malegaon-2008_bomb_blast_case-testimony-ten-injured-came-into-force-including-six-women-witnesses-continue

مالیگائوں۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملہ دودن دس زخمیوں کی گواہی عمل میں آئی جس میںچھ خواتین بھی شامل گواہی کے لیئے حاضر نہیں ہونے والے شاہد اقبال کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری

مالیگائوں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملہ
دو دن دس زخمیوں کی گواہی عمل میں آئی جس میںچھ خواتین بھی شامل
گواہی کے لیئے حاضر نہیں ہونے والے شاہد اقبال کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری

ممبئی ۹؍ اپریل )پریس نوٹ)

مالیگائوں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق روز بہ روز سماعت جاری ہے ۔ گذشتہ دودنوں میں دس زخمی سرکاری گواہوں کی گواہی خصوصی این آئی اے عدالت میں عمل میںا ٓئی جس میں چھ خواتین بھی شامل ہیں ۔
آج عدالت میں طوبی آفرین عزیز الرحمن، اریبہ صدیقہ محفوظ الرحمن، طیبہ سہیل انور انصاری، زبید سردارخان اور نفیسہ بانو نور محمد نے گواہی دی جبکہ گذشتہ کل امتیاز احمد محمد عباس، محمد زبیر محمد فاروق، محمد صادق محمد یونس، نوید احمد جمیل احمد اور شاہین عثمان غنی نے اپنے بیانات قلمبد کرائے تھے۔
آج خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونوڈ پڈالکر کو گواہی دیتے ہوئے نفیسہ بانو نے بتایا کہ ۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ کو وہ اس کے دو چھوٹے بچے جن کی عمر ۳ ؍ اور ۵؍ سال کے ساتھ عید کی خریداری کے لیئے جارہے تھے اور جس وقت وہ بھکو چوک پہنچے زبردست بم دھماکہ ہوا جس کی وجہ سے اس کے دونوں بچوں کو شدید چوٹ آئی تھی ۔ نفیسہ بانونے آج عدالت میں اس کے دونوں کمسن بچوں کی جانب سے گواہی دی ۔
اسی طرح خصوصی این آئی اے وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے طوبی آفرین اور اریبہ صدیقہ نے خصوصی جج کو بتایا کہ وہ ۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ کی شب تقریباً ساڑھے نو بجے انجمن چوک سے چوڑیاں خریدنے جارہے تھے اور جیسے ہی وہ بھکو چوک پہنچے اچانک بم دھماکہ ہوا جس کی وجہ سے آس پاس اندھیرا چھا گیا اور انہیں چوٹ لگنے کا احساس انہیں تھوڑی دیر بعد ہوا ۔ چوٹ لگنے کے بعد وہ فوراً گھر کی طرف دوڑے اور گھر پہنچنے کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ نے اسپتال میں داخل کرایا۔
بم دھماکہ میں زخمی ہونے والے سرکاری گواہوں سے بھگوا ملزمین کے وکلاء نے جرح کی اور ان سے متعدد سوالات پوچھنے کے بعد ان پر الزام عائد کیا کہ و ہ بم دھماکوں کے وقت بھکو چوک میں موجود نہیں تھے اور آج عدالت میں این آئی اے کے دبائو میں جھوٹی گواہی دے رہے ہیں ۔
اسی درمیان عدالت میں گواہی کے لیئے حاضر نہیں ہونے والے شاہد اقبال فاروق علی کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ۔
دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ان کے معاونین ایڈوکیٹ عادل شیخ ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے و دیگر موجود تھے۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃعلماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ان کی کوشش ہیکہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ زخمی گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوسکے لیکن انہیں گواہوں کو ممبئی گواہی دینے کے لیئے راضی کرنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے حالانکہ مقامی طور پر مولانا عبدالقیوم قاسمی، ڈاکٹر اخلاق اور ان کے رفقاء گواہوں سے رابطہ قائم کرکے انہیں گواہی کے لیئے راضی کررہے ہیں۔
گذشتہ کئی سماعتوں اور عدالت کے حکم کے باوجود گواہی کے لیئے عددالت میںحاضر نہیں ہونے والے شاہد اقبال کے خلاف آج بالآخیر خصوصی این آئی اے عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر گواہان گواہی کے لیئے حاضرنہیں ہونگے تو عدالت وارنٹ جاری کریگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں