2019_loksabha_elections-mayawati-meet-candidates-not-confidential

2019 لوک سبھا انتخابات: مایاوتی نے میٹنگ کی، امیدواروں کے نام پر نہیںابھی خفیہ

2019 لوک سبھا انتخابات: مایاوتی نے میٹنگ کی، امیدواروں کے نام پر نہیںابھی خفیہ

لکھنؤ، 14 مارچ (آئی این ایس انڈیا)

بہوجن سماج پارٹی صدر مایاوتی نے جمعرات کو لوک سبھا انتخابات کے لئے اپنے 38 امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی۔سیاسی گلیاروں میں پہلے ایسی بحث تھی کہ مایاوتی امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر سکتی ہیں لیکن اس پر انہوں نے اپنے پتے نہیں کھولے۔بی ایس پی نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ پارٹی اب سماجوادی پارٹی کے اعلی قیادت سے اس بارے میں بحث کرے گی۔مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پورے تن، دماغ اور دولت کے ساتھ بی ایس پی، ایس پی اور آر ایل ڈی کے اتحاد کو جتائیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران بی جے پی نہ صرف نسل پرست، فرقہ وارانہ اور غریب مخالف پارٹی ہے بلکہ دھوکہ، پیسہ، خوف، امتیاز کا استعمال کرکے الیکشن جیتنے میں یقین کرتی ہے۔مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں بی ایس پی-ایس پی بہتر متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ ملک بھر میں بی جے پی کی حالت خراب ہے اور اقتدار جانے کا ڈر بی جے پی قیادت کو ستانے لگا ہے۔بی جے پی کی موجودہ مرکزی حکومت واقعی جھوٹے وعدوں اور وعدہ خلافی کی سرتاج نکلی۔بی جے پی کے راج میں عوام مہنگائی کی مار جھیل رہی ہے۔مایاوتی نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات کے دوران ای وی ایم پر خاص طور پر توجہ رکھیں۔بتا دیں کہ یوپی میں جہاں سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے اپنے بہت سے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے، وہیں بی ایس پی نے اب تک اپنا پتی نہیں کھولا ہے۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی طویل وقت سے لکھنؤ میں ہی ہیں،اس کے بعد سے وہ مسلسل میٹنگیں کر رہی ہیں۔یوپی میں ہی زیادہ وقت دینے کے لئے انہوں نے اپنی رہائش گاہ کو مرکزی کیمپ آفس میں بھی تبدیل کر دیا ہے،ابھی تک یہیں سے وہ دوسری ریاستوں کی میٹنگیں بھی لے رہی تھیں۔یہیں پر جمعرات کو انہوں نے سینئر لیڈران کے علاوہ یوپی کے کوآرڈنیٹرو کی میٹنگ بلائی تھی،اگرچہ پارٹی نے انچارج کے نام پہلے ہی طے کر دیئے تھے،اس کے بعد سے وہ انتخابی مہم میں بھی ہیں لیکن امیدواروں کی سرکاری فہرست جاری نہیں کی تھی۔ریاست میں پہلے مرحلے کا اندراج 18 مارچ سے شروع ہونا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ کچھ انچارج کے نام اس لسٹ سے کٹ سکتے ہیں اور ان کی جگہ کسی دوسرے کو امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے۔بتا دیں کہ یوپی میں سات مراحل (11 اپریل -19 مئی) میں لوک سبھا انتخابات ہو رہے ہیں،23 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں