ملکی عدالت بنام شرعی عدالت

ملکی عدالت بنام شرعی عدالت

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

انگریزوں کی آمد سے قبل اس ملک میں مغلوں کی حکومت تھی ۔ مغلوں کی حکومت معروف معنوں میں کوئی اسلامی حکومت نہیں تھی ۔ مگر وہ مسلمان تھے اور عدالتوںمیں بالخصوص جب معاملہ دو مسلمانوں کے درمیان ہوتا تو شرعی اصولوں کے تحت فیصلہ ہوتا تھا ۔ انگریزوں کی آمد کے بعد یہ صورتحال بالکل بدل گئی اور انھوں نے اس ملک پررومن لاء نا فذکردیا ۔ ملک کے تمام دیوانی اور فوجداری معاملات اسی قانون کے تحت انجام دیئے جانے لگے ۔ اس ملک میں ہندو اور مسلمانوں کے علاوہ مختلف مذہبی گروہ ہیں اور مختلف علاقوں کی برادریوں کے الگ الگ کلچر پائے جاتے ہیں اس لئے انگریزوں نے ان کو اپنے مذہبی ، تمدنی اور عائلی معاملات میں یک گونہ آزادی دینے کی غرض سے ان کے لئے پرسنل لاء منضبط کر کے عدالتوں کو اس مطابق فیصلہ دینے کا قانون پاس کیا ۔ ہر مذہبی اور تمدنی اکائی کو اپنے پرسنل لاء کے تحت معاملہ کرنے کی آزادی دی گئی۔ اسی اصول کے تحت 1937ء میں شریعت ایکٹ پاس ہوا اور مسلمانوں کے نکاح ، طلاق ، وصیت ، وراثت اوردیگر معاملات اسی قانون کے تحت انجام دیئے جانے لگے ۔
موجودہ عدالتی نظام:
اس قانون میں کئی بے ضا بطگیا ں تھیں نیز شریعت کی روح متاثر ہوتی تھی ۔ اکثر عدالتیں شرعی قوانین کو ٹھیک سے نہیں سمجھنے کی وجہ سے الٹا سیدھا فیصلہ دے دیتی تھیں جس سے اکثر دوسرے مسائل پیدا ہوجاتے تھے ۔ دوسرے کورٹ کچہری کا ایک الگ مزاج ہے جہاں وکیلوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ مدعی بر سر حق یا برسر باطل ہے ، مد عاعلیہ بےقصور ہیں یا قصور وار ، جس نے بھی ان کی خدمات حاصل کی اس کے حق میں قانون اور دلیل پیش کرنا ان کی منصبی ذمہ داری ہے جس کے عوض ان کو پیسہ ملتا ہے ۔ اس فن میں جو وکیل جتنا ماہر ہے تیز طرار ، چرب زبان اوردروغ گوئی میں ماہر ہوگا اس کی پریکٹس اتنی ہی چمکے گی ۔ اس کے علاوہ کورٹ کے ضابطےکچھ ایسے ہیں اور کیس کادبائو اتنا ہےکہ کسی معاملہ کو جتنے دن تک طول دینا چاہیں ، دے سکتے ہیں ۔ کسی ایک معاملہ کا فیصلہ ہونے میں سالوں سال بلکہ دس سال اوربیس سال بھی لگ جاتے ہیں ۔ نچلی عدالت سے اوپری عدالت تک اپیل دراپیل کا سلسلہ ایسا چلتا ہے کہ طاقت ور اور صاحب وسیلہ مجرم قانون کی گرفت سے اس وقت تک بچا رہ سکتا ہے جب تک اس کی موت یا بد قسمتی، دونوں میں سے کوئی ایک اس کے خلاف فیصلہ نہ سنا دے ۔ اس صورت میں عام آدمی اور غریب آدمی ماراجاتا ہے ۔لہٰذا عدالت کا موجودہ نظام اس کے لئے ہے ہی نہیں ۔ اگر وہ کبھی کسی مقدمے میں پھنس جائے اور کورٹ کچہری تک پہنچ جائے تو جو بھی اس کی بچی کھچی پونجی اور جائیداد ہے وہ اس کی نذر ہو جائے گی اور اس کے بچوں کے لئے سوائے محرومی کے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس لئے عام آدمی کورٹ کچہری سے بچنا چاہتا ہے اور بد رجہ مجبوری ہی وہ کورٹ میں اپنے کسی معاملے کو لے جاتا ہے ۔ انصاف اتنا مہنگا اور دیر طلب ہے کہ یہ اس کے بس سے باہر ہے ۔ اس بات کا احساس سب کو ہے ۔ تمام ماہرین قانون ، جج صاحبان ، سیاسی مدبرین اور ذمہ دار لوگ اس پر اظہار تشویش کرتے ہیں لیکن موجودہ کورٹ کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔
آزادی کے بعد عدالتی نظام میں اصلاح کے لئے بہت سی کمیشن اور کمیٹیا ں بنیں اور انھوں نے دور رس تجاویز بھی دیں ۔ ان میں کچھ کا نفاذ بھی ہوا ۔ تمام چیف جسٹس نے اس صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کی اور بہت سے لوگوں نے قابل ذکر اصلاحی اقدامات بھی کئے ، مگر مسئلہ کی سنگینی میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ عام آدمی کے لئے انصاف آج بھی منہگا اور دیر طلب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو آزادی اور دستوری جمہوریت میں موجود ضمانتوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے اور اگر موجودہ حالت یونہی برقرار رہی تو اگلے پچاس سال تک صورتحال میں کسی بہتری کی توقع فضول ہے ۔
بھارت کے ایک سابق چیف جسٹس وائی ۔ کے سبروال نے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے سے پہلے اخبار ہندو ، دہلی کے ۲۱؍اکتوبر ۲۰۰۵ ء کے اپنےایک انٹرویو میں بتایا کہ ملک کی نچلی عدالتوں میں لگ بھگ تین کروڑ مقدمات زیرالتواء ہیں جن میں دو کروڑ مقدمات فوجداری نوعیت کے اور اسی لاکھ مقدمات دیوانی نوعیت کے ہیں ۔ پہلی جنوری ۲۰۰۵ ء تک ہائی کورٹس میں ۳۳؍لاکھ مقدمات زیرالتواء ہیں جن میں چھہ لاکھ فوجداری اور ۲۷؍ لاکھ دیوانی مقدمات ہیں ۔ ایسی صورت میں عدالتوں کی تعداد اور ججوں کی تعداد میں خاطر خواہ ضافہ ہونا چاہئے جبکہ اس وقت نچلی عدالتوں سے لے کرہائی کورٹس تک میں ججوں کی کافی اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ اس وقت صرف ۱۲؍ ہزار جج ہیں جوان مقدمات کو دیکھ رہے ہیں اور ججوں کی ۲۰؍فیصد جگہیں خالی ہیں ۔
۲۸؍جون ۲۰۱۸ ؁ء کو سابق چیف جسٹس دیپک مشرا نے نیشنل جوڈیشیل ڈاٹا گرڈ کے حوالے سے بتایا کہ ملک میں 3.3کروڑمقدمات زیر التواہیں جن میں 2.84کروڑمقدمات زیریں عدالتوں میں 43, 57, 987مقدمات ہائی کوٹ اور سپرم کورٹ میں زیر التوا ہیں ، سب سے زیادہ زیر التوا مقدمات اُتر پردیش 61.58لاکھ، مہاراشٹر 33.22لاکھ، پچھمی بنگال 17.59لاکھ ، بہار 16.58لاکھ اور گجرات 16.45لاکھ ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں ساٹھ ہزار ہائی کورٹ میں 42؍لاکھ اور نچلی عدالتوں میں 2.7لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ یعنی 2005سے لیکر اب تک صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے ، اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکار عدالتوں پر کل بجٹ کا 0.1 %سے 0.4 %خرچ کرتی ہے اس وقت 21000 جج ہیں دس لاکھ کی آبادی پر دس جج جبکہ ان کی تعداد 50؍ہونی چاہئے، اس صورت میں انصاف نہ صرف مہنگا ہے بلکہ دیر طلب ہے ۔ جس نے غریب آدمی کے لئے انصاف پانا نا ممکن بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جرائم کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے غریب اور پسماندہ افراد خود کو بے بس اور بے سہارا محسوس کر رہے ہیں ۔
ہم اگر مان لیں کہ ہندوستان کے سارے جج بالکل ایماندار ، انصاف پرور اور اپنی ذمہ داریوں کے تئیں پوری طرح مخلص ہیں ۔ ان کے اندر ذات ، مذہب ، علاقے ، زبان ، رنگ ، تہذیب ثقافت اور برادری کا کوئی تعصب نہیں پایا جاتا ہے اور وہ کرپشن سےپوری طرح پاک ہیں تو بھی اتنے سارے مقدمات کی بروقت سماعت کر کے ان کا متعینہ مدت میں نپٹارہ کر دینا ان کی انسانی سکت سے باہر ہے ۔ اس لئے فیصلہ میں دیر ہونا فطری ہے ۔ جیوڈیشری میں کرپشن پایا جاتا ہے ، اس کا اعتراف تو خود چیف جسٹس کو ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ نچلی عدالتو ں میں زیادہ ہے ۔ مگر ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اونچی عدالتیں بھی اس سے اچھوتی نہیں ہیں اور اگر کرپشن کو صرف پیسے کے مفہوم میں نہ لیا جائے تو مذہبی اور گر وہی تعصب سے ہمارے تمام جج صاحبا ن بالکل خالی ہیں ایسا کہنا حقیقت سے منہ چرانہ ہوگا ۔ آخر جج بھی اسی سماج سے آتے ہیں اس لئے سماج کی اجتماعی مزاج سے اچھوتا رہ جانا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ایسے استثنیا ت بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
جسٹس سبروال نے اپنے اسی انٹرویو میں ایک اہم بات کہی ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ تنازعہ کے حل کےلئے متبادل نظام اس کا بہتر حل ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ لوک عدالت کے علاوہ Mediationپر زیادہ زور دیا جاسکتا ہے ۔ انکے مطابق دہلی میں پائلٹ پر وجکٹ کا تجربہ کیا جارہا ہے ، چنئی میں بھی پہل ہو رہی ہے اور Mediationکے سلسلے میں ایک نیشنل پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ۔ بہت سے ملکوں میں مثال کے طور پر امریکہ میں ۹۵؍ فیصد معاملات Mediationکے ذریعہ حل کئے جاتے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی اپیل نہیں ہوتی ۔
شرعی عدالت کی حیثیت:
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمان جب اپنی شرعی پنچائتوں اور دارالقضاء ، جن کو عرف عام میں شرعی عدالت کہتے ہیں کے ذریعہ اپنا معاملہ حل کرانا چاہتے ہیں تو اس پر اتنا واو یلہ کیو ں مچایا جاتا ہے کہ مسلمان اس ملک کے قانونی اور عدالتی نظام کو نہیں مانتے یا انھوں نے متبادل عدالت کھڑی کرلی ہے جو ملک کے دستور اور قانون کے خلاف ہے ۔ یہ شرعی عدالتیں فی الواقع Mediationہی کرتی ہیں ۔ وہ دونوں فریقو ں کو ایک ساتھ بلا کر دونوں کی شکایتوں اور دلیلوں کو سن کر ان کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوشش کرتی ہے اور یہ بھی صرف چند امور میں مثلاً طلاق کا معاملہ ہے ، وصیت اور وراثت کا معاملہ ہے یا میاں بیوی کے درمیان کوئی نزاعی معاملہ و غیرہ ۔ مفاہمت دو خاندانوں کے بڑے اور ذمہ دار لوگوں کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ انصاف اور شریعت کی روشنی میں ہوتی ہے ۔ ایسا کوئی معاملہ جو ان عدالتوں میں آتا ہے فیصلے میں مشکل سے چھہ مہینہ لگتا ہے نہ پیسہ خرچ ہوا نہ جھوٹ سچ کی ضرورت پڑی ، نہ گواہ تیار کرنا ہے نہ وکیل صاحب کی فیس بھرنی ہے اور نہ کورٹ فیس ادا کرنی ہے۔
بہت معمولی خرچ میں کام پورا ہوجاتا ہے ۔ شرعی عدالتوں میں جو مقدمات آتے ہیں اس میں سے ۹۰؍ فیصد معاملات صلح صفائی پر ختم ہوتے ہیں ۔ ۱۰؍ فیصدمعاملات میں عدالت کو فیصلہ دینا ہوتا ہے ۔ مگر یہ بات طے ہے کہ ان عدالتوں کے پاس اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کے لئے کوئی قانونی اختیار نہیں ہے ۔ یہ فیصلے ایمان اور اخلاق کی بنیاد پر نافذ ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ان فیصلوں کو نہ مانے تو وہ سرکاری عدالتوں میں جا سکتا ہے ۔ عدالت چاہے تو شرعی عدالت کے فیصلے کو بطور شہادت تسلیم کرے یا خود کوئی فیصلہ سنائے ۔ مسلمان اس ملک میں قانون ، انصاف ، شرافت اور سماجی امن کو بحال کرنے میں مدد کررہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں تو بھی ان کو ہی باغی اور خاطی مانا جاتا ہے ۔ یہ انصاف کا کون سا پیمانہ ہے ؟ کیا ہماری عدالت اور جج صاحبان اس پر غور کریں گے ؟
میں مانتا ہو ں کہ ہماری شرعی عدالتوں میں بعض کمیاں اور خامیاں ہیں ، وہاں با صلاحیت اور تجر بہ کارقاضیوں کی کمی ہے ۔ کبھی کبھی معا ملات کی سنگینی کو سمجھے بغیر بعض فیصلہ دے دئے جاتے ہیں ۔ لیکن ان سب کا تعلق انتظامی امور سے ہے جس کی اصلاح کی کوشش جاری ہے۔اس کے نظام اور ضابطوں میں وقت کے تقاضے کے تحت کچھ تبدیلی لانا ضروری ہے ۔ لیکن ان کی اصل حیثیت فیملی کورٹ ، سماجی پنچایت او ر مفاہمتی ادارہ کی ہے ۔ مسلمان اپنے تمام فوجداری اور دیوانی معاملات اور ایسے معاملات جس میں ایک فریق مسلمان ہواور دوسرا غیر مسلم ہو، وہ اس وقت عام عدالتوں میں ہی جاتے ہیں ۔ مگر گھریلو اور عائلی معاملات میںاگروہ شرعی عدالتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اتنا واویلہ کیوں ہے اور عام عدالتوں کو اس پر کیوں اعتراض ہے ۔ جبکہ ان کا بوجھ ہلکا کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں ۔ کیا ہمارے سابق اور موجودہ چیف جسٹس صاحبان شرعی عدالتوں کو Mediation courtکا درجہ دینے کی پہل کریں گے ؟

Website: abuzarkamaluddin.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں