militar-action-aims-protect-tripoli-capital-spokesman

فوجی کارروائی کا مقصد دارالحکومت طرابلس کو تحفظ دینا ہے: ترجمان

فوجی کارروائی کا مقصد دارالحکومت طرابلس کو تحفظ دینا ہے: ترجمان

طرابلس7اپریل ( آئی این ایس انڈیا )

لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے کہا ہے کہ جنرل خلیفہ حفتر کی زیرقیادت طرابلس میں جاری فوجی کارروائی کا مقصد دارالحکومت کو تحفظ فراہم کرنا اور جنگ کا دائرہ کم کرنا ہے۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں میجر جنرل المسماری نے کہا کہ شہریوں کے کم سے کم جانی نقصان کو یقینی بنانے کے لیے فوج بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کر رہی ہے۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران شدت پسند گروپوں داعش اور ’القاعدہ‘ کے اشتہاری جنگجوئوں کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ فوج ان لوگوں کو تلاش کر رہی ہے۔ ان مطلوب شدت پسندوں میں القاعدہ تنظیم کے علی محمد علی فزانی بھی شامل ہیں جنہیں بن غازی سے طرابلس لایا گیا۔ اس کو لیبیا کے سنہ 2011میں رہنے والے سیکرٹری دفاع خالد الشریف کے حکم پر طرابلس منتقل کیا گیا تھا۔المسماری نے دہشت گرد جنگجو صلاح رمضان الفیتوری کو بھی اشتہاری قرار دیا جو شام میں القاعدہ کے مفتی رہنے کے ساتھ ساتھ مختلف کارروائیوں میں پیش پیش رہے تھے۔ اسے سنہ 2007کو سوئٹزرلینڈ نے اسے ملک سے بے دخل کر دیا تھا۔لیبیائی فوج جن لوگوں کو تلاش کر رہی ہے ان میں ایک نام محمد صلاح الدین زیدان المعروف سیف العدل کا ہے جو مصری شہریت رکھتا ہے۔ بھی مفرور ہے اور ماضی میں شام میں جنگی کارروائیوں میں پیش پیش رہ چکا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ تین روز سے دارلحکومت طرابلس میں جاری کارروائی کے دوران 14 فوجی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جنرل المسماری کا کہنا تھا کہ فوج تیزی کے ساتھ اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کر رہی ہے۔ فوج نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کی گئی۔ایک سوال کے جواب میں المسماری نے کہا کہ لیبی فوج طرابلس کو چھڑانے کے آپریشن کے دوران فضائی حملے نہیں کر رہی کیونکہ اس سے جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ تاہم اگر ضرورت پڑی تو فضائی آپریشن بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میںلیبیائی فوج نے طرابلس پر چند روزقبل آپریشن شروع کیا تھا۔ سرکاری فوج دارالحکومت طرابلس میں قائم بین الاقوامی ہوائی اڈے کو باغیوں سے چھڑانے اور کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں