during-modi-government-period-touch-clouds-concern-increase_inflation-decrease-iip-gdp-growth-declined-significantly

مودی حکومت کے دور میں تشویش کے بادل چھائے رہے مہنگائی بڑھی، آئی آئی پی میں کمی، جی ڈی پی ترقی میں بھی اندازہ سے زیادہ کمی

مودی حکومت کے دور میں تشویش کے بادل چھائے رہے
مہنگائی بڑھی، آئی آئی پی میں کمی، جی ڈی پی ترقی میں بھی اندازہ سے زیادہ کمی

نئی دہلی، 13 مارچ(آئی این ایس انڈیا)

ملک کے صنعتی پیداوار میں کمی آئی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور اس مالی سال میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح اندازہ سے کم رہنے کا اندازہ ہے۔مودی حکومت کے آخری دور میں یہ اعداد و شمار اچھے نہیں کہے جا سکتے۔اس سے اس بات کے آثار بھی بڑھ گئے ہیں کہ ریزرو بینک آگے سود کی شرح میں ایک اور کمی کرے۔جنوری میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 2.57 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اس گزشتہ ماہ میں مہنگائی کی شرح 2.05 فیصد تھی،اگرچہ یہ اب بھی ریزرو بینک کے کانفرٹیبل رینج 4 فیصد کے اندر اندر ہی ہے۔دوسری طرف، سی ایس او کی طرف سے منگل کو جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں صنعتی پیداوار انڈیکس (آئی آئی پی) میں بھاری کمی آئی ہے اور یہ محض 1.7 فیصد رہا۔گزشتہ سال اس مدت میں یعنی جنوری، 2018 میں صنعتی پیداوار کی ترقی کی شرح 7.5 فیصد تک تھی،دسمبر 2018 میں یہ شرح 2.6 فیصد تھی۔اگرچہ اپریل سے جنوری تک کے دس ماہ میں صنعتی پیداوار کی ترقی کی شرح 4.4 فیصد رہی جو اس کے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر ہے۔آئی آئی پی میں سب سے بڑا حصہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا ہوتا ہے، اس میں بھی جنوری 2019 کے دوران 1.3 فیصد کی کمی آئی ہے، جبکہ گزشتہ سال جنوری مہینے میں اس میں 8.7 فیصد کی زبردست برتری ہوئی تھی۔جی ڈی پی کو جہاں پوری معیشت کی رفتار کا اندازہ لگتا ہے، وہیں آئی آئی پی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صنعتی سرگرمی کس طرح کی ہے۔آئی آئی پی میں کمی کا مطلب ہے کہ صنعتوں کو اگلے ماہ کے لئے آرڈر کم آ رہے ہیں یعنی مجموعی طورپر عوام کی طرف سے فائدے میں بھی کمی آ رہی ہے۔ٹریکٹر جیسے آٹو مصنوعات کی دیہی علاقوں میں مطالبہ گھٹنے کو بھی اس کی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
مہنگائی کی شرح اب بھی ریزرو بینک کے آسان سطح یعنی 4 فیصد کے اندر اندر ہی ہے۔دوسری طرف آئی آئی پی میں کمی آئی ہے۔ایسے میں مانگ کو بڑھانے کے لئے ریزرو بینک کی طرف سے شرح سود میں کمی کی ایک اور امکان بن رہا ہے۔اس کے پہلے 7 فروری کو ریزرو بینک نے ریپو ریٹ میں چوتھائی فیصد کی کٹوتی تھی۔ریزرو بینک 5 اپریل کو اگلے مالی سال کے لئے مانیٹری پالیسی بتائے گا۔ریزرو بینک کی ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق سرکاری اخراجات میں کمی اور درآمد کے بڑھتے جانے کی وجہ سے جی ڈی پی میں اضافہ اندازہ سے کم ہو گا،جولائی ستمبر کی مدت میں جی ڈی پی میں اضافہ 7.1 فیصد رہی، جبکہ اس پچھلی سہ ماہی میں یہ اعداد و شمار 8.2 فیصد تھا،یہ گزشتہ تین چوتھائی کی سب سے کم ترقی ریٹ تھی،ریزرو بینک کے مطابق اس مالی سال میں جی ڈی پی میں برتری 7 فیصد ہی ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ پہلے اس میں 7.4 فیصد کی برتری ہوئی تھی۔ریزرو بینک کے مطابق فکسڈ ڈیپازٹ جیسے سرمایہ کاری میں برتری اور نجی کھپت میں مسلسل برتری ہو رہی ہے، لیکن سرکاری اخراجات میں کمی آئی ہے۔ریزرو بینک کے کاغذ کے مطابق اکنامی میں سروس سیکٹر کی شراکت مسلسل بڑھ رہی ہے اور زرعی شعبے کی شراکت گھٹ رہی ہے۔اس مالی سال یعنی سال 2018-19 میں جی ڈی پی میں سروس سیکٹر کی شراکت قریب 62 فیصد رہے گا، جبکہ زرعی شعبے کی شراکت 14.3 فیصد تک ہی ہوگی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی سال کے اختتام یعنی مارچ تک سرکاری اخراجات بڑھ جاتے ہیں لیکن اس بار مالیاتی خسارے کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے حکومت اپنے اخراجات میں کمی کر رہی ہے۔
آگے معیشت کیا موڑ لیتی ہے، اس کے لئے خام تیل کی قیمتوں اور مونسون پر نظر رکھنی ہوگی۔اپریل میں مونسون کا پہلا اندازہ آئے گا،اب خام تیل کی قیمتیں چڑھتی دکھائی دے رہی ہیں،مانسون اچھا رہا تو پیداوار بہترین ہوگی اور آگے بھی مہنگائی کی حد میں رہ سکتی ہے،اس کے علاوہ مہنگائی پر خام تیل کی قیمتوں کا بھی کافی اثر پڑے گا۔اوپیک کی طرف سے فراہمی میں کمی اور ایران اور وینزویلا پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے بدھ کو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اور بڑھ گئیں۔برینٹ خام تیل مستقبل کی قیمت برتری 66.85 بیرل فی ڈالر تک پہنچ گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں