saudi_arabia-iraq-growth-khamenei-anger-rising-proximity

سعودی عرب اورعراق میں بڑھتی مبینہ قربت پر خامنہ ای’چراغ پا‘

سعودی عرب اور عراق میں بڑھتی مبینہ قربت پر خامنہ ای’چراغ پا‘

دبئی7اپریل ( آئی این ایس انڈیا )

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ عراق اور سعودی عرب کے درمیان قربت حقائق کے برعکس ہے۔ایرانی سپریم لیڈر نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ملاقات کے دوران بغداد اور الریاض کے درمیان تعلقات کے فروغ پر شدید تنقید کی۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور عراق کے درمیان قربت الریاض کے موقف کی حقیقی عکاسی نہیں کرتی۔خامنہ ای نے عراقی وزیراعظم پر زور دیاکہ وہ عراق میں تعینات امریکی فوج کی جلد ازجلد واپسی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکیوں کا انخلاجلد از جلد کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر کسی ملک میں امریکی فوج زیادہ عرصے تک موجود رہے تو اس کے بعد اسے بے دخل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔عراق کے صدر برھم صالح نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق میں امریکی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں۔ جب کہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا عراق میں حکومت، پارلیمںٹ اور موجودہ سیاسی گروپ کو نہیں چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا عراق کی سیاسی قوتوں کو سیاسی میدان سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔خیال رہے کہ عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 5200 ہے۔ عراق میں امریکی فوج دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے دو طرفہ معاہدے کے تحت تعینات ہے۔ عراق نے داعش کے خلاف آپریشن کے لیے امریکا سے فوجی تعاون میں مدد لی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں