look-mamak-banerjee-party-lok-sabha-candidates-women41-muslim14-justice

ممتا بنرجی کی پارٹی کے لوک سبھا امیدواروں پر طائرانہ نظر

ممتا بنرجی کی پارٹی کے لوک سبھا امیدواروں پر طائرانہ نظر
خواتین کی تعداد 41% اور مسلمان 14.4% ، کیا یہی ہے انصاف؟

ازقلم:عبدالعزیز

محترمہ ممتا بنرجی کی مسلم نوازی کا چرچا پورے ہندستان میں ہے مگر جب اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی بات بالکل غلط ہے۔ ممتا بنرجی کی پارٹی نے مسلمانوں کے ساتھ زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی ٹھوس قدم گزشتہ سات ساڑھے سات سال میں نہیں اٹھایا۔ لیکن کچھ سطحی کام پارٹی کی طرف سے ضرور ہوا۔ اسی کام کو لوگوں نے بنیاد بناکر ان کی پذیرائی کا ڈنکا بجانا شروع کردیا۔ ان کاموں کو بنیاد بناکر بی جے پی نے کافی فائدہ اٹھایا۔ مثال کے طور پر ممتا بنرجی نے مسجدوں کے ائمہ اور مؤذن کو دو ڈھائی ہزار روپئے حکومت کی طرف سے دینے کااعلان کیا اور عمل آوری بھی شروع ہوئی۔ کورٹ میں مقدمے کی وجہ سے حکومت نے اعلان شدہ رقم وقف بورڈ سے دینے کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں ہی کی جائیدادوں سے جمع شدہ رقم اگر مسلمانوں کے کسی کام میں صرف کی جاتی ہے اور واقف کی مرضی کے خلاف نہیں ہوتی تو عدالت اس پر کوئی اعتراض یا مداخلت نہیں کرسکتی۔ بی جے پی نے خوب شور مچایا کہ ممتا بنرجی ’بیگم ممتا بنرجی‘ ہوگئی ہیں اور مسلمانوں پر نوازش کی بارش کر رہی ہیں۔ ہندو پجاریوں اور سَنتوں کے سامنے گھاس تک ڈالنے کی روادار نہیں ہیں۔ اسی طرح کے کچھ کام ٹی ایم سی کے ذریعے بنگال میں ہوئے ہیں جس کا زمین پر اثر تو بہت کم دکھائی دیا لیکن بی جے پی کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوا۔ مسلمانوں کیلئے ٹی ایم سی نے جو کم درجے کی خدمات یا معمولی خدمات انجام دی ہیں اگر ان کی تشہیر زیادہ نہیں ہوتی تو شاید مغربی بنگال میں بی جے پی یا آر ایس ایس کا عروج دن دونی اور رات چوگنی ہورہا ہے وہ نہیں ہوتا۔ جہاں مسلمانوں کیلئے ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرور ت ہوتی ہے اور جس سے مسلمانوں کی طاقت اور نمائندگی میں اضافہ ہوتا ہے وہاں تقریباً ہر سیکولر پارٹی اپنا قدم پیچھے ہٹا لیتی ہے۔ کم و بیش یہی حال محترمہ ممتا بنرجی کا ہے۔ پنچایت کا الیکشن ہو یا اسمبلی کا یا لوک سبھاکا، ہر الیکشن کے موقع پر دیکھنے میں یہی آتا ہے مسلمانوں کو ان کے تناسب آبادی کے لحاظ سے بہت کم نمائندگی ملتی ہے۔
مغربی بنگال میں لوک سبھا کی 42سیٹیں ہیں۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کو نمائندگی مغربی بنگال سے 30% ہونی چاہئے۔ اس وقت جو ترنمول کانگریس کی طرف سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان محترمہ ممتا بنرجی نے جاری کیا ہے ۔لوک سبھا کے 42امیدواروں میں صرف 6 مسلمان امیدوار ہیں۔ تین مرد اور تین عورتیں۔ یہ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے 42 امیدواروں کی فہرست میں کم سے کم 12امیدوار ہونا چاہئے تھا۔ اس طرح پہلی نا انصافی تو یہ ہوئی ہے کہ نمائندگی تعداد کے لحاظ سے نصف دی گئی ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کے امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اپنی اور اپنی پارٹی کی پیٹھ تھپتھپائی ہے کہ انھوں نے عورتوں کی نمائندگی مغربی بنگال کی طرف سے 41% دینے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں ان کی پذیرائی ہونی چاہئے، کیونکہ عورتوں کی طرف سے پارلیمنٹ میں 33% عورتوں کی نمائندگی دینے کا فیصلہ ہے ۔ 33% نمائندگی دینے کا بل پارلیمنٹ میں ابھی تک التوا میں ہے۔ اڑیسہ میں نوین پٹنائک نے 33% فیصد خواتین کو لوک سبھا کیلئے ٹکٹ دیا ہے۔ یقینا ممتا بنرجی اس معاملے میں نوین پٹنائک سے آگے نکل گئیں۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ جو ساری سیکولر پارٹیاں نا انصافی کر رہی ہیں محترمہ ممتا بنرجی کی اس میں کوئی تخصیص نہیں کی جاسکتی۔
ترنمول کانگریس کے امیدواروں کی فہرست کو ذرا اور گہرائی سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی نا انصافی نظر آتی ہے۔ 6مسلم امیدواروں میں تین خواتین ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ 50% امیدوار مسلم خواتین ہیںجو 41% سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ دوسری ناانصافی ہے۔ تیسری نا انصافی یہ ہے کہ جن خواتین کو امیدوار بنایا گیا ہے وہ یا تو ا س کے لائق نہیں ہیں یا By Chance (اتفاقاً) بنائی گئی ہیں۔ ساجدہ احمد کو ٹکٹ سلطان احمد مرحوم کی وجہ سے ضمنی چناؤ میں بھی اور اس وقت بھی دیا گیا۔ محترمہ ساجدہ بیگم ایک گھریلو قسم کی خاتون ہیں اور ان کا دائرہ کار گھر تک ہی محدود تھا۔ پارلیمنٹ کا ممبر بننے کے بعد لوگوں نے ان سے زیادہ اپنے مقصد کیلئے مختلف اداروں کا ممبر یا سربراہ بنا دیا ۔پارلیمنٹ کی جب وہ ممبر بن گئیں تو بادل ناخواستہ انھیں لوک سبھا کے اجلاس میں بھی شرکت کرنا پڑا۔ وہاں جاکر انھوں نے خاموشی ہی اختیار کی اور اب جب جائیں گی تو خاموشی شاید ہی ان کی ٹوٹے۔ ہاں کسی مسئلے میں گنتی کے موقع پر ان کے ایک ووٹ کا شمار ضرور ہوگا۔ محض ایک ووٹ کے شمار کیلئے کسی کو کسی ایوان کا ممبر بنانا خاص طور پر جمہوری ادارے کا تو میرے خیال سے جمہوریت کشی کے مترادف ہے۔ ایک خاتون موسم بے نظیر نور ہیں ۔ محترمہ پہلے کانگریس میں تھیں۔ چند مہینے پہلے ان کو جب لگا کہ وہ کانگریس کے ٹکٹ سے کامیاب نہیں ہوسکیں گی تو انھوں نے پارٹی بدل لی۔ جولوگ پارٹی بدلتے رہتے ہیں یا بدلتی رہتی ہیں وہ کب کس پارٹی میں چلے جائیں یا چلی جائیں کہنا مشکل ہے۔ عورتوں کیلئے تو اور بھی مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے شوہر اور ان کے گارجین کا ان پر دباؤ بھی ہوتا ہے۔ میرے خیال سے یہ نمائندگی بھی نمائندگی برائے نمائندگی ہی ہوتی ہے۔
تیسری مسلم خاتون امیدوار نصرت جہاں ہیں ۔ سماجی زندگی میں ان کا کوئی کام آج تک نظر نہیں آیا۔ جو کام بھی نظر آیا اسلام اور مسلمانوں کے نقطہ نظر سے وہ قابل اعتراض ہے۔ اورمسلمانوں کیلئے ناپسندیدہ ہے۔ مثلاً پہلے وہ ماڈل تھیں پھر مس بنگال اور بعد میں فلم ایکٹریس کے کام میں مشغول ہوئیں۔ ان کی زندگی کے چرچے بھی اخباروں میں کافی رہے۔ شادی بھی انھوں نے اپنے بوائے فرینڈ وکٹر گھوش سے خفیہ انداز سے کی۔ بہت دنوں تک اپنے اس رشتے کو وہ Partners in a Live – in Realationship (دوستانہ رشتہ) بتاتی رہیں۔ ایک ایسی خاتون کو یا ایک ایسے مرد کو جس کی زندگی میں شفافیت (Transparency) نہ ہو عوامی نمائندہ بنانا اس پر اور عوام دونوں پر ظلم ہے۔
مسلمان کس کو ووٹ دیں؟ مغربی بنگال میں مسلم تنظیموں کے نمائندوں اور چیدہ شخصیتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور مشورہ کرنا چاہئے کہ مغربی بنگال میں کس پارٹی یا کس امیدوار کی حمایت کرنا چاہئے۔ میرے خیال سے امیدوار میں دو خصوصیتوں کا ہونا کم سے کم ضروری ہے۔ ایک تو وہ بی جے پی جیسی فرقہ پرست اور فسطائی جماعت کے امیدوار کو ہرا سکے اور دوسری خصوصیت یہ ہو کہ بے داغ اور بھلا مانس ہو۔ اورمسلمانوں کے حق میں بھی اپنی پارٹی میں اور اپنی پارٹی کے باہر کچھ بول سکتا ہو۔ آنکھ بند کرکے یا کسی زور اور دباؤ کی وجہ سے اپنی رائے کا استعمال کرنا ایمانداری یا قومی و جمہوری فریضہ نہیں ہوسکتا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے دینی اور سماجی رہنماؤں کی طرف سے ایک عوامی منشور جاری ہونا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ رہنما خطوط پر مشتمل ایک کتابچہ بھی شائع ہونا چاہئے جس کی روشنی میں عوام اپنی رایوں کا ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ استعمال کرسکیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں