400-crisis-us-closed-way-front-turkey

‘ایس 400’ بحران کے بعد امریکا نے ترکی کے سامنے راستے بند کر دیے

‘ایس 400’ بحران کے بعد امریکا نے ترکی کے سامنے راستے بند کر دیے

دبئی ۔5؍اپریل ( ایجنسیز)

امریکی وزارت دفاع ‘پنٹاگون نے جمعرات کے روز ایک بیان میں‌کہا ہے کہ امریکا ترکی کے ساتھ ایک مشترکہ ایکشن گروپ کی تشکیل پر غور کررہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان روس کے ‘ایس 400’ دفاعی نظام اور امریکا کے ‘ایف 35’ جنگی جہازوں کے منصوبے کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران کا کوئی حل نکالا جاسکے۔ پنٹاگون کے بیان سے ایک روز قبل ترک وزیر خارجہ نے بھی ایکشن گروپ کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی۔

پنٹا گون کے ترجمان اریک باھن نے کہا کہ تکنیکی ایکشن گروپ کی تشکیل اس مرحلے پر ضروری نہیں اور نہ ہی امریکا اسے تنازع کے حل کے ایک وسیلے کے طور پردیکھتا ہے۔

قبل ازیں ترکی کے وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو نے کہا تھا کہ ترکی نے امریکا کے ساتھ روسی ساختہ ‘ایس 400’ دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر جاری اختلافات دور کرنے کے لیے ایک ایکشن گروپ قائم کیا جاا چاہیے جو ان نیٹو کے اتحادی دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے غور وخوض کرے۔

بدھ کو امریکی اور ترک وزراء خارجہ نے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں مائیک پومپو اور مولود جاویش اوگلو نے ‘ایس 400’ پر پیدا ہونے والے بحران کے حل لیے موثر کوششیں کرنے سے اتفاق کیا گیاتھا۔

امریکا نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انقرہ نے روس سے ‘ایس 400’ دفاعی نظام خرید کیا تو امریکا نہ صرف ‘ایف 35’ جنگی طیاروں کا مشترکہ معاہدہ ختم کردے گا بلکہ ترکی پر پابندیاں بھی عاید کرسکتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کئی مرتبہ اپنے بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ روسی ساختہ S-400 میزائل سسٹم کی ڈیل سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایردوآن اپنے عوام کے سامنے یہ موقف پیش کرنے کے خواہش مند ہیں کہ وہ امریکی دباؤ پر نہیں جھکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں