tunisian-president-almighty-announces-presidential-election-second_term

تیونسی صدر السبسی کا دوسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

تیونسی صدر السبسی کا دوسری مدت کے لیے صدارتی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

تیونس 7اپریل ( آئی این ایس انڈیا )

تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے دوسری مدتِ صدارت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گے۔تیونس کے 2014 میں منظور کردہ آئین کے تحت وہ دوسری مدت کے لیے بھی صدارتی امیدوار ہوسکتے ہیں اور ان کی جماعت ندا تونس بھی انھیں پیرانہ سالی کے باوجود اپنا امیدوار بنانا چاہتی ہے لیکن تیونس میں ان کی دوسری مدت کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوچکی ہے اور مختلف سیاسی گروپوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔93 سالہ تیونسی صدر نے ہفتے کے روز نداتونس کے ایک اجلاس میں کہا : ’ میں صاف لفظوں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں دوسرے مدت کے لیے امیدوار بننے کا خواہاں نہیں ہوں کیونکہ تیونس میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے‘۔تیونس کے آزاد الیکٹورل کمیشن نے 6 اکتوبر کو پارلیمانی اور 17 نومبر کو صدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ لے سکا تو پھر دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔2011کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد تیونس میں یہ تیسرے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں گے جن میں تیونسی ووٹر آزادانہ طریقے سے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔الباجی قاید السبسی دسمبر 2014 میں پانچ سال کی مدت کے لیے تیونس میں منعقدہ پہلے آزادانہ اور شفاف صدارتی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔ تب ملک میں پہلی مرتبہ کسی صدر کا براہ راست ووٹوں سے انتخاب کیا گیا تھا۔السبسی ایک طویل سیاسی کئیریر کے حامل ہیں اور سابق صدر بن علی کے دور میں وہ تیونسی پارلیمان کے اسپیکر رہے تھے۔پارلیمانی انتخابات میں اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ ، وزیراعظم یوسف شاہد کے زیر قیادت سیکولر جماعت تحیہ تونس اور صدر باجی قاید السبسی کے بیٹے حافظ قاید السبسی کے زیرِ قیادت ندا تونس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ البتہ ان تینوں جماعتوں نے ابھی تک اپنے اپنے صدارتی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔تیونس میں اس وقت بھی ایک مخلوط حکومت قائم ہے جس میں شامل جماعتوں میں باہمی چپقلش کے نتیجے میں فیصلہ سازی اور اقتصادی اصلاحات کا عمل سست روی کا شکار ہوا ہے اور ملک میں اقتصادی اصلاحاتی پر سست رفتار پیش رفت پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت قرضے دینے والے ادارے اور ممالک حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔تیونس میں 2011ء￿ میں برپا شدہ عرب بہار یہ انقلاب کے بعد نو حکومتیں قائم ہوچکی ہیں۔تیونس کی جمہوری عمل کے تسلسل پر تو دنیا بھر میں تعریف کی گئی ہے لیکن گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران میں بننے والی حکومتیں ملک کو درپیش افراطِ زر کی بلند شرح اور بے روزگاری سمیت اقتصادی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں جس کے پیش نظر تیونس کے مختلف شہروں میں گاہے گاہے بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں