iran-oils-vessel-ships-active-search

ایران استعمال شدہ تیل بردار جہازوں کی تلاش میں سرگرم

ایران استعمال شدہ تیل بردار جہازوں کی تلاش میں سرگرم

لندن 14مارچ ( آئی این ایس انڈیا )

ایران اور مغربی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نئے تیل بردار جہازوں کی خریداری کے معاملے میں محتاط انداز میں کام کررہا ہے۔ اس وقت ایران کی ترجیح استعمال شدہ تیل بردار جہاز ہیں جنہیں ایران کے پرانے بحری بیڑے میں شامل کرکے امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے ایرانی تیل کی برآمدات کو جاری رکھنا ہے۔خبر رساں ادارے’رائیٹرز’ کیمطابق گذشتہ برس نومبر میں جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر سابقہ پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان 10 نئے تیل بردار بحری جہازوں کے کے بارے میں مذاکرات جاری تھے،مگر امریکی پابندیوں کے بعد سیول اور تہران کے درمیان نئے بحری جہازوں کی بات چیت روک دی گئی تھی۔ اسی طرح ایران اور پاناما کے درمیان 21 نئے بحری جہازوں کی ایرانی بحری بیڑے میں شمولیت کی بات چیت جاری تھی۔ پاناما کے ساتھ بھی مذاکرات ختم ہوگئیہیں۔ ایران اب ویتنام جیسے ممالک کی طرف متوجہ ہے تاکہ ان سے استعمال شدہ بحری جہاز خرید کیے جاسکیں۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ تیل ایرانی معیشت میں کل قومی پیدوار کا 70 فی صد ذریعہ آمدن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیے محفوظ بحری بیڑہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اب کی بار استعمال شدہ بحری جہاز بھی ایران کو ملنے مشکل ہیں کیونکہ استعمال شدہ جہاز فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد بہت حد تک محتاط ہوگئی ہیں۔ ایرانی تیل کی درآمدات وبرآمدات پرامریکی پابندی کے بعد عالمی کمپنیوںکو بلیک لسٹ کیے جانے کاخدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ تیل بردار جہازوں کی خریدو فروخت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ایران میں تیل کی یومیہ پیداوار 28 لاکھ بیرل ہے گر عالمی سطح پر ایرانی تیل کی خریداری کم ہونے کے باعث تیل کی پیدوار بھی کم ہوئی ہے۔ ایرانی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس لیے امریکی پابندیوں کے بعد ایران پر سخت معاشی دبائو آیا ہے۔تیل کے امور کے تجزیہ نگار مھدی فارزی کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیوں کو ڈر ہے کہ اگر انہوںنے ایران کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کیا تو اس کے نتیجے میں امریکہ انہیں عالمی مالیاتی نظام سے الگ کردے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین جیسے ممالک کی کمپنیاں بھی امریکی پابندیوں سے بچنے کے لییایران کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں