strong-competition-telangana-beloved-parliamentary-constituency-mahboobnagar

تلنگانہ کے محبوب نگر پارلیمانی حلقہ میں سخت مقابلہ

تلنگانہ کے محبوب نگر پارلیمانی حلقہ میں سخت مقابلہ

حیدرآباد 7اپریل (ایجنسیز)

تلنگانہ کے محبوب نگر پارلیمانی حلقہ میں ہمیشہ سخت مقابلہ ہوتا رہا ہے جہاں سے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے 2014ء میں تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت نمائندگی کی تھی۔ اس حلقہ کی کئی اہم شخصیتوں نے نمائندگی کی ہے۔ اس لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والا ہر ایک اسمبلی حلقہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی کے لئے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ان تمام حلقوں میں ووٹرس کی تعداد کم و بیش 2 لاکھ ہے۔ 2018ء کے اسمبلی چناؤ میں ٹی آر ایس ان تمام حلقوں میں 2.5 لاکھ ووٹوں کی مجموعی اکثریت حاصل کی تھی۔ اس حلقہ کی سیاست حالیہ برسوں میں کافی بدل گئی ہے۔
سابق وزیر ڈی کے ارونا کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہوگئی ہیں اور اب محبوب نگر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہی ہے۔ ٹی آر ایس نے منے سرینواس ریڈی کو امیدوار بنایا ہے جب کہ کانگریس نے سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر سی ایچ ومسی چند ریڈی کو میدان میں اُتارا ہے۔ یہ لوک سبھا حلقہ کبھی کانگریس کا مضبوط گڑھ ہوا کرتا تھا جہاں ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ شخصیتوں کے بیچ ٹکراؤ ہوا ہے۔ تلنگانہ پرجا سمیتی، جنتا پارٹی، بی جے پی اور ٹی آر ایس کے لیڈران نے بھی یہاں سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس سے اس حلقہ کے ووٹرس کی سیاسی بیداری کا اظہار ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں