kartarpur_corridor-pakistan-india-talks

کرتار پور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات

کرتار پور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات

لاہور 14مارچ ( آئی این ایس انڈیا )

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تناؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے جمعرات کو کرتار پور راہداری کی تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات امرتسر کے قریب بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہو رہے ہیں جس میں پاکستان کا وفد وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل کی سربراہی میں شریک ہے۔جمعرات کو مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل واہگہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کرتار پور راہداری سے نہ صرف سکھ برادری کو سہولت ملے گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہو گا۔گزشتہ ماہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے۔اگرچہ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی لیکن یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری انتہائی کشیدہ صورتِ حال کے باوجود یہ مذاکرات منسوخ نہیں کیے گئے۔واگہہ بارڈر پر صحافیوں سے گفتگو میں پاکستانی وفد کے سربراہ نے واضح کیا کہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے پر صرف کرتار پور راہداری کا معاملہ ہی ہے اور اِس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہو گی۔بھارت جانے والے پاکستانی وفد میں دفترِ خارجہ، وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ مواصلات، متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارتِ قانون کے نمائندے شامل ہیں۔ وفد مذاکرات کی تکمیل پر جمعرات کی شام ہی وطن واپس آجائے گا۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ راہداری کے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور 28 مارچ کو ہوگا جس میں شرکت کے لیے بھارتی وفد پاکستان آئے گا۔کرتار پور پاکستان کی سرحد کے اندر واقع سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا ایک مقدس مقام ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کرتار پور کی زیارت کے خواہش مند بھارتی سکھوں کو کرتار پور کے لیے ویزہ فری اینٹری اور ان کی آمد و رفت کے لیے گوردوارے سے سرحد تک راہداری بنانے کا اعلان کیا تھا۔پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد گزشتہ برس نومبر میں رکھا تھا جس کی تکمیل اِس سال نومبر میں متوقع ہے۔کرتار پور راہداری منصوبے کے تحت دونوں ملک اپنی حدود میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلومیٹر طویل سڑک بنائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں اطراف منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کے لیے تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں