unity-undecided-phone-workers-taking-feedback-congress-party-differences

آپ سے اتحاد پر تذبذب ؟ فون پر کارکنوں سے رائے لے رہی کانگریس، پارٹی میں اختلافات

آپ سے اتحاد پر تذبذب ؟ فون پر کارکنوں سے رائے لے رہی کانگریس، پارٹی میں اختلافات

نئی دہلی، 14 مارچ (آئی این ایس انڈیا)

دہلی کے وزیر اعلی اروندکجریوال مسلسل کانگریس کے ساتھ ریاست میں اتحاد کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں کانگریس کی ریاستی یونٹ اس کی مخالفت میں ہے۔ایسے میں اب پارٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بوتھ لیول کے کارکنوں کی رائے لے گی۔پارٹی کارکنوں سے پوچھا جائے گا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد ہو یا نہیں،کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ دہلی کی کانگریس انچارج پی سی چاکو کی آواز میں ایک میسیج ریکارڈ کیا جائے گا اور کانگریس کے ہزاروں کارکنوں سے فون پرآئی وی آر کے ذریعے اتحاد کو لے کر رائے مانگی جائے گی۔اس دوران کانگریس کی دہلی ریاستی صدر شیلا دکشت نے ایسے کسی سروے کی معلومات نہ ہونے کی بات کہی ہے۔شیلا سے جب چاکو کے اس سروے کے بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کی معلومات میں نہیں ہے۔آپ لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ شیلا دکشت کے بیان سے صاف ہے کہ کانگریس اتحاد کو لے کر الجھن میں ہے۔اس دوران کانگریس کے ریاستی صدر اجے ماکن کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں اتحاد کے معاملے پر کانگریس دوگروپ دکھائی دیتی ہے۔ماکن نے کہا کہ 52000 کارکنوں سے طاقت ایپ کے ذریعے سروے کیا جا رہا ہے۔اس کی نگرانی براہ راست راہل گاندھی کے پاس ہے اور اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کے حکم سے ہی یہ سروے ہو رہا ہے۔سروے پر کوئی سوال اٹھاتا ہے تو یہ سیدھے طور پر راہل گاندھی پر سوال ہے۔ماکن کا یہ اشاروں میں شیلا دکشت کے اس تبصرہ پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں سروے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔وہیں ’آپ‘ کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی ریاست میں ان کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کے بہانے تلاش رہی ہے۔آپ کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہاکہ پہلے انہوں نے اس بات کو مسترد کردیا کہ وہ آپ کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کر رہے ہیں۔اس کے بعد جب یہ بات عوام کے سامنے آ گئی تو انہوں نے صوبہ یونٹ کا نام لے کر بچنے کی کوشش کی،اب وہ بوتھ لیول کارکنوں سے رائے لینے کی بات کہہ کر اتحاد نہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔دراصل کانگریس پارٹی واقعی میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر رہی ہے، تاکہ غیر بی جے پی ووٹ تقسیم ہو جائے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کانگریس کے بوتھ لیول کے کارکنوں سے کسی مسئلے پر رائے لی گئی ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پارٹی لیڈر اجے ماکن نے دہلی کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفی دیا تھا، اس وقت بھی اس طرح کی کوشش کی گئی تھی۔پارٹی نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں وزیر اعلی کے نام کا انتخاب کرنے سے پہلے بھی پارٹی کارکنوں سے رائے لی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں