rafael_case-decide-first-objections-first_center

رافیل معاملہ: پہلے مرکز کے ابتدائی اعتراضات پر کورٹ فیصلہ کرےگا

رافیل معاملہ: پہلے مرکز کے ابتدائی اعتراضات پر کورٹ فیصلہ کرےگا

نئی دہلی، 14 مارچ (آئی این ایس انڈیا)

سپریم کورٹ نے جمعرات کو واضح کیا کہ رافیل لڑاکا طیارے سودے کے حقائق پر غور کرنے سے پہلے وہ مرکزی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے ابتدائی اعتراضات پر فیصلہ کرے گا۔چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے مرکز کے ان ابتدائی اعتراضات پر سماعت مکمل کی کہ رافیل طیارے سودا معاملے میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے والے غیر قانونی طریقے سے حاصل شدہ مخصوص خفیہ دستاویزات کو بنیاد نہیں بنا سکتے ہیں،یہ بعد میں پتہ چلے گا کہ اس معاملے پر عدالت اپنا حکم کب سنائے۔عدالت کے حکم پر نظر ثانی کی درخواست کرنے والے درخواست گزاروں سے بنچ نے کہا کہ وہ سب سے پہلے لیک ہوئے دستاویزات کی منظوری کے بارے میں ابتدائی اعتراضات پر توجہ دیں۔بنچ نے کہاکہ مرکز کی طرف سے اٹھائے گئے ابتدائی اعتراضات پر فیصلہ کرنے کے بعد ہی ہم کیس کے حقائق پر غور کریں گے۔ اس سے پہلے کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی مرکز کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے فرانس کے ساتھ ہوئے رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے سے متعلق دستاویزات پر استحقاق کا دعوی کیا اور عدالت سے کہا کہ متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی انہیں عدالت میں پیش نہیں کر سکتا۔وینو گوپال نے اپنے دعوے کی حمایت میں ثبوت قانون کی دفعہ 123 اور حق اطلاعات قانون کی دفعات کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی دستاویز کوئی پوسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ ملک کی سیکورٹی بہت سخت ہے۔عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرنے والے درخواست گزاروں میں سے ایک وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ رافیل سودے کے دستاویزات، جن پر اٹارنی جنرل استحقاق کا دعوی کر رہے ہیں، شائع ہو چکے ہیں اور یہ پہلے سے عوامی دائرے میں ہیں۔ایک اور درخواست گزار سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے کہا کہ وہ مرکز اور اٹارنی جنرل کا یہ کہنے کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ یہ فوٹوکاپی ہیں جو ان دستاویز کا صحیح ہونا ثابت کرتا ہے۔بھوشن نے کہا کہ حق اطلاعات قانون کی شق کہتی ہے کہ مفاد عامہ دیگر باتوں سے بہت سخت ہے اور خفیہ کاری کی ایجنسیوں سے متعلق دستاویزات کے علاوہ کسی بھی دیگر دستاویزات پر استحقاق کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔بھوشن نے کہا کہ رافیل طیاروں کی خریداری کے لئے دو حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ فرانس کی حکومت نے 58000 کروڑ روپے کے اس سودے میں ہندوستان کو کوئی خود مختار ضمانت نہیں دی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی پریس کونسل قانون میں صحافیوں کے ذریعہ تحفظ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ایک اور درخواست گزار ونیت ڈھاڈا کی جانب سے سینئر وکیل وکاس سنگھ سے کہا کہ حکومت ان دستاویزات پر استحقاق کا دعوی نہیں کر سکتی ہے۔عدالت عظمی نے گزشتہ سال 14 دسمبر کو رافیل طیارے سودے میں مبینہ بے قاعدگیوں کی وجہ سے اسے منسوخ کرنے اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے دائردرخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ رافیل سودے کے لئے فیصلہ سازی کے عمل پر عملی طور پر کسی قسم کا شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اس فیصلے کے بعد یشونت سنہا، ارون شوری اور پرشانت بھوشن کے علاوہ ایڈووکیٹ ونیت ڈھاڈا نے نظر ثانی درخواست دائرکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں