good_day-everyone-welfare-modi-2014_slogan-death

’’اچھے دن…‘،’…سب کا وِکاس‘‘ مودی کے 2014ء کے نعروں کی موت

’’اچھے دن…‘،’…سب کا وِکاس‘‘
مودی کے 2014ء کے نعروں کی موت

از قلم:عبدالعزیز

گزشتہ روز نریندر مودی کی ٹیم نے اپنے انتخابی منشور کا اجراء کیا۔ سب سے پہلے بی جے پی صدر امیت شاہ نے تقریر کی۔ انھوں نے منشور سے زیادہ نریندر مودی کی عظمت اور شان و شوکت بیان کی۔ ان کے بعد راج ناتھ سنگھ نے ان کے مقابلے میں تفصیل سے بات رکھنے کی کوشش کی مگر بار بار مودی جی کی قیادت کے گن گاتے رہے۔ ارون جیٹلی نے انگریزی میں تقریر کی اور اپوزیشن پر حملہ کیا کہ یہ منشور ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کی طرف سے نہیں پیش کیا جارہا ہے۔ ارون جیٹلی بی جے پی کے اندر زیادہ سمجھ دار تھے مگر ان کی بیماری ان کی بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی جارہی ہے۔ آخر میں سشما سوراج کی تقریر ہوئی انھوں نے مودی جی کو عالمی لیڈر بتانے میں سارا زور صرف کیا۔ اسلامی کانفرنس کی بات آدھی بیان کی۔ اسلامی کانفرنس نے پاکستان کی بات نہیں تسلیم کی کہ ہندستان کا نمائندہ نہ بلایا جائے لیکن کانفرنس میں ہندستان کے خلاف ایک قرار دار پاس ہوئی جس میں کشمیریوں پر ظلم و تشدد کی بات کہی گئی اور ان کی حق تلفی کا تذکرہ کیا گیا۔ اس لحاظ سے ہندستان کی ڈپلومیسی ناکام ثابت ہوئی۔ اس کا تذکرہ محترمہ نے کرنا گوارا نہیں کیا۔ لیکن شیخوں اور بادشاہوں کی طرف سے مودی جی کو بڑے انعامات دیئے گئے ان کا ذکر بڑے فخر کے ساتھ کیا۔ ہندستانی مسلمانوں پر جو موجودہ حکومت ظلم و ستم ڈھا رہی ہے جس کا ایک بے اثر اور کمزور حصہ محترمہ بھی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں پھر بھی پر امید ہیں۔ شاید راجیہ سبھا کی ممبر بننا چاہتی ہوں گی۔ سشما سوراج ایڈوانی جی کے گروپ کی تھیں مگر وہ مودی گروپ کا حصہ بن گئی ہیں۔
مودی جی کا منشور کانگریس کے منشور کے سامنے پھیکا پھیکا سا نظر آیا۔ پرانے وعدوں اور نعروں کا ذکر بالکل نہیں تھا۔ ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ کا نعرہ غائب ہے۔ 2014ء کے منشور کی کتاب کے سرورق پر نعرہ درج تھا ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ ۔ یہ نعرہ اب غائب ہے۔ جب وعدہ پورا ہی نہیں ہوا تو اس کا ذکر ہی کیسے ہوسکتا ہے؟ بی جے پی کے 2014ء کے انتخابی منشور میں سرورق پر نریندر مودی کے علاوہ اٹل بہاری واجپئی، ایل کے ایڈوانی، راج ناتھ سنگھ، مرلی منوہر جوشی کی تصویریں تھیں۔ اس بار کے کتابچہ میں صرف نریندر مودی کی تصویر ہے۔ اس طرح بی جے پی ’ون مین شو‘ (One Man Show) پر پانچ سال میں سمٹ کر آگئی۔ اچھے دن کا نعرہ بھی غائب ہے۔ ان نعروں کی جگہ ’قومی تحفظ‘ اور ’دہشت گردی‘کیلئے زیرو ٹولرنس نے لے لی ہے۔ منشور میں بے روزگاری پر نہ کوئی بات ہے اور نہ روزگار کا کوئی تذکرہ۔ ’نوٹ بندی‘ اور ’جی ایس ٹی‘ نے جو قہر ڈھائے تھے اس کے تذکرے سے بھی پرہیز کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے منشور کے کھلاڑیوں نے اپنی اپنی باتیں ضرور رکھیں مگر کسی کی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ میڈیا کے سوالوں کا جواب دے۔ نہ میڈیا والوں کی ہمت ہوئی اور نہ مودی ٹیم کو جرأت ہوئی کہ وہ سوالوں کیلئے میڈیا والوں کو دعوت دے۔ جبکہ کانگریس کے لیڈروں نے اپنے منشور کے اجراء کے موقع پر میڈیا پرسن کے سوالوں کا جواب دیا۔ کانگریس کے منشور کا نعرہ ہے ’’اب ہوگا نیائے‘‘ (اب ہوگا انصاف)۔ ایک طرح سے انصاف کا مقابلہ ناانصافی سے ہوگا۔ جمہوریت کا مقابلہ آمریت سے ہوگا۔ عوام کو ان دونوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنا ہوگا۔ بی جے پی کے منشور کے بجائے شخصیت پرستی (مودی پرستی) کے ذریعہ انتخابی میدان مار لینا چاہتی ہے۔
نریندر مودی کا دوسرا بڑا سہارا میڈیا ہے جو ابھی تک مودی، مودی کر رہا ہے مگر جیسے جیسے الیکشن ختم ہونے پر آئے گا امید ہے کہ یہ نعرہ مدھم پڑ جائے گا۔ جس طرح بی جے پی کے پہلے کے نعروں کی موت ہوئی اس کی بھی انشاء اللہ موت ہوجائے گی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں