#Candlesticks, #Shama, #Parwana, #Proposals,

شمع اور پروانہ

شمع اور پروانہ
رمانہ تبسم،پٹنہ سیٹی،انڈیا
رابطہ۔9973889970

آسمان میں کالے کالے آوارہ بادل ادھر سے ادھر گشت کر رہے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوائیں چل رہی تھیںاور ہلکی ہلکی بارش کی پھوواریں بھی ہو رہی تھیں۔اس موسم سے لطف اندوز ہو کر برسات کی پہلی بارش کا مزہ لینے کے لئے ٹیرس پر آگئی۔ٹیرس پر رکھے ڈیزائنرگملوںمیںگلدائودی،گیندا،پریونکل،بوگن ولاکے چھوٹے چھوٹے پھولوںپر بارش کی پہلی بوندیں پڑنے سے گملے میں سبھی پودے خوشی سے مسکرا رہے تھے۔ فضا میں مٹی کی سوندھی خوشبو کے ساتھ ان پھولوں کی خوشبو میری روح کو معطر کر رہی تھی۔ برسات کی پہلی بارش کی بوند اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے میرا دل بے اختیار مچل اٹھااوربارش میں اپنے ہاتھوں کوبھگاتی رہی۔بارش نے میرے گالوں کو چھو اتیز ہوا کے جھونکے نے میرے بالوں کو منتشر کر دیا تھا۔
تبھی میری نظر بوگن ولا کے پھولوںپر جاکر مرکوز ہوگئی۔ایک خوبصورت تتلی ڈری سہمی بوگن ویلا کے پھولوں سے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کے پنکھ ٹھنڈ سے کانپ رہے تھے۔ تبھی ایک جگنو اڑ کر تتلی کے بالکل قریب آکر بیٹھ گیا۔جگنو کی روشنی کے آفاقی رنگ میں اس کے رنگ برنگے پنکھ شعاعوں کی طرح جھلملا رہے تھے۔ شایداس وقت وہ اس کی خوبصورتی پر نثار ہونے کے لئے بیقرار ہو رہا تھا ۔جگنو اور تتلی کی لکاچھپی دیکھ کر میں کافی لطف اندوز ہو رہی تھی۔تتلی،جگنو کے آفاقی رنگ سے بچنے کے لئے میرے ونڈو پین پر آکر بیٹھ گئی۔جگنو بھی اس کا پیچھاکرتا ہوا ونڈوپین پر آکر بیٹھ گیا۔میں نے چپکے سے جگنو کو پکڑ کر اپنی مٹھی میں قید کر لیا ۔جگنو کی ہلکی ہلکی روشنی میری مٹھی میں جھلملا رہی تھی۔
تبھی میرے منگیتر تنویر نے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہلکی سی سیٹی بجائی تو میں چونک پڑی۔
’’تنویر۔۔۔۔۔ ! تم کب آئے؟‘‘
’’جب میری جان شمع اس خوبصورت موسم کا مزہ اکیلے یہاں ٹیرش پر لے رہی تھیں۔تم سے ملنے بارش میںبھیگتاہوا تمہارے گھر آیا توچچی جان نے بتایا کہ تم ٹیرس پر ہو،بس ان سے اجازت لے کر یہاں آگیا۔ ‘‘
اس نے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہاتو دلکشی سے مسکرا پڑی۔
’’یہ ۔۔۔۔۔تمہاری مٹھی میں کیسی روشنی ہو رہی ہے،کہیں کوئی جادوئی طاقت تو تمہیں نہیںمل گئی۔ ‘‘اس نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ جگنو ہے۔۔۔۔۔ !‘‘اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’اس جگنو کو اپنی مٹھی میں کیوں قیدکر رکھا ہے؟‘‘تنویر نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’یہ جگنو ،تتلی پر نثار ہونے کے لئے بیقرار ہو رہا تھا۔ ‘‘
بوگن ولا کے پھولوں کے بیچ بیٹھی ہوئی تتلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ شمع پلیز! جگنو پر اس وقت ظلم نہ کرو اسے اپنی مٹھی سے آزاد کر دو اور اسے تتلی پر نثار ہو جانے دو۔‘‘ اس نے میری مٹھی کھولتے ہوئے کہا ۔
’’یہ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔ تم نے کیا کیا؟‘‘میں نے مصنوعی غصہ سے کہا۔
’’وہ دیکھو ۔۔۔۔۔ !‘‘
تنویر نے بوگن ولا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جگنو میری مٹھی سے آزاد ہو کر سیدھا تتلی کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا۔تتلی،جگنو کو اپنے پاس دیکھ کر شرماتی ہوئی بوگن ولا کے پھولوں کے بیچ جا کر چھپ گئی۔
’’اس خوبصورت موسم میں،میں بھی اپنی شمع پر نثار ہونے کے لئے آیا ہوں۔اس نے اپنے باہنوں کے حصار میں لے کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔اس وقت اس کی آنکھوں میں بے پناہ محبت مچل رہی تھی۔اس کی بے لوث محبت میرے پورے وجود میں پھولوں کی خوشبو کی طرح پھیلتی جا رہی تھی،لیکن فوراََ اس کے مضبوط باہنوں کی گرفت کو توڑتے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی اورکمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیااور ونڈو پین کھول کر کہا۔
’’تنویر صاحب ! شمع پر نثار ہونے کے لئے پہلے بزرگوں کی اجازت لینی ہوگی۔‘‘
تنویر کے چہرے پر بھی شرارت مچل اٹھی اورونڈو پین پر سے بارش کی ننھی ننھی بوند اپنے ہاتھ سے ہٹاکر میرے چہرہ پر پھینکتے ہوئے کہا۔
’’ قسم سے ۔۔۔۔۔ شمع۔۔۔۔۔ تم اپنی ان خوشتر آنکھوں سے مجھے قتل کرتی ہو، ایسے میں یہ پروانہ کیوں نہ اپنی شمع پر نثار ہو؟ اس نے کنکھی مارتے ہوئے کہا۔‘‘
میںنے شرما کر ونڈو پین بند کر دیا۔
’’ اوکے میری جان شمع !بہت جلد۔۔۔۔۔ تمہارا یہ پروانہ پورے رسم ورواج کے ساتھ تمہیں یہاں سے لے کر جائے گا۔‘‘
اس کی شوخ باتوں پر کتنی دیر بیٹھی مسکراتی رہی۔بارش اچانک رک گئی تھی۔ رات بھی زیادہ ہو چکی تھی۔گہرے نیلے آسمان پر تارے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے۔ چاند بھی بادلوں سے بے نقاب ہو کر نکل آیا تھااور یہ چاند تارے اب آہستہ آہستہ انوارِ سحر کو بھی دستک دے رہے تھے۔’’ شمع اور پروانہ ‘‘ کو دیکھنے کے لئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں