annual-report-human-rights-world-status

انسانی حقوق کی عالمی صورتِ حال پر سالانہ امریکی رپورٹ جاری

انسانی حقوق کی عالمی صورتِ حال پر سالانہ امریکی رپورٹ جاری

واشنگٹن 14مارچ ( آئی این ایس انڈیا )

امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ایک جامع رپورٹ کانگریس میں پیش کر دی ہے جس میں کانگریس سے سفارش کی گئی ہے کہ امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسی دیتے وقت متعلقہ ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو سامنے رکھا جائے۔یہ رپورٹ ہر سال تیار کی جاتی ہے اور یہ متعلقہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔رپورٹ شہریوں کی آزادی و احترام، آزادء اظہار، پرامن اجتماع کی آزادی، مذہبی آزادی، سیاسی عمل میں عام لوگوں کی شرکت، بدعنوانی، انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف حکومتوں کے اقدامات، نسلی اور مذہبی امتیاز، جبری مشقت اور انصاف کی فراہمی کی صورت حال کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔سن 2018 کے لئے تیار کی گئی یہ محکمہ خارجہ کی 43 ویں سالانہ رپورٹ ہے۔پاکستان کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جولائی 2018 کے عام انتخابات اگرچہ ٹکنکی اعتبار سے پہلے سے بہتر رہے تاہم مبصرین، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے ملک کی فوج اور خفیہ اداروں کی طرف سے انتخابات سے قبل مداخلت کا الزام عائد کیا ہے جس کی وجہ سے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام فریقین کے لئے مساوی مواقع موجود نہیں رہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابات کے دن بھی انتخابی عمل میں بے قاعدگیاں دیکھی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فوج اور خفیہ ادارے سول انتظامیہ کی نگرانی میں کام نہیں کرتے۔رپورٹ میں اس سال کے دوران پاکستان میں انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ماورائے عدالت اور ہدف بنا کر قتل کرنے، جبری گمشدگیوں، ایذا رسانی، مقدمات کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ملزمان کو حراست میں رکھنے، لوگوں کی نجی زندگیوں میں غیر قانونی مداخلت، سینسرشپ، صحافتی پابندیوں، لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی، مظاہروں میں سرکاری رکاوٹیں، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور سرکاری محکموں میں بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی۔اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر ریاستی عسکریت پسند گروپوں کی طرف سے کم عمر افراد کو بھرتی کرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے اور عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات میں بے قاعدگیاں بھی دیکھی گئیں، غیرت کے نام پر قتل اور چائلڈ لیبر کے واقعات بھی عام رہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام معاملات میں حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی اور ایسے جرائم کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ غیر ریاستی عناصر کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات کے باعث انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سطح پر بدعنوانی کا کلچر فروغ پاتا رہا۔ ریپ، گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور جہیز کے حوالے سے قتل بھی بڑے مسئلے رہے۔ حکومت کی تمام سطحوں پر احتساب کے عمل کا فقدان رہا اور عدالتوں میں ججوں کی کمی اور زیر التوا کیسوں کی بہتات کے باعث مجرموں کی بہت کم تعداد کو سزائیں دی جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں