامیہ اسے فوراََ نکال باہر کرے؛اس لئے اگر کوئی عورت اتفاقاََ مسجد میں داخل ہواور انفرادی طور پر نماز ادا کر لے تو نماز ادا ہو جائے گی، کسی صاحب علم نے یہ نہیں کہا کہ اس صورت میں اس کی نماز نہیں ہوگی، اور نہ کسی عالم کا یہ فتویٰ ہے کہ مسجد کے منتظمین اس مسلمان خاتون کو نکال باہر کر یں؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ پردہ کے سلسلہ میں جو شرعی احکام مقرر ہیں، وہ ان کا لحاظ رکھے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا عورتوں کو مردوں کی طرح معمولاََ مسجد میں نماز ادا کرنا چاہئے، اور جماعت میں شریک ہونا چاہئے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے؛ چوں کہ عبادت میں مردوعورت دونوں برابر ہیں، اس پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی ہدایات بھی دی ہیں کہ عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع نہیں کیا جائے، حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجد میں آنے سے منع نہ کرو؛ لیکن ان کو سیدھے سادھے اور کشش سے خالی لباس کے ساتھ مسجد جانا چاہئے: ولکن لیخرجن وھن تفلات (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۵۶۵) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے صاحبزادے بلال کو یہ حدیث سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورتوں کو مسجد جانے سے روکا جائے تو صاحبزادے نے اخلاقی انحطاط کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ہم تو عورتوں کو اس سے منع کریں گے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات اس درجہ گراں گزری کہ انہوں نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی ایسے سخت الفاظ کہتے ہوئے نہیں سنا گیا: ما سمعتہ شبہ مثلہ قط(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۴۲) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجۂ محترمہ فجر اور عشاء کی نماز مسجد میں جماعت سے ادا کرتی تھیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو پسند نہیں کرتے تھے؛ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی وجہ سے کہ عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع نہیں کیا جائے، زبان سے کچھ نہیں کہتے تھے (بخاری، حدیث نمبر: ۹۰۰)
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خواتین مسجد میں نماز ادا کیا کرتی تھیں، ان کی صف پیچھے ہوتی تھی، اور ان کو ہدایت تھی کہ وہ سلام کے فوراََ بعد مسجد سے نکل جائیں اور مردوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سلام کے بعد تھوڑا ٹھہر کر کھڑے ہوں؛ تاکہ عورتیں پہلے نکل جائیں، (بخاری، حدیث نمبر:۸۶۶-۸۷۰) اسی طرح عورتوں کے عید گاہ جانے کا بھی ذکر آیا ہے، حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف عمر کی خواتین کو عید گاہ جانے کو فرماتے تھے؛ البتہ جو عورتیں حیض کی حالت میں ہوتیں، وہ نماز میں شریک نہیں ہوتی تھیں، نماز گاہ سے الگ رہتیں اور دعاء میں شامل ہو جاتیں؛ البتہ اس بات کو ضروری قرار دیا گیا تھا کہ ان کے چہروں پر گھونگھٹ موجود ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگراس کے پاس کوئی کپڑا موجود نہ ہو جو چہرہ وغیرہ کو چھپا لے تو اسے چاہئے کہ کسی سے عاریت پر حاصل کر لے: فلتعرھا أختھا من جلابیبھا (ترمذی، حدیث نمبر: ۵۳۹) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول منقول ہے کہ آپ اپنی صاحبزادیوں اور ازواج مطہرات کو نماز عید کے لئے بھیجا کرتے تھے: یخرج بناتہ ونساء ہ إلی العیدین (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۵۷۸۴) لیکن چوں کہ خواتین کا مسجدوں اور اجتماعی جگہوں پر جانا بعض دفعہ فتنہ کا باعث بن جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے نہ صرف افراد بدنام ہوتے ہیں؛ بلکہ مقدس مقامات کی حرمت متأثر ہوتی ہے؛ اس لئے بنیادی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے گھر میں ہی نماز پڑھنے کو پسند فرمایا ہے، اس سلسلہ میں حضرت ام حمیدؓ سے کئی روایتیں منقول ہیں، وہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہو؛ لیکن تمہارا اپنے کمرہ میں (بیت) نماز پڑھنا بہتر ہے کمرہ کے باہر نماز پڑھنے سے، اور کمرہ کے برآمدہ (حجرہ) میں نماز پڑھنا بہتر ہے گھر کے صحن (دار)میں نماز پڑھنے سے،اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا بہتر ہے قوم کی مسجد ( محلہ کی مسجد میں) نماز پڑھنے سے، اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے میری مسجد میں نماز پڑھنے سے، صحابہؓ کا حال یہ تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے اپنی ہر خواہش کو قربان کر دیا کرتے تھے؛ چنانچہ انہوں نے اپنے کمرہ کے ایک تاریک کونہ میں اپنے لئے نماز کی ایک جگہ مقرر کر لی اور آخر دم تک وہیں نماز پڑھتی رہیں، (صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر: ۱۶۸۹)
اسی سے اہل علم نے یہ بات اخذ کی ہے کہ حضور صلی اللہ علہ وسلم کی یہ ہدایت کہ عورتوںکو مسجد میں جانے سے منع نہیں کیا جائے، جواز یا زیادہ سے سے زیادہ استحباب کے طورپر ہے، ایسا کرنا واجب نہیں ہے: وفیہ دلالۃ علی أن الأمر بأن لا یمنعن أمر ندب واستحباب ، لا أمر فرض وایجاب وھو قول العامۃ من أھل العلم(بیہقی، حدیث نمبر: ۵۳۷۱) ؛اسی لئے متعدد صحابہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے گھر کی خواتین کو یا عمومی طور پر تمام خواتین کو مسجد اورعیدگاہ میں جانے سے منع فرمادیا تھا، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے ایک خاتون کو جو جمعہ کی نماز کے بارے میں دریافت کر رہی تھیں، فرمایا :تمہارا اپنے گھر کے کونہ میں نماز پڑھ لینا بہتر ہے برآمدہ میں نماز پڑھنے سے: صلاتک في مخدعک أفضل من صلاتک في بیتک ( مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۷۶۱۵) حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ جمعہ کے دن خواتین کو مسجد سے نکال دیا کرتے تھے: یخرجھن من المسجد یوم الجمعۃ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۷۶۱۷) اس طرح کے بہت سے اقوال صحابہ اور محدثین سے منقول ہیں، اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جہاں مردوزن کا اختلاط ہوتا ہے، وہان فتنے جنم لیتے ہیں؛ اسی لئے بعض حضرات نے عورتوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دی؛ لیکن بعض تحدیدات کے ساتھ ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے دو صورتوں میں عورت کے مسجد جانے کو قابل قبول قرار دیا، ایک یہ کہ مسجد حرام میں نماز پڑھے، دوسرے یہ کہ عمر دراز عورت ہو، اور وہ موزہ پہن کر نماز کے لئے جائے……….. إلا أن تصلی عند المسجد الحرام، إلا عجوزا في منقلیھا یعنی خفیھا (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۷۶۱۴) اسی طرح بعض حضرات نے فجر اور عشاء کی نماز میں عورتوں کو مسجد آنے کی اجازت دی ہے (بخاری، حدیث نمبر: ۸۶۵) کیوں کہ یہ وقت تاریکی کا ہوتا ہے اور انسان پوری طرح نظر نہیں آتا، حضرت ابو مسعودؓ کی بیوی کا بھی معمول نقل کیا گیا ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز عشاء ادا کیا کرتی تھیں: کانت امرأۃ أبی مسعوو تصلی العشاء الآخرۃ في المسجد الجماعۃ (مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۷۶۱۱)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر شریعت کا رمز شناس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج شناس کون ہو سکتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے زمانہ میں فرمایا کہ عورتوں کی آج جو کیفیت ہوگئی ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا ہوتا تو بنی اسرائیل کی خواتین کی طرح عورتوں کو مسجد آنے سے منع فرما دیا ہوتا: لو أدرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النساء منعنھن کما منعت نساء بنی اسرائیل (بخاری، حدیث نمبر: ۸۶۹)
پس رسول اللہ کے ارشادات، صحابہ کے آثار، دین کے مجموعی مزاج ومذاق اور فقہاء کی تصریحات کو سامنے رکھتے ہوئے خواتین کے مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے کے سلسلہ میں جو نکات سامنے آتے ہیں، وہ یہ ہیں:
(۱) اسلام میں عورتوں کو پورا احترام دیا گیا ہے، اور اس احترام کا ایک پہلو یہ ہے کہ خواتین کے مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت نہیںہے، جیسا کہ برادران وطن کے یہاں بعض مندروں میں خواتین نہیں جا سکتیں، حرمین شریفین کو مسجدوں میں بھی ایک خاص حیثیت اور تقدس حاصل ہے، اس کے باوجود مسلمان عورتوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے، اور ہمیشہ سے اس کا تعامل رہا ہے۔
(۲) اگر کوئی عورت مسجد میں انفرادی طور پر نماز ادا کرلے جیسے راستہ سے گزرتے ہوئے مسجد ملی اور وہاں ایک کونہ میں نماز پڑھ لی، پردہ کا پورا خیال رکھا، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، فقہاء نے اپنے زمانہ کے حالات کے لحاظ سے عورتوں کو مسجد میں کراہت کے ساتھ اعتکاف تک کی اجازت دی تھی: روی الحسن عن أبي حنیفۃ جوازہ وکراھتہ(الاعتکاف) في المسجد (عمدۃ القاری: ۱۱؍۱۴۲)
(۳) عورتوں کے لئے مسجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلہ گھر میں نماز ادا کرنا افضل ہے، جیسا کہ حضرت ام حمیدؓ کی روایت سے واضح ہے؛ اس لئے یہ درست نہیں ہے کہ خواتین کو ترغیب دی جائے کہ وہ مسجد میں جا کر جمعہ وعیدین کی نماز ادا کیا کریں؛ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے گھر کے ایک کونہ میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے۔
(۴) رہ گئی یہ بات کہ عورتوں کو مسجد میں جماعت کے وقت جماعت سے اور جب جماعت کا وقت نہ ہو تو انفرادی طور پر نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اور مسجد میں خواتین کی نماز کے لئے انتظام رکھنا چاہئے یا نہیں؟ تو اس سلسلہ میں ہمارے یہاں خاصی افراط وتفریط پائی جاتی ہے، ایک گروہ اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ عورتوں کو مردوں ہی کی طرح مسجد جانے کی ترغیب دینی چاہئے اور ہر مسجد میں ان کے لئے نماز کا انتظام ہونا چاہئے، یہ منشاء دین سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دیا کہ عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا بہتر ہے تو پھر اس پر اصرار کرنے کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جس اندیشہ کا اظہار فرمایا ہے، وہ ان کے زمانہ کے مقابلہ اب بدرجہا بڑھا ہوا ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،بعض لوگ کہتے ہیں کہ آخر آج کے دور میں خواتین، شاپنگ اور دوسرے کاموں کے لئے تو نکلا ہی کرتی ہیں، اگر نماز کے لئے نکلیں تو اس میں کیا بری بات ہے؟ لیکن ضروری ہے کہ ہم دونوں کے فرق کو سامنے رکھیں، اولاََ تو ویسے بھی عورتوں کا شاپنگ کے لئے نکلنا کوئی بہتر بات نہیں ہے؛ لیکن غور کیجئے کہ اگر بازار میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے تو اس سے بازار بدنام ہوگا، اور اسی طرح کا واقعہ اگر مسجد میں پیش آئے تو اس سے مسجد کی حرمت پامال ہوگی، اور مسجد کی طرف اس کی نسبت ہوگی، جیسا کہ آج کل برادران وطن کی عبادت گاہوں میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور وہ معاشرہ میں بدنام ہیں؛ اس لئے موجودہ زمانہ کے احوال اس کے لئے بالکل موزوں نہیں ہیں کہ خواتین کو مسجد میں نماز پنج گانہ ادا کرنے کی دعوت دی جائے، اور شریعت میں جہاں دو طرح کے احکام ہوتے ہیں، ان کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ دو مختلف حالات کے لحاظ سے دونوں پر عمل کیا جائے، قرون اولیٰ کے حالات اتنے برے نہیں تھے تو عورتیں مسجدوں میں جماعت سے نماز ادا کیا کرتی تھیں، اور موجودہ دور میں اخلاقی مفاسد بہت بڑھ گئے ہیں؛ اس لئے ہمیں اُس طریقہ پر عمل کرنا چاہئے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔۔
بعض تجدد پسند مرد اور خواتین اس بات کو عورتوں کی تذلیل قرار دیتے ہیں کہ اُن کو جماعت میں شریک ہونے سے روکا جائے، یہ محض ناسمجھی اور کم فہمی کی بات ہے، یہ تذلیل نہیں ہے، رعایت ہے، یہ ان کی حق تلفی نہیں ہے؛ بلکہ ان کے لئے چھوٹ ہے، عورتوں کا سب سے اہم کردار ماں ہونے کا ہے، جب وہ ماں بنتی ہیں تو جنت ان کے قدموں کے نیچے آجاتی ہے؛ کیوں کہ وہ بچوں کی پرورش کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھر کی منتظم بھی ہوتی ہیں اور تمام امور خانہ داری ان ہی سے متعلق ہوتے ہیں، جس ماں نے رات میں جاگ کر بچوں کو سُکھ پہنچایا ہو، جو اپنے سینہ میں محفوظ پاک غذا کے سرچشمہ سے اپنے نونہالوں کو سیراب کرنے کے لئے بار بار اُٹھی ہو، اور فجر کے وقت نیند اس کی آنکھوں میں سمائی ہوئی ہو، اگر اسے اس وقت فجر کی نماز کے لئے مسجد جانا لازم ہوتا تو سوچئے کہ اسے کتنی دشواری ہوتی، جس عورت کو اللہ نے نازک اندام اور سبک خرام بنایا ہے، اگر دوپہر کی آگ اگلتی ہوئی دھوپ میں مسجد جانے پر مجبور کیا جاتا تو یہ بات اس کے لئے کس درجہ پریشانی کا باعث ہوتی؟ اس لئے اسلام نے جیسے زندگی کے دوسرے مسائل میں خواتین کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا ہے، کہ حج میں کوئی محرم مددگار یا شوہر ساتھ نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں، اس پر جہاد فرض نہیں، اور کسب معاش کی ذمہ داری نہیں، وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کے ساتھ رعایت کا پہلو اختیار کیا گیا ہے۔
دوسری طرف بعض حضرات نے عملی طور پر واقعی ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ گویا عورت کا مسجد میں قدم رکھنا یا کم سے کم وہاں نماز پڑھنا شجر ممنوعہ ہے، اور یہ دین کا حکم قطعی ہے ، یہ بھی درست نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کی اجازت دی اور پھر اسے منسوخ فرما دیا، خود نماز کے سلسلہ میں بعض طریقے منسوخ کئے گئے، اسی طرح آپ نے مسجد میںعورتوں کے نماز پڑھنے کو بھی مکمل طور پر منع فرما دیا ہوتا اور آپ جو بات فرماتے تمام مسلمان مردو عورت سے بطیب خاطر اسے قبول کرلیتے؛ لیکن یہ ضروری ہے کہ موجودہ حالات کے اعتبار سے اس اجازت کو محدود کیا جائے، جیسا کہ بعض صحابہ نے اس اجازت کو بعض نمازوں تک اور بعض نے عمر دراز عورتوں تک محدود کر دیا ہے۔
موجودہ دور میں بہت سی جگہ مسجدوں میں خواتین کے لئے نماز کا انتظام ضروری محسوس ہوتا ہے، جیسے بازاروں کی مسجدیں کہ خواتین وہاں آئیں اور نماز کا وقت ہو جائے تووہ نماز سے محروم نہ رہ جائیں، ریلوے اسٹیشن ، بس اسٹینڈ ، ائیرپورٹ، کورٹ، ہاسپیٹل کے قریب کی مسجدیں؛کیوں کہ یہ ایسے مقامات ہیں، جہاں ضرورتاََ خواتین کو آنا پڑتا ہے، اگر ان کے لئے نماز کا انتظام ہو تونماز قضاء نہیں ہوتی، اسی طرح ہائی وے پر جو مسجدیں ہوتیں ہیں،ان میں بھی اس انتظام کی ضرورت ہے،رمضان المبارک میں عورتوں کی بڑی تعداد نماز تراویح کا اہتمام نہیں کر پاتی، حافظ قرآن کے پیچھے قرآن سننے کا جذبہ لوگوںمیں تراویح کے اہتمام کا محرک بنتا ہے، عام طور پرمحلہ میں کئی مسجدیں ہوتی ہیں، اگر ایک مسجد سے متصل خواتین کے لئے ہال بنا دیا جائے؛ تاکہ اڑوس پڑوس کی خواتین یہاں نماز پڑھ لیں تو اس میں بھی کوئی حرج نظر نہیں آتا، اسی طرح تعلیمی اداروں میں مسلمان لڑکیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے، اگر ان اداروںکے قریب خواتین کے لئے نماز کا مصلیٰ بنا دیا جائے؛ تاکہ وہ ظہر وعصر کی نمازیں یہاں ادا کر لیں ، اس طرح وہ نمازیں پڑھیں گی اوران کو اس کی عادت پڑے گی۔
پھر موجودہ دور میں عموماََ مسجدوں کے ساتھ طبعی حاجات کے لئے بھی انتظام ہوتا ہے، یوں تو کسی کا بھی ادھر اُدھر استنجاء کے لئے بیٹھ جانا بہتر بات نہیں؛ لیکن خاص کر خواتین کے لئے یہ زیادہ دشواری کا باعث ہے؛ اس لئے اگر بازار اورہائی وے وغیرہ کی مسجدوں میں خواتین کے حصہ میں باتھ روم کا نظم بھی رکھا جائے تو یہ ان کے لئے بے حد سہولت کا باعث ہوگا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں دین کی جو کچھ باتیں کہی جاتی ہیں، ان سے زیادہ تر مرد ہی استفادہ کرتے ہیں، جمعہ کے بیانات ہوں، دعوتی اجتماعات ہوں، سیرت کے جلسے ہوں، مدارس کے پروگرام ہوں، اصلاح معاشرہ کی کانفرنسیں ہوں، ان میں بے چاری خواتین کو شاذونادر ہی استفادہ کا موقع ملتا ہے؛ حالاں کہ عورت خاندان کی بنیاد ہوتی ہے اور اسی کی گود بچوں کی پہلی درس گاہ بنتی ہے، اس صورت حال میں کیسے خواتین سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ایک بہتر معاشرہ کی تعمیر کر سکیں گی؛ اس لئے ضرورت ہے کہ شہر کی بعض مسجدوں سے قریب خواتین کے لئے اجتماع ہال تعمیر کیا جائے اور اس کو مسجد کے مائک سے مربوط کر دیا جائے؛ تاکہ جمعہ سے پہلے جو بیان ہو، اسے خواتین بھی سن سکیں، اور اس سے بھی بہتر ہے کہ مسجد سے گھروں کو ایسا کیبل کنکشن دیا جائے کہ خواتین اپنے گھروں میں بیانات کو سن سکیں، میں نے خود برطانیہ میں دیکھا ہے کہ وہاں کثرت سے اس کا رواج ہے ، اس قسم کا نظام گجرات کے بعض قصبات وشہروں میں بھی پایا جاتاہے، یہاں تک کہ خواتین کچن میں ریڈیو ٹرانسمیٹرلگائے رہتی ہیں اور کام کرتے ہوئے بیان سنتی رہتی ہیں، اِس وقت خواتین کی تربیت دونوں پہلووں سے ضروری ہے، اس پہلو سے کہ وہ معاشرہ کی اصلاح کریں اور ان کے ذریعہ ایک اچھے سماج کی تشکیل ہو، اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو بنیاد بنا کر اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں، خواتین اس کی حقیقت سے واقف ہوں اور وہ دوسری بہنوں کو اسلام کے بارے میں مطمئن کر سکیں، اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اصلاحی پروگراموں اور تذکیری خطابات میں خواتین کی شرکت کا نظم کیا جائے۔
حاصل یہ ہے کہ نہ یہ درست ہے کہ خواتین کو مسجد جانے کی ترغیب دی جائے اور ہرمسجد میں ان کے لئے نماز کا انتظام ہواور نہ یہ درست ہے کہ جہاںمسجدوں میں خواتین کے لئے نماز کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے، جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا، وہاں بھی اس ضرورت کو نظر انداز کر دیا جائے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مسجدیں اور خواتین” ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو اللہ جزاء خیر عطا فرمائے۔ آپ نے تقاضائےوقت کے مد نظر امت کی صحیح رہ نمائی فرمائی ہے۔ تحریر، مدلل اور مؤثر ہے۔ مسئلہ کی تقریباً تمام جہات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں