turkey-israel-netanyahu-rajab_tayyab_erdogan-trade

ایردگان اور نیتن یاہو کے درمیان الفاظ کی جنگ مگر “تجارت” بدستور قائم

ایردگان اور نیتن یاہو کے درمیان الفاظ کی جنگ مگر “تجارت” بدستور قائم

دبئی،14؍مارچ( – العربیہ )

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات میں گزشتہ دو روز کے دوران شدید گرما گرمی دیکھی گئی۔

ایردوآن نے بدھ کے روز اپنی انتخابی میں گفتگو کے دوران نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کو لٹیرا اور سرکش قرار دیا۔

ادھر نیتن یاہو نے ٹویٹر پر جواب دیتے ہوئے ترکی کے صدر کو ایک آمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ “وہ لاکھوں سیاسی مخالفین کو جیل بھیج رہے ہیں اور کردوں کے خلاف اجتماعی نسل کشی کی کارروائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے شمالی قبرص پر قبضہ بھی کر رکھا ہے”۔

اس سے قبل ایردوآن نے منگل کے روز اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کے حرم قدسی کو بند کرنے کے اقدام پر تنقید کی۔ انہوں نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “تم ایک سرکش ہو جو سات سالہ فلسطینی بچے کی بھی جان لے رہا ہے”۔

اس کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ “ایردوآن ہم سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کا احترام اور انسانی حقوق کی حفاظت کس طرح کی جاتی ہے”۔

نیتن یاہو نے ایردوآن کو ایک آمر قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو جیل بھیجنے کے حوالے سے ترکی پر شدید تنقید کی۔

یاد رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان پرانے تعلقات ہیں مگر حالیہ چند برسوں میں ان میں کشیدگی آ گئی ہے۔ گزشتہ برس موسم گرما کے اواخر میں دونوں سابق حلیف ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کے واسطے کوششیں کی گئیں تاہم بعد ازاں تعلقات نئی “کشیدگی” کا شکار ہو گئے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر چھائی حالیہ کشیدگی کے باوجود ترکی نے گزشتہ برس موسم گرما کے دوران تل ابیب میں اپنے سفارت خانے میں تجارتی اتاشی کو مقرر کیا۔ یہ عہدہ گزشتہ تین برس سے خالی تھا۔ ترک اتاشی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کی سطح بڑھانے کے واسطے سرگرم ہے۔

اسرائیلی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان آخری چند برسوں میں تجارتی تبادلہ 5.5 ارب ڈالر تک گیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آخری تین برسوں میں یہ توازن ترکی کے حق میں جا رہا تھا جب کہ اس سے قبل یہ اسرائیل کے حق میں تھا۔ سال 2014 میں تجارتی تبادلہ 5.5 ارب ڈالر رہا۔ ان میں ترکی کی اسرائیل کو برآمدات 2.7 ارب ڈالر تھیں جب کہ اسرائیل سے درآمدات کی قیمت 2.8 ارب ڈالر رہی۔ سال 2015 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلہ 4.1 ارب ڈالر رہا۔ ان میں اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات 2.4 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات کا حجم 1.7 ارب ڈالر تھا۔ اسرائیل سے درآمدات کا حجم کم ہونے کا سبب یہ تھا کہ ترک حکام نے 2015 میں اسرائیلی کمپنیوں کو حکومتی ٹینڈروں میں شریک ہونے سے روک دیا تھا۔

سال 2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلہ کم ہو کر 3.9 ارب ڈالر رہا۔ اس میں ترکی کی اسرائیل کو برآمدات 2.6 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات 1.3 ارب ڈالر تھیں۔ سال 2017 میں دونوں ملکوں کے بیچ تجارتی تبادلہ بڑھ کر 4.3 ارب ڈالر ہو گیا۔ ان میں اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات کا حجم 2.9 ارب ڈالر جب کہ اسرائیل سے درآمدات کا حجم 1.4 ارب ڈالر تھا۔

البتہ سال 2018 میں ترکی نے اسرائیلی برآمدات کو پابندیوں سے آزاد کرنا شروع کر دیا۔

ستمبر 2018 میں اسرائیل کے ٹیلی کمیونی کیشن کے وزیر یسرائیل کیٹس نے کہا تھا کہ “ہم ترکی کے صدر کے ساتھ باہمی بقا کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اگرچہ وہ خود کو دنیا بھر میں (الاخوان المسلمين کا) قائد سمجھتے ہیں۔ وہ عالم اسلام کی قیادت کی کوشش کر رہے ہیں مگر ترکی کے ساتھ ہماری تجارت کا حجم بہت بڑا ہے جو کہ ان کوششوں سے متاثر نہیں ہوا ،، بلکہ اس کے برعکس ترکی کی فضائی کمپنیاں اسرائیل آمد و رفت کے لیے سب سے زیادہ سرگرم کمپنیاں ہیں۔ تجارتی تبادلے کے حجم اور حیفا کے راستے سامان کی منتقلی میں ،،، تعلقات کی بحالی سے پہلے ہی کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں