most_important-requirements-social_reform-reform-time-muaulana_sarfaraz

معاشرےکی اصلاح کےلئےایک منظم لائحہ عمل وقت کی اہم ترین ضرورت:مولاناسرفرازاحمدقاسمی

معاشرےکی اصلاح کےلئےایک منظم لائحہ عمل وقت کی اہم ترین ضرور ت
جنرل سکریٹری کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک،مولاناسرفرازاحمدقاسمی

حیدرآباد7؍ مارچ(پریس نوٹ)

اللہ تعالی نےانسانوں کی رشدوہدایت،صلاح وفلاح اورصالح معاشرہ کی تشکیل کےلئےانبیاء کرامؑ کومبعوث فرمایا،گمراہ انسانیت کوراہ راست پرلانے،کفروشرک کی گھٹاٹوپ اندھیروں سےنکال کرایمان ویقین کانورانکےدلوں میں ڈالنے،بدعات وخرافات،توہم پرستی،خواہشات نفسانی اوربےجارسم ورواج کےدلدل میں پھنسےہوئےاوراپنی دنیاوآخرت بربادکرنےوالےافرادکی صحیح رہنمائی تمام نبیوں کاخصوصی مشن رہا،چنانچہ جب آپ کی بعثت ہوئ اسوقت سارامعاشرہ ہرطرح کی برائی میں ڈوباہواتھا،کوئی ایساگناہ نہ تھاجواس معاشرہ میں جاری نہ ہو،ہرطرف ظلم وبربریت،بےامنی وبےاطمینانی کی کیفیت تھی،کوئی شخص مطمئن نہ تھا،ہرکسی کامال وجان غیرمحفوظ تھا،عقیدےکی بگاڑ کایہ عالم تھاکہ لوگ ایک خداکوچھوڑکرسینکڑوں معبودانِ باطلہ کےسامنےاپنےسروں کوخم کیاکرتےتھے،توہم پرستی عروج پرتھی اورلوگ ہلاکت وبربادی کےدہانےپرکھڑےتھے،ان ساری برائیوں کورسول اکرمؐ نےاپنی تعلیمات وہدایات کےذریعے ختم فرمایا،جسکےنتیجےمیں وہ معاشرہ امن امان کاگہوارہ بنا،ان خیالات کااظہار،شہرحیدرآبادکےجیداورمتحرک عالم دین مولاناحافظ سرفراز احمدقاسمی جنرل سکریٹری کل ہندمعاشرہ بچاؤتحریک نے یہاں اپنےہفتہ واری بیان میں کیا،انھوں نے کہاجب تک اسلامی معاشرہ قائم رہاتواس میں ہرایک دوسرے کاغم خواراوردکھ دردمیں شریک رہاکرتاتھا،لوگ خود کی پرواہ کئےبغیردوسروں کوسہولت پہونچاتےتھےاورپریشانیوں کودورکرتےتھے،جس طرح اپنی عزت پیاری ہوتی تھی اسی طرح اپنےبھائیوں کی عزت بھی اسےعزیزہواکرتی تھی،دوسروں کی ضروریات پوری کرکےدلوں کوسکون حاصل ہوتاتھا،فحاشی وعریانیت وغیرہ کانام تک ختم ہوچکاتھا،ہرآدمی خودکواللہ تعالیٰ کےسامنےجوابدہ تصور کرتاتھا،فکرآخرت دامن گیرہواکرتی تھی،فاقہ کشی کرلیناانکےلئےآسان تھالیکن ناجائز اورحرام مال کواپنےقبضےمیں رکھناگوارہ نہ تھا،تاجراپنی تجارت میں،کاشتکاراپنی کھیتوں میں،حکمراں اپنےتخت پر،اورمزدوراپنی ڈیوٹی کےدوران اس احساس کےساتھ کام کرتاتھاکہ مجھے خداکواسکاحساب دیناہے،جسکانتیجہ یہ تھاکہ نہایت اعتدال اورتوازن کےساتھ معاشرہ ترقی کی جانب گامزن تھا،ہرطرف امن وامان اورسکون واطمینان اوراعتبارواعتمادکی فضاقائم تھی،مولاناقاسمی نےکہاکہ جب سے وہ سنہرا معاشرہ ہم سےرخصت ہوااوربےعملی وفضول خرچی کادوردورہ شروع ہواتودین ومذہب سے دوری کےساتھ ساتھ دنیوی کاموں میں محنت ومشقت میں بھی سستی ہونےلگی،فضول خرجی کایہ عالم ہےکہ اب شادی بیاہ اورفخرومباہات کےکاموں میں بےتحاشہ خرچ کرناہم نےاپناشعاربنالیاہے،جسکےلئےسودی قرض اورناجائزطریقوں کےمال ودولت کاحصول اب عام ہوگیا،جوا،سٹہ بازی وغیرہ کی نحوست ہمارےدلوں سےنکل گئ،اپنےساتھ دوسروں کی اصلاح کی فکراورجدجہداسلام کاایک اہم فریضہ ہے،سماجی زندگی کی اصلاح مسلمانوں کاایک اہم مسئلہ ہے،کیونکہ انسان کی تربیت،اسکےافکاراوراسکےطریقہ زندگی پرسماج کی چھاپ ہوتی ہے،ماحول میں زندگی گزارنے والےلوگ جیسے اخلاق وکردار کےحامل ہونگےاورجن افکاروخیالات کےوہ داعی ہونگےآپ کی فکرپربھی یقینااس کااثرپڑےگااورآپکےگھروالوں پربھی اسکےاثرات مرتب ہونگےمولانانےمزیدکہاکہ سماج کی تعمیرواصلاح اورمثالی معاشرے کی تشکیل کےلئے ایک منظم لائحہ عمل وقت کی اہم ترین ضرورت ہےاورہرمسلمان کی اہم ذمہ داری بھی ایک حدیث میں ہےکہ رسول اکرمؐ نےارشادفرمایا”کوئی آدمی کسی قوم میں گناہ کرتاہواورلوگ روکنےکی قدرت کےباوجود اسکوگناہ سے نہ روکیں توپھراللہ تعالی ان لوگوں میں مرنےسےقبل عذاب عام نازل کردیں گے”(ابوداؤد)لہذااپنی اصلاح کےساتھ سماج کےاصلاح کی فکرانتہائ اہم اورضروری ہے جس پرخصوصی توجہ کی ضرورت ہےبرائے رابطہ 8801929100ای میل sarfarazahmedqasmi@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں