every-generation-brings-new-language-self-determination-noor-al-hasnain-khursheed-hayat-manuu-urdu-language

ہر نسل نئی زبان و اسلوب خود لے کر آتی ہے: نور الحسنین شعبہ اردو مانو میں ممتاز فکشن نگار کا اظہار خیال، خورشید حیات کی بھی شرکت

ہر نسل نئی زبان و اسلوب خود لے کر آتی ہے: نور الحسنین
شعبہ اردو مانو میں ممتاز فکشن نگار کا اظہار خیال، خورشید حیات کی بھی شرکت

حیدرآباد، 28 مارچ (آئی این ایس انڈیا)

افسانہ نگاروں کی نئی نسل سے بڑی توقعات ہیں۔ نئے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں کے یہاں ہمیں عصری زندگی کے مسائل کا گہرا شعور نظرآتاہے اور لسانی سطح پر ان کے اسلوب میں بھی کوئی خامی نہیں ملتی۔ ہر نسل اپنی زبان اور اپنی لفظیات خود لے کر آتی ہے۔ نئے لکھنے والوں کی زبان اور اس کے ترسیلی پیکروں میں تازگی اور ندرت کا احساس ہوتاہے۔ یقین ہے کہ یہ نسل اردو فکشن کو بہت آگے تک لے جائے گی۔ اردو افسانہ اور نئے لکھنے والوں کے بارے میں ان خیالات کا اظہار اردو کے ممتاز فکشن نگار نور الحسنین نے کیا جنھوں نے آج شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (حیدرآباد)میں ’تخلیق کار سے ملیے‘ پروگرام میں بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ابتدا میں پروفیسر نسیم الدین فریس ، صدر شعبہ ٔ اردو نے مہمانوں کا استقبال کیا‘ ڈاکٹر مسرت جہاں نے شعبے کا تعارف پیش کیا۔ جناب نورالحسنین نے اپنے تخلیقی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ افسانہ نگاری کے بعد انھوں نے ناول نگاری کا آغاز کیوں اور کس طرح کیا اور ناول لکھنے کے لیے وہ کس طرح کی تیاری کرتے ہیں اور کس طرح تاریخ کو معاصر زندگی تک لے آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے نئے ناول ’’ تلک الایام ‘‘ کے پلاٹ اور کرداروں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس اجلاس میں طلبا نے اپنی تخلیقات بھی پیش کیں۔ شبلی آزاد(ایم اے سالِ اول)، امرناتھ ( پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر) اور محمد نہال افروز ( پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر) نے اپنے افسانے سنائے۔ مہمانِ اعزازی جناب خورشید حیات نے افسانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان افسانوں کے موضوعات سماج اور عصری زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔تخلیق کار لفظ کو معنی کی نئی دنیا میں لے جاتاہے جو لغوی معنی سے مختلف ہوتی ہے۔ انھوں نے طلبا کی تخلیقات پر ان کو مبارک باد دی۔ اس پروگرام میں شعبے کے اساتذہ پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر وسیم بیگم، ڈاکٹر شمس الہدی دریا بادی، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون، ریسرچ اسکالرس اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کی کاروائی ریسرچ اسکالر محمد نہال افروزنے چلائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں