Amr Bil Maroof wa Nahi an al Munkar

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

ترتیب: عبدالعزیز

ہر چیز کیلئے اپنی صفت کے لحاظ سے کمال کے دو درجے ہوا کرتے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ جس صفت سے متصف ہے، اس میں اتصاف کی انتہا کو پہنچ جائے۔ اور دوسرا درجہ یہ کہ اس کی ذات میں وہ صفت اتنی شدید ہوجائے کہ وہ دوسری چیزوں تک متعدی ہو اور دوسروں کو بھی اپنی صفت کے رنگ میں رنگ دے۔ برف کا کمالِ اوّل یہ ہے کہ وہ انتہا درجہ کی سرد ہے اور کمالِ ثانی یہ ہے کہ وہ دوسری چیزوں کو بھی سرد کر دیتی ہے۔ آگ کا کمالِ اوّل یہ ہے کہ وہ خود انتہا درجہ کی گرم ہوتی ہے۔ بالکل یہی حال نیکی اور بدی کا بھی ہے۔ نیک آدمی کا پہلا کمال یہ ہے کہ وہ خود نیکی کا مجسمہ بن جائے اور دوسرا کمال یہ کہ وہ اپنے اثر سے دوسروں کو بھی نیک بنا دے۔ اسی طرح بُرے آدمی کا پہلا کمال یہ ہے کہ وہ خود بدی کی صفت سے بدرجہ اتم متصف ہو اور دوسرا کمال یہ کہ وہ اپنی اس بدی کو دوسروں تک متعدی کردے۔
اس قاعدۂ کلیہ کے مطابق کافر اور مومن کیلئے بھی کمال کے دو مرتبے ہیں۔ کافر اگر بجائے خود اپنے عقیدۂ کفر میں راسخ اور مضبوط ہو تو وہ کمال کفر کے پہلے مرتبے میں ہے اور اگر وہ کفر کی تبلیغ کرے، لوگوں کو راہِ حق سے روک کر باطل کی طرف کھینچ لانے کی کوشش کرے اور اپنے زورِ بیان یا زورِ شمشیر یا کسی دوسرے زور سے کفر کی اشاعت کرے تو وہ کمالِ کفر کے دوسرے مرتبہ کی بھی تحصیل کرلیتا ہے۔ اور ان دونوں کو جمع کرنے کے بعد اس کیلئے کمال کا کوئی اور درجہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اسی طرح مومن اگر خود اپنے عقیدۂ ایمان میں راسخ اور اطاعت حق میں کامل ہوتو وہ کمالِ ایمان کے پہلے مرتبے پر فائز ہوگا اور اگر اس میں یہ صفت اتنی شدید ہوجائے کہ وہ دوسروں میں بھی ایمان و اطاعت حق کی تبلیغ و اشاعت کرنے لگے اور دوسروں میں بھی اپنی زبان و قلم، اپنے کیریکٹر، اپنے برتاؤ کے اثر اور اپنے دست و بازو کی جدوجہد سے اسلام اور اطاعت حق کی صفت پیدا کر دے تو اس کو کمال ایمان کا دوسرا درجہ بھی حاصل ہوجائے گا اور اس کے بعد وہ پورا مومن کہلائے جانے کا مستحق ہوگا۔
اس مضمون کو سورۂ آل عمران کے دسویں اور گیارہویں رکوع میں بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پہلے فرمایا : ’’کہو! اے اہل کتاب تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟‘‘ (آل عمران:98)
پھر فرمایا: ’’کہو اے اہل کتاب یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے، اسے بھی تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو؟‘‘(آل عمران:99)
یہ دونوں آیات صاف طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کفر کا پہلا کمال آیاتِ الٰہی کا خود منکر ہونا ہے اور دوسرا کمال اس کی اشاعت کرنا اور لوگوںکو خدا کے سیدھے راستے سے روکنا اور اعتقاد و عمل کے ٹیڑھے راستے ان کے سامنے پیش کرنا ہے۔
اس کے بعد مومنوں سے خطاب شروع ہوتا ہے، اور ان سے بھی دو باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک یہ ہے:
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو، سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ (آل عمران:102-103)
دوسرے یہ کہ ’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں، جو لوگ یہ کام کریں گے، وہی فلاح پائیں گے‘‘۔ (آل عمران:104)
یہاں ایمان کے بھی دو درجے بتا دیئے ہیں۔ پہلا درجہ تو یہ ہے کہ مومن اللہ سے ڈرنے والا ہو اور مرتے دم تک اوامر الٰہی کا مطیع رہے اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رکھے۔ اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے دوسرے ابنائے نوع کو بھی نیکی کی طرف بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے۔
پھر کمال ثانی کے اندر بھی بہت سے مراتب ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ موم بتی، بجلی کا قمقمہ، چاند اور سورج، سب پر منیر اور روشن گر ہونے کا اطلاق ہوتا ہے مگر روشن گری میں ان کے مدارج متفاوت ہیں۔ موم بتی صرف ایک حجرے کو روشن کرسکتی ہے ۔ بجلی کے قمقمے کی روشنی ایک بڑے مکان کی حد تک پھیل سکتی ہے۔ چاند کی روشنی زمین اور اس کے ارد گرد کی فضا تک محدود ہے، مگر سورج ایک عالَم کو اپنی روشنی سے چمکا رہا ہے اور ہمارا پورا نظام شمسی اس کی روشنیوں سے منور ہے۔ اسی طرح مومن اگر اپنے جیسے ایک انسان کے دل میں بھی ایمان کی شمع روشن کردے تو وہ کمال ثانی کے مرتبہ میں داخل ہوجائے گا، لیکن یہ اس کمال کا پہلا درجہ ہوگا۔ پھر ایک جماعت، ایک قوم، ایک ملک میں دعوت الی الخیر کے مدارج ہیں۔ اور آخری درجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت الی الخیر تمام عالم انسانی کیلئے عام ہو، وہ ساری دنیا کو نیکی کی طرف بلائے، پورے ربع مسکوں میں اللہ کا فوجدار بن جائے، بدی اور منکر جہاں بھی ہو اس کے استیصال کیلئے آستین چڑھائے اور اپنے آپ کو کسی خاص برادری، کسی خاص قوم، کسی خاص ملک اور کسی خاص نسلی یا جغرافی حد کے اندر محدود نہ سمجھے۔ یہ کمال ایمان کا سب سے بڑا اور اونچا درجہ ہے اور چونکہ حضرت حق جل مجدہ نے ہر معاملہ میں مسلمانوں کے سامنے ایک بلند مطمحِ نظر پیش فرمایا ہے اور کسی جگہ پست حوصلگی کی تعلیم نہیں دی، اس لئے آگے چل کر بارہویں رکوع میں صاف فرما دیا کہ مسلمان کا شخصی اور قومی نصب العین و مقصد حیات یہی ہے کہ وہ تمام عالم کو خدا کی شریعت کا محکوم بنانے کی کوشش کرے:
’’دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو، جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔ (آل عمران:110)
آیت ’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃً …‘ الخ، کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے اور اختلاف کا منشا لفظ مِنْکُمْ ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ من یہاں تبعیض کیلئے نہیں بلکہ تبیین کیلئے آیا ہے اور دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں وہ تبعیض ہی کیلئے آیا ہے۔
پہلے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کیا ہے، جیسا کہ فرمایا: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ… الخ، اور حقیقت میں ہر مکلف ہستی پر واجب ہے کہ وہ نیکی کا حکم دے اور بدی کو دفع کرے خواہ ہاتھ سے کرے یا زبان سے کرے یا اور کچھ نہ ہوسکے تو قلب ہی سے کرے، لہٰذا آیت کے معنی یہ ہیں کہ ’’تم ایسی امت ہوجاؤ جو خیر کی طرف بلاتی اور برائی سے روکتی ہو‘‘ کیونکہ من یہاں تبیین کیلئے اور اس کی مثال یہ آیت ہے:
فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ’’(پس بتوں کی گندگی سے بچو) نہ یہ کہ بتوں میں سے اس چیز سے بچو جو گندگی ہے‘‘۔ (الحج:30)
دوسرا گروہ کہتا ہے کہ من یہاں تبعیض کیلئے آیا ہے اور اس کے دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں میں ایک بڑا حصہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مریضوں پر مشتمل ہے جو دعوت الی الخیر اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے واجبات ادا نہیں کرسکتا۔ دوسرے یہ کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیلئے کچھ شرائط ہیں جو ہر شخص میں نہیں پائی جاتیں۔ اس کیلئے خیر اور معروف کا صحیح علم درکار ہے۔ اس کیلئے حکمت اور عقل کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے لازم ہے کہ آدمی پہلے خود کمال درجے کا متقی اور پرہیزگار ہو، تب لوگوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی دعوت دے۔
مگر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں تامل کرنے سے یہ اختلاف بہ آسانی دور ہوسکتا ہے۔
ہم نے اوپر کلام اللہ سے مومن کیلئے دو کمال ثابت کئے ہیں، ان میں سے پہلا کمال یعنی خوفِ خدا اور اوامر الٰہیہ کے آگے سر جھکا دینا اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رہنا تو ذات مومن کے ساتھ صفت ایمان کے نفسِ قیام کیلئے ضروری ہے۔ لہٰذا ہر مومن میں اس کمال کے کسی نہ کسی مرتبے کا متحقق ہونا لابد ہے کہ اگر وہ اس میں نہ ہو تو وہ مومن ہی نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر چراغ میں روشنی نہ ہو تو وہ چراغ ہی نہ ہوگا۔ اگر برف میں سردی نہ ہو تو وہ برف ہی نہ ہوگی۔ اگر آگ میں گرمی نہ ہو تو وہ آگ ہی نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو خطاب کرکے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے:
’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔ (آل عمران:102)
’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ (آل عمران:103)
اس آیت میں تبعیض کا نام و نشان تک نہیں بلکہ عموم کے ساتھ تاکید ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان میں لازمی طور پر یہ صفات ہونی چاہئیں۔ (ماخوذ از: تفہیمات اوّل) (جاری)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں