#India, #Sone_ki_chidiya, #golden-bird, #Whole_world,

کیا یہ وہی چمنستان ہندستان ہے؟ جسکا ڈنکا پورے عالم میں تھا

کیا یہ وہی چمنستان ہندستان ہے؟
جسکا ڈنکا پورے عالم میں تھا

ازقلم : نقاش نائطی
+966504969486

سونےکی چڑیاچمنستان ہندستان، جس پر براہ راست حکومت کرنے، زمانہ قدیم سے اس ملک پر فوج کشی ہوتی رہی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے زوال بعد تقریبا آدھی دنیا پر حکومت کرنے والے، برٹش سامراج نے، تجارت کے بہانے ہند پر قبضہ جمانے کی جو سازش رچی تھی انہی انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے چڈی دھارکوں نے، اپنے برہمن پونجی پتیوں کے مادھیم سے، تجارت ہی کے راستے سے، اس مواصلاتی دنیا میں اپنوں سے رابطہ میں سہولیات مہیا کرنے کے بہانے ، اس دیش کے پرائم منسٹر ہی کو اپنے جیو سم کا برانڈ ایمبیسیڈر بناکر، سو کروڑ دیش واسیوں کو سستی سہولیات بہم پہنچانے کے بہانے،دیش کی سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کو دیوالیہ ہونے کی کگار پر پہنچاتے ہوئے،سونے کی چڑیا ہندستان کی معیشت کو پوری طرح اپنے قبضہ میں کرتے ہوئے، سو کروڑ دیش واسیوں کو غریب اور قلاش رکھتے ہوئے، خود عالم کے امیر ترین پونجی پتی بننے کی راہ پر گامزن ہیں اس دیش کے چند برہمن پونجی پتی۔ اسی لئے تو بعد آزادی ھند غریب اور قلاش ملک ہندستان نے پچاس سالہ کانگریس راج میں اپنے دیش واسیوں کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کر، مختلف خیلجی ممالک اور یورپی و امریکی معاشی منڈیوں میں انہیں اتارتے ہوئے، پیٹرو ڈالر کی بہتات ہند لاتے ہوئے، گذشتہ تین چار دہوں میں چمنستان ہندستان کو معشیتی و صنعتی ترقی کی معراج پر گامزن کرتے ہوئے، ہند کو امامت عالم کا جس طرح دعویدار بنایا ہے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔وائیبرنٹ گجرات کا فرضی ہیولہ بتا کر سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اچھے دن آنے والے ہیں جیسے دل لبھاونے وعدوں کے سہارے دہلی کی سپتھا تک پہنچی مودی جی کی سنگھی سرکار نے اپنی زمام حکومت کے ان پانچ سالوں میں تعلیمی صنعتی معشیتی ترقی میں بری طرح ناکام، ہزاروں سالہ گنگا جمنی مختلف المذہبی ہم آہنگی، ہندو مسلم سکھ عیسائی مابین، اخوت بھائی چارگی کو،اپنے یوا بریگیڈ کے ذریعہ سے گورکھشہ کے بہانے، سو کے قریب موب لنچنگ اموات کا سر عام دہشت گردانہ ناچ نچواکر، ہند کے سیکیولر امیج کو داغدار کرتے ہوئے، مختلف المذہبی دیش واسیوں کو دستور ہند میں دئیے سیکیولر آثاث ہی کو ختم کرنے کی جس طرح ان سنگھئوں نے کوشش کی ہے، اگلے ماہ سے شروع ہونے والے عام انتخاب میں انہیں اقتدار سے باہر کا راستہ بتاتے ہوئے ان سنگھئوں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے مختلف الزاویاتی طویل و عریض ہندستان میں، ملک کو دشمنوں کی ترچھی نظر سے حفاظت کرنے والی افواج ہو یا اتنے بڑے ملک ہندستان میں دیش واسیوں کو انصاف دلوانے والی دیش کی عدلیہ کے جج صاحبان ہوں، یا اس ملک کی سرکاری تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی ہو یا اس دیش کی معیشت قابو رکھنے والا ریزرو بینک ہویا اس کے کرمچاری، یا ملک کے یواوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والا ٹیچر طبقہ ہو، نہ صرف ہندستانی سو کروڑ بلکہ عالم کے کئی سو کروڑ لوگوں کی تفریح طبع کا سامان مہیا کرنے والی ہندستانی فلمی دنیا کے کلاکار ہوں ،یا سوا سو کروڑ دیش واسیوں سمیت ان گنت عالم کے واسیوں کو رزق بہم پہنچانے والے ہزاروں لاکھوں بھارتی کسان ہوں، یا اپنی محنت سے ہندستانی معشیتی منڈی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے چھوٹے، درمیانے درجے کے یا بڑے تاجر ہوں یا صنعت کار، سرکاری ملازم ہوں یا پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے والے کروڑوں ہند واسی، کسی بھی طبقہ سے اس کا تعلق کیوں نہ ہو، کیا ان اندھے مودی بھگتوں کے علاوہ دیش کاکوئی بھی عام بھارتی ان سنگھی حکمرانوں کی پالیسیوں سے مطمئن و خوش یے؟اپنے اصولوں کے لئے شہرت رکھنے والے کروڑوں کیڈر بیس آر ایس ایس کاریہ کرتاوں کے رول ماڈل سنگھی مودی مہاراج،جہاں اپنے 56″ سینے پر فخر کرتے پائے جاتے ہیں وہیں اتنے ڈرپوک اور بزدل اکلوتے پرائم منسٹر ھند ہیں جنہوں نے آپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اس میڈیا نرغے میں جی رہی دنیا میں، ایک مرتبہ بھی میڈیا کرمیوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں جٹائی ہے۔ایک بھی مشترکہ پریس کانفرنس کاسامنا کرنے کی ہمت دکھا نہیں پائے ہیں۔ آخر کس منھ سے پریس کانفرنس میں میڈیا کرمیوں کے سوالات کا جواب دے پاتے؟اگر اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں ملکی ترقی خوشحالی کے لئے کچھ ٹھوس کام کئے ہوئے تو میڈیا کرمیوں کے سوالات کے جوابات دے پاتے۔ دیش کی ترقی خوشحالی کے لئے کچھ اقدام کیا اٹھاتے؟ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں دلتوں اور مسلم اقلیت میں ڈر اور خوف بٹھانے کے لئے آپنے سنگھی یواوں کو دہشت گردانہ کاروائی کی کھلی چھوٹ دےکر، دیش کے امن و سکون ودیش کے سیکیولر اثاث کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی ہی کے لئے برسوں درکار ہونگے۔ایسے میں نہیں لگتا دیش کا کوئی بھی عاقل بالغ تعلیم یافتہ ھند واسی دیش کو معشیتی پٹری سے اتار کر اپنے چند دوست برہمن پونجی پتیوں کو عالم مال دار تر بناتے ہوئے، دیش کی اکثریتی آبادی کو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اپنے ناعاقبت اندیشانہ آمرانہ فیصلوں سے پریشان حال ہندستانی جنتا 2019 عام انتخاب میں انہیں باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے، ہندستانی سیاست کی نیہ ایک مرتبہ پھر کانگریس کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے ہندستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریگی۔ وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں