#Narendra, #Modi, #dictator, #always, #destructive, #nation, #country,

نریندرمودی جیسا ڈکٹیٹر ہمیشہ قوم و ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ہے

نریندر مودی جیسا ڈکٹیٹر ہمیشہ قوم و ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ہے

از قلم: عبدالعزیز

نریندر مودی 2014ء میں ہندستان کے وزیر اعظم بنے۔ اس سے پہلے وہ تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے۔ گجرات میں اتفاق سے وزیر اعلیٰ بنائے گئے تھے۔ کیشو بھائی پٹیل گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ریاستی پارٹی کے کچھ لوگ ان سے شدید ناراض ہوگئے تھے۔ خاص طور پر اسمبلی کے ممبران۔ نریندر مودی اور کیشو بھائی پٹیل میں بنتی نہیں تھی۔ اسی لئے مودی کو دہلی بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن جب پارٹی نے فیصلہ کرلیا کہ کیشو بھائی پٹیل کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹایا جائے تو 2001ء میں ارون جیٹلی ایک فلائٹ میں نریندر مودی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھانے کیلئے احمد آباد لائے اور انھیں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے صلاح و مشورے کے بعد وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ 2002ء میں گودھرا کا افسوسناک اور شرمناک سانحہ رونما ہوا۔ اسی واقعے نے حقیقت میں مودی کو مودی بنا دیا اور وہ اپنے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرقہ پرستی کو عروج پر پہنچا دیا۔ گودھرا کے واقعہ کے بعد ان کے فرقہ وارانہ بیان سے اور وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے ہڑتال اور حکومت کی مشنری کی مدد سے سنگھ پریوار کے بلوائیوں نے پورے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اس سے فرقہ پرستوں کی نظر میں نریندر مودی ہیرو ہوگئے۔
گجرات میں جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو وہ گجرات پرستی کا بھرپور مظاہرہ کرتے تھے۔ کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے ہمیشہ کہتے تھے کہ سات کروڑ گجراتیوں کا کانگریس اپمان (بے عزتی، توہین) کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ کانگریس پر مسلم نوازی کا الزام بھی لگاتے تھے۔ میاں نواز شریف، میاں مشرف اس طرح کی جملہ بازی کر کے پاکستان دشمنی اور مسلمان دشمنی کو بڑھاوا دیتے تھے۔ اس کی وجہ سے ان کو سیاسی عروج حاصل ہوا۔ اٹل بہاری واجپئی نے ان کو ہٹانے کی کوشش کی تھی اور فساد کے پس منظر میں مودی سے کہا تھا کہ مودی نے راج دھرم (حکمرانی کا اصول) نبھایا نہیں۔ واجپئی جی کی نہیں چلی۔ ایل کے ایڈوانی اور ارون جیٹلی آڑے آئے ۔ آر ایس ایس اور پارٹی نے مودی کی برطرفی کی پرزور مخالفت کی۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے بہت سے ممالک مودی کی فرقہ پرستی اور فسطائیت کی وجہ سے ویزا بھی دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔
2014ء میں آر ایس ایس کی نظر مودی پر پڑی اور فرقہ پرستوںمیں ان کی مقبولیت اور شہرت کی بنیاد پر بی جے پی سے وزیر اعظم کی امیدواری کیلئے فیصلہ کرالیا۔ مودی نے ڈیولپمنٹ اور اچھی حکمرانی کا وعدہ کیا اور جھوٹے وعدوں کا ایسا انبار لگا دیا کہ 31% ووٹرس مودی کے جھانسے میں آگئے۔ لگ بھگ پانچ سال ہونے کو آئے مودی نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ وعدے کے باوجود نہ ہی دو کروڑ ملازمت لوگوں کو ملی اور نہ ہی کالادھن واپس آیا اور نہ پندرہ لاکھ روپئے کسی ہندستانی کے بینک کھاتے میں آیا۔ اس کے برعکس روزگار سے جو لوگ لگے ہوئے تھے ان میں سے دس لاکھ سے زائد افراد بے روزگاار ہوگئے۔ نوٹ بندی کے ذریعے کالا دھن واپس لانے کی بات کہی گئی تھی مگر ہوا یہ کہ اس نوٹ بندی سے سارا ملک پریشان ہوگیا۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگوں کو مودی نے قطار میں کھڑا کردیا اور اپنی ہی رقم حاصل کرنے کیلئے ہر ایک کو مشکلوں اور زحمتوں سے گزرنا پڑا۔ لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد کو قطار میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ نوٹ بندی کا اعلان کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے پاس جعلی رقوم جمع ہیں وہ سب واپس آجائیں گے۔ کوئی بھی رقم نہیں آئی اور نہ ہی کالا دھن ختم ہوا اور نہ ہی دہشت گردی میں کوئی کمی واقع ہوئی بلکہ دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ کسانوں کی پریشانیاں بڑھتی چلی گئیں۔ بینکوں کے قرض دار ہونے کی وجہ سے کسانوں کو ستایا جانے لگا جس کی وجہ سے بہت سے کسانوں کو خود کشی کرنی پڑی۔
یہ ساری چیزیں تو اظہر من الشمس ہیں لیکن اس سے بھی بڑی چیز جو پورے ملک میں پیدا ہوئی وہ خوف و ہراس، تشدد، بربریت اور قتل و غارت گری کا ماحول ہے۔ اقلیتوں اور دلتوں کو ملک کے کونے کونے میں ستایا جانے لگا۔ اس طرح ملک میں بدامنی، بدنظمی اور عدم برداشت کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کی ایسی خراب حالت کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن فرقہ پرستی اور فسطائیت نے اس قدر ان پانچ سالوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی کہ سچائی اور صداقت دبتی چلی گئی۔ ملک کے ستر فیصد میڈیا کو سرمایہ داروںنے اپنے قبضے میں کرلیا اور سرمایہ داروں سے مودی کا ساز باز شروع ہی سے رہا اور وزیر اعظم بننے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔ رات دن میڈیا جس کو اب ’’گودی میڈیا‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اس کا ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ مودی کے غلط کاموں کو پرکشش اور خوبصورت بناکر پیش کیا جائے اور ان کے حق میں تعریف اور ستائش کا پل باندھا جائے۔ اپوزیشن کو گرانے ذلیل کرنے اور اسے غدارِ وطن، قوم دشمن، مسلم نواز اور پاکستان نواز ٹھہرانے کی ہرممکن کوشش کی گئی۔
پلوامہ کے سانحہ میں سراسر مودی کی ناکامی ثابت ہوتی ہے لیکن گودی میڈیا نے ناکامی کے بجائے فرقہ پرستی کی آگ کو اس طرح بھڑکایا کہ فرقہ پرستوں کی نظر میں مودی کی ناکامی دب کے رہ گئی اور جب بالا کوٹ میں فضائی اسٹرائیک ہوئی جس میں ہندستانی فوج کو یہ تو کامیابی ضرور ہوئی کہ ہندستانی سرحد پار کرکے پاکستان کی سرحد میں چار بم گرانے میں کامیاب ہوگئی لیکن پاکستان کا کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی دہشت گردوں کے کسی کیمپ کو نقصان پہنچا۔ جس جگہ پر بم گرایا گیا تھا وہاں چند درختوں ، ایک گھر کو نقصان پہنچا تھا اور ایک شخص زخمی ہوا تھا۔ اور ایک کوا مرا تھا جس کی لاش پاکستانی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی دکھایا تھا۔ ہندستان کی گودی میڈیا نے سچائی اور صداقت کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن آہستہ آہستہ ہندستانی میڈیا میں بھی صداقت کا چرچا ہونے لگا۔ اس طرح مودی اس محاذ میں بھی جھوٹ بولنے کے باوجود اپنی بڑائی ثابت نہیں کرسکے۔ لیکن پانچ سالوں میں جو فرقہ پرستی کا زہر ہندستانیوں کے دل میں گھولا گیا ہے، منافرت اور کدورت کا زہر پھیلایا گیا ہے وہ حد سے زیادہ ہے۔ اب یہی واحد سہارا ہے جس کے ذریعے بی جے پی یا مودی انتخابی جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔ مودی نے پورے ہندستان میں دیکھا جائے تو ہٹلر کا کردار ادا کیا ہے۔ ہٹلر نے جرمنی کو دوسری عالمی جنگ میں جھونک دیا تھا اور کہتا تھا کہ “Everything for Nation nothing against the Nation” (ہر ایک چیز قوم کیلئے اور کوئی چیز بھی قوم کے خلاف نہیں)۔ بالکل یہی نعرہ اس وقت مودی اور ان کی پارٹی لگا رہی ہے۔ ہٹلر کی اس آمرانہ سیاست کی وجہ سے جرمنی کو شکست فاش ہوئی تھی۔ جرمنی تباہ و برباد ہوگیا تھا اور ہٹلر کو بھی بالآخر خودکشی کرنی پڑی تھی۔ نریندر مودی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ اگر انھیں روکا نہیں گیا اور ان کو ووٹوں کے ذریعہ شکست فاش نہیں دی گئی تو ؎ ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘ جیسی بات ہوگی۔
جو لوگ مودی کو لیڈر سمجھتے ہیں میرے خیال سے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ لیڈر یا قائد ٹھنڈے اور نرم مزاج کا ہوتا ہے۔ ’نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو‘ ۔ علامہ اقبال نے لیڈر یا قائد کی تعریف کرتے ہوئے نہایت پرمغز بات کہی ہے ؎
نگہ بلند، سخن دلنواز، جانِ پرسوز … یہی ہے رخت سفر میر کارواں کیلئے
دیکھا جائے تو نریندر مودی میں ان میں سے ایک بھی صفت نہیں ہے۔ وہ تنگ نظری ، کم عقلی اور انسان دشمنی کا مجسمہ ہیں۔ لیڈر کی یہ پہچان ہے کہ وقتِ بحران سنجیدگی و متانت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ لوگوں میں ہیجان پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو مقصد کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے۔ اور اپنے اختیارات کو اپنے لئے ہی مرکوز کرنے کے بجائے دوسروں کو بھی بااختیار بناتا ہے۔ وہ اس لئے کہ اس کی عدم موجودگی میں بھی کام جاری رہے ۔ ہندستانی تاریخ میں ہے کہ پلاسی کے میدان میں رابرٹ کلائیو اپنی فوجوں کو لڑنے کیلئے تیار کرتا ہے اور ان کی رہنمائی کرنے کے بعد ان کی پوزیشن بھی مقرر کر دیتا ہے اور سہ پہر کو جاکر سوجاتا ہے۔ آئرکورٹ کے کمانڈ میں فوج رہتی ہے اور وہ انھیں جگاتا بھی نہیں۔ فوج لڑتی ہے اور کامیاب ہوجاتی ہے۔ جو کچھ کلائیو نے حکم دیا تھا اور رہنمائی کی تھی اسی کے مطابق انگریزی فوج نے کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں لیڈر اپنے اختیارات کو تقسیم (Delegate)نہیں کرتا۔ 1857ء میں جارج انسن کمانڈر انچیف تھا ۔ شملہ میں اسے شکست ہوئی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کو ڈیلیگیٹ نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے برطانوی فوج کو بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ لیڈر کہیں بھی ہو جب بحران ہوتا ہے تو وہ اس بحران کے دور میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر وہ مردِ بحران (Crisis Manager)ہوتا ہے۔
کارگل کی جنگ کے موقع پر آرمی چیف وی پی ملک سرکاری دورے پر پولینڈ میں تھے اور کورپس کمانڈر کشن پال اپنی بیوی کی تیمارداری کی وجہ سے دہلی میں تھے جس کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کے باوجود لڑائی حسب معمول جاری رہی اور یہ دو فوجی لیڈر جب پہنچے تو انھوں نے محاذ سنبھال لیا۔ تاریخ کے مطالعے سے اور اس طرح کے واقعات کے مشاہدے سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ نظام (System) لیڈر سے زیادہ اہم چیز ہوتی ہے۔ اگر نظام مضبوط و مستحکم ہوتا ہے تو لیڈر کی عدم موجودگی میں بھی نظام اپنا کام کرتا ہے اور کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ لیکن اگر نظام میں کمی اور خرابی آجاتی ہے اور لیڈر صرف اپنے اختیارات کو مرکوز کرنے میں سارا زور لگاتا ہے تو وہ ہٹلر تو ضرور بن جاتا ہے لیکن اس کی قیادت ملک و قوم کیلئے تباہ کن ثابت ہوتی ہے اور خود اس کو بھی ایسی قیادت دیر یا سویر راس نہیں آتی۔
نریندر مودی نے جو چار پانچ سال میں اودھم مچایا اور تمام سرکاری اداروںمیں مداخلت کی جس کی وجہ سے تمام ادارے متاثر ہیں اور ہندستانی نظام خلفشار کا شکار ہوگیا ہے۔ مودی جو اپنے آپ کو ناگزیر سمجھتے ہیں یہ ایک خواب ہے دیوانے کا جو الیکشن میں چکناچور ہوجائے گا۔ اٹل بہاری کی وزارت عظمیٰ میں کارگل کی جنگ بھی ہوئی تھی۔ پوکھران میں ایٹمی طاقت کا مظاہرہ بھی ہوا تھا اور شائننگ انڈیا کا پرچار بھی کیا گیا تھا مگر واجپئی جی کو ان سب کے باوجود ہارنا پڑا۔ مودی جی پلوامہ حملہ، بالا کوٹ کے ایئر اسٹرائیک جیسے واقعات کے سہارے دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے کوشاں ہیں لیکن عوام نے ان کی حقیقت اور ان کی شخصیت کو اچھی طرح سے پہچان لیا ہے۔ پوری امید ہے کہ ہندستانی عوام اپنی غلطی کو دہرائیں گے نہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں