providing-equal-rights-boys-girls-primary-responsibility-society

لڑکوں اور لڑکیوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا سماج کی بنیادی ذمہ داری

لڑکوں اور لڑکیوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا سماج کی بنیادی ذمہ داری
اردو یونیورسٹی میں صنفی بیداری میلہ کا اہتمام، ڈاکٹر اسلم پرویز اور جمیلہ نشاط کاخطاب

حیدرآباد، 29 مارچ(آئی این ایس انڈیا)

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں شعبۂ سوشل ورک اور شاہین ویمنس ریسورس اینڈ ویلفیئر اسوسی ایشن، حیدرآباد کے زیر اہتمام صنفی بیداری سے متعلق ایک روزہ یوتھ میلہ کا اہتمام کیا گیا۔ اسکول برائے فنون و سماجی علوم کے سبزہ زار پر منعقدہ اس میلے میں مختلف نوعیت کے صنفی مسائل اور صنف اساس کے کھیلوں، قانون کے اسٹالس قائم کیے گئے تھے ۔ اس کا افتتاح ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج میں صنفی امتیاز سرایت کرگیا ہے اس کا تدارک ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نوجوان اچھی اقدار کو اپناتے ہوئے سماج میں بہتر تبدیلی لاسکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سماج میں موجود برائیاں جیسے چھیڑ چھاڑ، خواتین کے خلاف زیادتی، جہیز وغیرہ کے تدارک کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے نوجوان طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شادی میں جہیز نہ لینے پر مصر ہوجائیں اور اگر ضرورت پڑے تو اپنے والدین کی بھی مخالفت کریں۔ کیونکہ غلط ہونے پر حضرت ابراہیمؑ نے بھی اپنے والد کی مخالفت کی۔ انہوں نے یوتھ میلے کے انعقاد پر شعبۂ سوشل ورک اور شاہین اسوسی ایشن کی کاوشوں کی ستائش کی۔ محترمہ جمیلہ نشاط، ڈائرکٹر شاہین آرگنائزیشن نے مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کسی نہ کسی صنفی حیثیت میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ایسے میں لڑکوں اور لڑکیوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا سماج کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جہاں ہم لڑکیوں کو ان کی حدیں بتاتے ہیں ویسے لڑکوں کو بھی ان کی حدیں اچھی طرح سمجھانا ضروری ہے۔ لڑکیاں اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور سجنے سنورنے سے آگے بڑھ کر اپنے ہنر کا لوہا منوائیں۔ کیونکہ اصل خوبصورتی صرف چہرے کی نہیں بلکہ کام کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں لڑکے اور لڑکیوں کو مساوی حقوق ملنا ضروری ہے۔ بطور خاص تعلیم کے میدان میں لڑکیوں کو صرف سماجی علوم نہیں بلکہ سائنس کی تعلیم بھی فراہم کرنی چاہیے۔ تبھی حقوق کی مساویانہ تقسیم ہوگی۔ پروفیسر محمد شاہد رضا، صدر شعبہ نے کہا کہ سماج میں مساوات اور انصاف کو یقینی بنانا پیشہ ور سوشل ورکرس کو ایک چیلنج کی طرح لینا ہے۔ پروفیسر محمد شاہد ، شعبۂ سوشل ورک نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہماری سوچ اور فکر میں جو صنفی امتیاز سرایت کرگیا ہے اسے شراکتی ذرائع اور تکنیکوں بشمول کھیلوں اور دیگر مواد کی مدد سے ختم کیا جائے۔ ہماری خاموشی اور سرد مہری کی وجہ سے سماج میں صنفی امتیاز میں اضافہ ہورہاہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اس پر معنی خیز انداز میں گفتگو ہو اور اسے جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ سوشل ورک کے طلبہ نے اس پروگرام میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور طلبہ میں تشہیر کی۔ کثیر تعداد میں مختلف شعبوں کے اساتذہ اور طلبہ نے میلے میں شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں