department-of-arabic-shah-abdullah-bin-abdul-aziz-international-center-promotion-arabic-language-four-day-training-program-endorsed-teachers-disagree

سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ،شعبۂ اردو کے زیر اہتمام ’عربی و فارسی قصیدہ نگاری ‘ کے موضوع پر دو روزہ سیمینار کا اختتام

سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ،شعبۂ اردو کے زیر اہتمام
عربی و فارسی قصیدہ نگاری ‘ کے موضوع پر دو روزہ سیمینار کا اختتام

علی گڑھ ،11مارچ(یو این آئی)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی ،شعبۂ اردو کے زیر اہتمام ’عربی و فارسی قصیدہ نگاری‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار بحسن و خوبی اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا کہ قصیدہ کی تنقید کو جدید تنقید کی کسوٹی پر پرکھنے اور نئے زاویے تلاش کرنے کی سعی کی جائے۔ اختتامی تقریب کا انعقاد ریسرچ ڈویژن ہال میں کیا گیا۔صدر شعبۂ اردو پروفیسر طارق چھتاری نے اس موقع پر کہا کہ اردو میں زیادہ تر اصناف مغرب سے آئیں ، قصیدہ جیسی کلاسیکی صنف پر اس سیر حاصل سیمینار نے بنیاد کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی کے کوآرڈنیٹر پروفیسر سید محمد ہاشم نے اپنے خطبے میں کہا کہ عربی فارسی اور اردو زبانوں میں قصیدہ نگاری کی وقیع روایت سے استفادہ کی طرف اس سیمینار نے رغبت دلائی ہے۔یہ سیمینار قصیدہ نگاری کے بنیادی مباحث اور عہد حاضر میں اس عظیم ادبی سرمائے کی وقعت اور قدر و قیمت کے تسلسل کی دریافت اور پیشکش میں انتہائی کامیاب رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ قصیدہ ایسی شعری صنف ہے جس میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے اور ان کی تلاش و جستجو کی خاطر یہاں پیش مقالات نے علمی گفتگو کا موقع فراہم کیا۔پروفیسر عقیل احمد صدیقی نے کہا کہ صنف کی تشکیل کے ساتھ اس کے چند اصول و ضوابط بھی مرتب کئے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ قصیدہ کے فن پر جدید تنقید کے نئے زاویے تلاش کئے جائیں۔انھوں نے کہا کہ عربی قصیدہ میں ہر مضمون کو باندھا جاتا تھا محسوس یہ ہوتا ہے کہ قصیدہ مسخ ہوکر اردو میں داخل ہوا ہے۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے کہا کہ اردو کے قصیدہ نگار عرفی،خاقانی،نظیری وغیرہ کا اتباع کرتے نظر آتے ہیں اورانھوں نے اپنے قصیدوں میں اسی رنگ کو شامل رکھنے کی کوشش کی ہے، شعبۂ اردو نے اس موضوع پر سیمینار منعقد کرکے کلاسیکی اصناف کی طرف دوبارہ توجہ دینے کی جو کوشش کی ہے وہ لائق ستائش ہے۔لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے پروفیسر عمر کمال الدین نے کہا کہ خون جگر سے لکھے گئے مقالات نے علمی مباحث کی راہ ہموار کی۔ الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالقادر جعفری نے کہا کہ مسلمان جب ہند میں داخل ہوئے تو فارسی نے یہاں غلبہ حاصل کر لیا۔اردو کو فارسی کے ذریعہ کافی فیض حاصل ہوا۔ویمنس کالج، اے ایم یو کی پروفیسر نیلم فرزانہ نے کہا سیمینار کا حاصل یہ ہے کہ طلبا کو قصیدہ کی صنف اور اردو کے ساتھ عربی فارسی قصیدہ نگاری کی روایت کو سمجھنے میں آسانی ہوئی ہوگی جو ان کے بہت کام آئے گی ۔ نظامت کے فرائض پروفیسرمحمد علی جوہرنے بحسن خوبی انجام دیے۔ پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی اور ڈاکٹر نسرین بیگم نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار کی مختلف نشستوں میں پروفیسر عبدالباری،پروفیسر عمر کمال الدین،پروفیسر عبدالقادر جعفری،پروفیسر صلاح الدین عمری،پروفیسر ظفر احمد صدیقی،پروفیسر طاہرہ عباسی،پروفیسر احمد محفوظ،پروفیسر سید حسن عباس،پروفیسر سراج اجملی وغیر ہ ۱۷ ؍سے زائدمقالہ نگاران نے مقالات پیش کیے۔ اس موقع پر شعبۂ اردو کے اساتذہ،ریسرچ اسکالرس اور طلبا و طالبات کے ساتھ عربی و فارسی شعبوں کے اساتذہ نے بھی شرکت کی۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں