yemen-approves-resolution-american-role-war

یمن جنگ میں امریکی کردار ختم کرنے کی قرارداد منظور

یمن جنگ میں امریکی کردار ختم کرنے کی قرارداد منظور

دبئی ؍ واشنگٹن 6اپریل (آئی این ایس انڈیا )

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے یمن میں جاری جنگ میں امریکہ کا کردار ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک دھچکا ہے۔ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کی شب قرارداد 175 کے مقابلے میں 247 ووٹوں سے منظور کی۔ ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان میں 16ری پبلکن ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی گزشتہ ماہ اس قرارداد کی منظوری دے چکی ہے۔ مذکورہ قرارداد 1973 کے ‘وار پاور ایکٹ’ کے تحت پیش کی گئی تھی جس کے ذریعے امریکی صدر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک کسی تنازع میں امریکی فوج کو کانگریس کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرے گا۔امریکہ کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے اس قانون کا استعمال کیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ اس قرارداد کو ویٹو کر دیں گے کیوں کہ اس سے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔قرارداد کے مخالف ری پبلکن ارکان کا موقف ہے کہ یمن کی جنگ پر ‘وار پاور ایکٹ’ کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں امریکی فوج براہِ راست سرگرم نہیں بلکہ اس کا کردار سعودی عرب اور اس کے ا تحادی ملکوں کو انٹیلی جینس اور اسی نوعیت کا تعاون فراہم کرنے تک محدود ہے۔لیکن ڈیموکریٹس اور جنگ کے مخالف ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ قوی امکان ہے کہ سعودی عرب اور ان کے اتحادی یمن میں امریکہ کے تیار کردہ میزائل اور اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو ان کے بقول عام شہریوں کی جانیں لینے کا سبب بن رہا ہے۔یمن میں سعودی اتحاد کی بمباری میں بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت اور اسپتالوں، اسکولوں اور شہری املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر عالمی برادری سخت برہمی کا اظہار کرتی آئی ہے۔کئی امریکی ارکانِ کانگریس بھی یمن کی جنگ کے سخت مخالف ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران کانگریس میں اس جنگ کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے 2014 کے آخر میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے باعث یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی کی حکومت کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی تھی۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے دیگر اتحادی عرب ممالک نے صدر ہادی کی حکومت کی حمایت میں 2015 میں حوثیوں کے خلاف فضائی اور زمینی حملے شروع کیے تھے جو تاحال جاری ہیں۔ان حملوں کے نتیجے میں یمن کی خانہ جنگی مکمل جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ یمن کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دے چکا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق یمن بری طرح قحط کا شکار ہے اور اس کی 80 فی صد آبادی مناسب خوراک، صاف پانی اور طبی سہولتوں سے محروم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں