alleged-loans-under-burden-dumb-turkish-economic-future

’مبینہ‘ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ترکی کا معاشی مستقبل کیا ہوگا؟

’مبینہ‘ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ترکی کا معاشی مستقبل کیا ہوگا؟

ریاض 7اپریل ( آئی این ایس انڈیا )

امریکی اقتصادی امور کے تجزیہ نگار جیسی کولمبو نے ترکی کی معیشت کو درپیش خطرات اور ان کے نتائج پر خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی کی کرنسی لیرہ ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ترکی میں معاشی بحران مسلسل پہلے مرحلے میں چل رہا ہے۔گذشتہ روز ترک لیرے کے ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں اس کی قیمت میں 0.57 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی اور لیرہ کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں 5.6200 جا پہنچی۔ دوسری جانب ترکی کے قرضوں میں مسلسل اضافے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ’جے پی مورگن‘ بنک کے مطابق ترکی غیر ملکی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔جولائی 2019 میں ترکی کے قرضوں کے حجم میں 1 کھرب 79 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ رقم جی ڈی پی کے ایک چوتھائی کے برابر ہے۔ یہ علامات ترکی کے معاشی بحران میں اضافے کا خدشہ ہے۔ترکی کے مجموعی قرض کی مالیت 1 ارب 46 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ رقم اسپیشل سیکٹر اور پرائیکویٹ بنکوں سے لی گئی ہے۔جے پی مورگن’ بنک کی یادداشت کے مطابق حکومت کو 4 ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقوم کی ضرورت ہے۔ دیگر رقم پبلک سیکٹر سے لی جا سکتی ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران لیرہ کی قیمت میں 40 فی صد کمی آئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ مانیٹری پالیسی، امریکا اور ترکی کے درمیان اختلافات اور امریکا کی طرف سے بعض معاملات میں ترکی میں مداخلت بتائی جاتی ہے۔امریکی تجزیہ نگار کولمبو کا کہنا ہے کہ ترکی کی اقتصادی بحران کا کوئی جادوئی حل نہیں اور چند ماہ میں یہ بحران حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ پانچ سال کے دوران ترکی کی معیشت تیزی کے ساتھ روبہ زوال رہی ہے۔سال 2018کے دوران ترکی کا مرکزی بنک لیرہ کی منافع کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہوا۔ اس کا مقصد لیرہ کی قیمت میں مسلسل کمی کو روکنا تھا۔ترکی میں انشورینس اور معاشی بحران کا آغاز 2000 میں ہوا۔ اس کے بعد سنہ 2003میں ترکی کے جی ڈی پی میں 15 فی صد اضافہ ہوا اور 2016 میں 70 فی صد اضافہ ہوا۔سال 2009سے 2018 کے دوران منافع کی قیمت میں کمی آئی جس کے باعث افراط زر میں اضافہ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں