cricket-politics-interesting-match

کرکٹ اور سیاست میں دلچسپ مماثلت

کرکٹ اور سیاست میں دلچسپ مماثلت

ڈاکٹر سلیم خان

آرون فنچ کی کپتانی میں پہلی بار آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم اسی طرح ہندوستانی میدان میں اتری جس طرح راہل گاندھی نے بی جے پی سے لوہا لینے کے لیے پہلی بار قیادت سنبھالی ہے ۔ یہ پانچ میچوں کی سیریز تھی جیسے مودی سرکار کے پانچ سال ۔ ان میں سے پہلے دو سال توبڑے مزے سے گزرگئے اورسنگھ پریوار ۲۵ سالوں تک حکومت کرنے کا خواب دیکھنے لگے ۔ وراٹ کوہلی نے بھی سیریز کے پہلے دو میچ بہ آسانی جیت لئے ۔ اس کے بعد جب تیسرا سال آیا تو مودی جی نے نوٹ بندی کردی ۔ یہ ان پہلی شکست تھی اتفاق سےوراٹ بھی سیریز کا تیسرا میچ ہار گیا لیکنفکر کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ ۲ کے مقابلے ایک کا تفوق حاصل تھا۔ اس کے بعدچوتھا میچ بھی کوہلی ہار گئے ۔ یہ جی ایس ٹی کا سال تھا ہندوستانی عوام اس دوسرے جھٹکے سےدہل گئے ۔ بازار میں مندی پھیل گئی ۔ کسان اور بیروزگار بے چین ہوگئے حکومت نےاسکور بورڈ بند کردیا یعنی سرکاری اعدادو شمار کی اشاعت پر روک لگا دی۔ یہ شتر مرغ کی مانند ریت میں سر چھپانے والی حرکت تھی۔سیریز برابر ہوچکی تھی اور اب پانچ صوبوں میں انتخاب ہونے تھے۔ ان میں سے تین راہل نے جیت لیے اور وراٹ کوہلی ورلڈ کپ سے قبل اپنی آخری سیریز ہارگئے۔ کیا انتخابات اور سیاست میں کوئی مماثلت نہیں ہے؟
مودی جی پہلی بار کے شوقین ہیں ۔ کسی کام کو جب وہ پہلی بار نہیں کرپاتے ہیں تو اس کو نیا نام دے دیتے ہیں ۔ جس طرح وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس سے قبل بی جے پی کبھی بھی انتخابی شکست سے دوچار نہیں ہوئی اسی طرح وراٹ کوہلی کی ٹیم انڈیا بھی سرزمین ہند پر پہلے کبھی نہیں ہاری تھی۔ ناقابلِ تسخیر کوہلی نے اپنے ملک میں شکست مزہ پہلی مرتبہ چکھا ہے۔ آسٹریلیا اور ہندوستان اس سے قبل ۱۸۲ یکروزہ میچ کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ آسٹریلیا پہلے دو میچ ہارنے کے بعد کو ئی سیریز جیت سکا اور ہندوستان پہلے دو کھیلوں میں سبقت لے جانے کے بعد ہار گیا۔ مودی جی کو اس سانحہ سے درسِ عبرت لینا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پچھلے دو سالوں میں پے درپے ۶ سیریز اور چمپین ٹرافی ہارنے کے بعد آسٹریلیا کے حصے میں یہ فتح آئی ہے۔ اس حقیقت پر کانگریس کو یکے بعد دیگرے شکست دے کر بھارت مکت کرنے والے شاہ جی کو توجہ دینی چاہیے۔ اسی سال ہندوستان آسٹریلیا کے اندر جاکر اسے ۲ کے مقابلے ایک میچ سے شکست دے چکا ہے۔ کرکٹ کی مانند سیاست کا موسم بدلنے میں بھی وقت نہیں لگتا۔۲۰۱۷؁ میں تو ہندوستان نے آسٹریلیا کو ایک کے مقابلے ۴ سے شکست دی تھی۔ وہ مودی کے عروج کا زمانہ تھا اور یہ وراٹ کے زوال کا دور ہے۔
آخری اور فیصلہ کن کھیل میں آسٹریلیا نےٹاس جیتا جیسے صوبائی انتخاب میں کامیابی کانگریس کے حصے میں آئی ۔ آسٹریلیوی ٹیم نے ہندوستان کے سامنے ۲۷۲ کا ہدف رکھا۔ ۲۷۲ سے کچھ یاد آیا ؟ حسن اتفاق سے ایوان پارلیمان میں معمولی اکثریت حاصل کرنے کا یہی نشانہ ہے۔ ہندوستان کے لیے جس میں مہندر سنگھ دھونی ،وراٹ کوہلی ، شیکھر دھون اور روہت شرما جیسے نامور کھلاڑی ہیں یہ کوئی بہت بڑا ہدف نہیں تھا ۔ بی جے پی کے اندر بھی مودی اور شاہ کے علاوہ راجناتھ سنگھ ، سشما سوراج اور نتن گڈکری جیسے نہ جانے کتنے ستارے بھرے پڑے ہیں لیکن چوتھے کے بعد اس میچ میں بھی سابق کپتان دھونی کو واپس نہیں بلایا گیا۔ تیسرے کھیل میں ۱۲۳ رن بنانے کے بعد وراٹ کوہلی ایسے جوش میں آئے تھے کہ ہارکا غصہ دھونی پر اتار کر انہیں مارگ درشک منڈل میں بھیج دیا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخاب میں مودی جی اپنے سابقین میں سے کس کس کا ٹکٹ کاٹتے ہیں ؟ اس فیصلہ کن میچ میں ۵۶ رن بنانے والےروہت شرما کے علاوہ کوئی نصف سنچری بھی نہیں بنا پایا۔ روہت کے اسکور پر اگر ۵۶ انچ کا سینہ یاد نہ آئے تو حیرت ہے لیکن یہ میچ میں کامیابی کے لیے کافی نہیں تھا۔ بیچارہشیکھر دھون صرف ۱۲ رن بناسکا اور کپتا ن وراٹ کوہلی ۲۰ سے آگے نہیں جاسکے۔ بھارت کے وراٹ سمراٹ کو اس آئینے میں اپنا رخ روشن دیکھ لینا چاہیے۔
ہندوستان اور آسٹریلیا کے بیچ اس سیریز کا ٹرننگ پوائنٹ تیسرا میچ تھا ۔ اس موقع پر ہندوستان کے حوصلے بہت بلند تھے اس لیے کہ وہ دو میچ کی بڑھت بناچکا تھا اور آسٹریلیا ہنوز کامیابی سے محروم تھا۔ ایسے میں اچانک ٹیم کے اندر نہ جانے کیوں دیش بھکتی جاگ گئی یا جگائی گئی۔ یہ میچ پلوامہ حملہ کے ۲۵ دن بعد ۸ مارچ کو ہوا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سیریز کا آغاز ہی پلوامہ حملے کے بعد ہوا تھا اس لیے اگر اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعزیت مقصود ہوتی تو پہلے ہی میچ میں یہ ہو سکتی تھی۔ عام طور پر ایسے پرموقع پر کالی پٹی ّ باندھ کر کھلاڑی اپنے غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن اس کامیابی کو تو سرجیکل اسٹرائیک سے جوڑنا مقصود تھااس لیے مہندر سنگھ دھونی کے ذریعہ کھلاڑیوں میں فوجی ٹوپیاں تقسیم کروائی گئیں ۔ اس میچ میں وراٹ کوہلی نے سنچری بنائی اس کے باوجود ٹیم ہار گئی۔ مودی جی کو پتہ ہونا چاہیے کہ پارلیمانی جمہوریت صرف کپتان کی کارکردگی سے کام نہیں چلتا بلکہ ٹیم کو کا میاب ہونا پڑتا ہے۔ اس دیش بھکتی کے بعد مہندر سنگھ دھونی بقیہ دو میچوں میں نظر نہیں آئے۔
بی سی سی آئی فی الحال عالمی کپ میں بھی پاکستان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتا لیکن پاکستانیوں سے اس کا پیچھا نہیں چھوٹتا۔ آسٹریلیا کی ٹیم میں فی الحال عثمان خواجہ نام کا ایک پاکستانی نژاد کھلاڑی ہے ۔ وہ پہلے ہی میچ میں ۵۰ رن بناکر اپنی اہمیت کا احساس دلا چکا تھا لیکن دوسرے میں صرف ۳۸ پر آوٹ ہوگیا۔ تیسرے میچ میں جب ہندوستانی کھلاڑی فوجی ٹوپی لگا کر کھیل رہے تھے اس کی حب الوطنی جاگ گئی اور اس نے سنچری لگا دی ۔ اس کے نتیجے میں آسٹریلیا کی ٹیم نے ۳۱۳ رن کا پہاڑ کھڑا کردیا۔ ۳۱۳ کی اہمیت سے بھی امت کا بچہ بچہ واقف ہے ۔ اس اسکور کےآگے بھارت کے شیر ۲۸۱پر ڈھیر ہوگئے اور سیریز کا نقشہ بدلنے لگا ۔ چوتھے میچ میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ہندوستان نے ۳۵۸ کا زبردست ہدف رکھا لیکن آسٹریلیا نےٹیم ورک کی برکت یعنی عثمان کے ۹۱ ، پیٹر کے ۱۱۷ اور اشٹون کے ۸۴ کی مدد سے اسے عبور کرلیا۔ پانچویں میچ میں عثمان خواجہ نے اس سیریز کی دوسری سنچری لگا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کردیا۔ خواجہ عثمان کا کیچ پکڑنے کے بعد اس کوبرا بھلا کہہ کروراٹ کوہلی نے مودی جی کی یاد دلا دی جبکہ خواجہ عثمانکی بہترین کارکردگی نے اسے نہ پانچویں کھیل کا مین آف دی میچ بلکہ مین آف دی سیریز کے خطاب کا بھی حقدار بنا دیا۔ اس طرح وہ عمران خان کاترجمان بن گیا۔ وہی پاکستانی وزیراعظم جنہوں نے ابھینندن کو بروقت رہا کرکے سرحد پر بڑھنے والا تناو یکسرختم کردیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں