german-media-survey-resistance-liberal-homosexuality-screams-shariah_laws-conservative

جرمن ذرائع ابلاغ کا سروے:لبرل اورہم جنس پرستی کے حامل افراد کی مزاحمت. ان کی چیخیں نکل گئیں ، شرعی قوانین کو ’قدامت پسندی‘ قرار دیا

جرمن ذرائع ابلاغ کا سروے: لبرل اور ہم جنس پرستی کے حامل افراد کی مزاحمت.
ان کی چیخیں نکل گئیں ، شرعی قوانین کو ’قدامت پسندی‘ قرار دیا

لندن 6اپریل ( آئی این ایس انڈیا )

برونائی میں سخت ترین ’شریعہ قوانین‘ کے نفاذ پر انسانی حقوق کی تنظیمیںتنقید کر رہی ہیں، تاہم ایشیا کے مسلم اکثریتی ممالک کے سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کی ان سخت ترین تشریحات کی حمایت بھی کی ہے۔برونائی میں نئے ’شریعہ قوانین‘ کا نفاذ بدھ کے روز سے ہو گیا ہے، جس پر دنیا بھر سے انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے افراد کی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایک مرتبہ پھر ’اسلام کی تشریحات بطور قانونی نظام‘ زیربحث ہیں۔برونائی میں نئے قوانین کے مطابق ہم جنس پرستی کو ازروئے شرع سنگ سار کرنے کی سزا رکھی گئی ہے۔ جب کہ سزائے موت کا دائرہ کار زنا اور جنسی زیادتی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چوری کرنے پر ہاتھ کاٹے جانے کی سزا بھی نافذالعمل ہے۔مسلم دنیا میں شریعہ قوانین کی تشریحات مختلف طریقوں سے کی جاتی ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ برونائی میں جو قوانین نافذ کیے گئے ہیں وہ شرعی قوانین کی انتہائی شدید مثالوں پر مبنی ہیں۔جبکہ نام نہاد انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے ہم جنس پرست رحجانات کے افراد کا کہنا ہے کہ:’ برونائی ایک انتہائی قدامت پسند معاشرہ ہے، تاہم ان قوانین کے نفاذ سے قبل وہاں کے چار لاکھ تیس ہزار شہریوں سے کوئی رائے نہیں لی گئی‘۔ فی الحال یہ بات واضح نہیں کہ برونائی کی حکومت کی جانب سے ان قوانین کے نفاذ کے درپردہ وجوہات کیا ہیں۔اس پیش رفت کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کی اس چھوٹی سی سطلنت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ خصوصاً ایشیائی ممالک بشمول پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں زبردست بحث دیکھی گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک طرف تو اس پیش رفت کواسلامی قوانین کی قدر سے تعبیر کر کے حمایت دیکھی گئی، تاہم دوسری جانب بعض افراد نے ان سزاؤں کو نعوذباللہ سفاکانہ اور اسلام کی غیردرست تشریحات سے عبارت قرار دیا۔اس سلسلے میں جرمن ذرائع ابلاغ نے ’ڈی ڈبلیو ‘کے پانچ زبانوں میں شائع کردہ مضمون پر چوبیس گھنٹوں میں قریب دو ہزار تبصرے سامنے آئے۔ انڈونیشیا میں بعض صارفین نے ان قوانین کو ’اللہ کے قوانین‘ قرار دیتے ہوئے ’اگلی نسل کی بقا‘ کے لیے ضروری قرار دیا جب کہ دوسری جانب بعض نے لکھا کہ برونائی ان قوانین کے بغیر ایک بہتر ملک تھا۔ انڈونیشی صارفین میں سے بعض نے اس قانون سے دوری اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ یہ قوانین ان کے ملک انڈونیشیا کے بنیادی فلسفے یعنی تنوع کے اصول کے خلاف ہیں۔پاکستان میں بھی ان قوانین پر مختلف طرح کے تبصرے سامنے آئے، جن میں بعض صارفین نے برونائی میں ان قوانین کے نفاذ کو مضحکہ خیز قرار دیا جب کہ بعض نے لکھا کہ برونائی ایک خودمختار ریاست ہے اور مغربی دنیا کو اس کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے لکھا کہ :’شرعی قوانین انسانیت کے لیے بے حد سود مند ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جرمن ذرائع ابلاغ کا سروے:لبرل اورہم جنس پرستی کے حامل افراد کی مزاحمت. ان کی چیخیں نکل گئیں ، شرعی قوانین کو ’قدامت پسندی‘ قرار دیا” ایک تبصرہ

  1. شرعی قوانین یقیناً انسانی سماج سے برائیوں غیر فطری عمل اور فطرت سلیمہ سے بغاوت کو ختم کرنے کےلئے خالق کائنات کی بے انتہا رحم و کرم اور فضل و مہربانی کا سبب ہے
    حقوق انسانی کے نام نہاد علمبردار جو درحقیقت مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور فطرت سلیمہ کو مسخ کرکے بغاوت کرنے والے انسانیت دشمنوں کو شرعی قوانین میں ظلم یا قدامت پسندی نظر آتی ہو تو اس سے سماج کے ساتھ خود کو نقصان میں مبتلا کرنے اور تباہی و بربادی میں جھونکنے انجام کار جہنم کا ایندھن بننے کی تیاری ہے
    ہم برونائی کے اس اقدام کا استقبال کرتے ہیں اور دنیا کے ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر حقیقی معنوں میں انسانیت سے ہمدردی رکھتے ہیں تو اپنے اپنے ممالک میں بھی جرائم و برائیوں کے خاتمہ کےلئے شرعی قوانین کو نافذ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں