dr_majid_dagi-nominated-member-karnataka-uurdu_academy

ڈاکٹر ماجد داغی رکن کرناٹک اردواکیڈمی نامزد

ڈاکٹر ماجد داغی رکن کرناٹک اردواکیڈمی نامزد

گلبرگہ،07؍مارچ(آئی این ایس انڈیا)

مسٹر اکرم باشا رجسٹرار کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور نے اپنے مکتوب مورخہ 5/ مارچ میں جنرل کونسل میٹنگ منعقدہ بتاریخ 8/ فروری کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ ممتاز ادیب، شاعر و صحافی ڈاکٹر ماجد داغی کو مذکورہ اجلاس میں بہ اتفاق رائے کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور کا رکن نامزد کیا گیا ہے. قبل ازیں 1994/96 کی معیاد کے لیے بھی انہوں نے خدمات انجام دیں ہیں۔واضح رہے کہ علاقہ حیدر آباد کرناٹکا کے باوقار تعلیمی ادارہ ” عثمان ایجوکیشنل اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ” کی جانب سے ” کارنجہ رتنہ” ایوارڈ عطا کرتے ہوئے انہیں کیسہء4 زر، یادگار تحفہ، توصیفی سند عطا کی گئی.واضح رہے کہ ڈاکٹر ماجدداغی کو ان کی تقریباً چار دہائیوں پر مْحیط ادبی و سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے. ریاست کی باوقار ممتاز تنظیم ”جئے کنڑیگار سینے” نے 63 ویں کرناٹک راجیواتسوا کے موقع پر 25/نومبر 2018ئکو ایس ایم پنڈت رنگ مندر گلبرگہ میں شری بسواراجندر مہاسوامی جڈگا، شری دتتا دگمبر شنکر لنگ مہاراجہ اور شری دتتا ایچ بھاسگی کے ہاتھوں ” حیدرآباد کرناٹکا کے انمول رتن” ایوارڈ عطا کیا تھا.۔ جبکہ کرناٹک ردو اکاڈمی بنگلور نے ردو نثر کی فروغ واشاعت میں ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 2007ء کا ”ایوارڈ برائے نثری خدمات” بدست سابق وزیر اعلی ریاست کرناٹکا ڈاکٹر این دھرم سنگھ عطا کیا تھا۔ 2010ء میں ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کے مجموعہ ” فن کے کچھ نئے تنقیدی زاویئے ” پرکرناٹک ا?ردو اکیڈمی بنگلور نے الحاج ڈاکٹر قمرالاسلام سابق ریاستی وزیر کے ہاتھوں ” 2010ء کی بہترین کتاب” کا ایوارڈ عطا کیا.۔ اسی طرح 2008ئمیں حکومت کرناٹک کی جانب سے وزیرِ اعلی کرناٹک شری بی ایس یڈی یورپا نے علاقہ حیدر آباد کرناٹکا کے ”بہترین نثر نگار” کا ایوارڈ عطا کیا تھا۔ 2013ء میں کرناٹک یونین آف ورکنگ جرنلسٹ بنگلور نے ضلع انچارج وزیر گلبرگہ ڈاکٹر قمرالاسلام اور وزیرطبی تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل کے ہاتھوں ”بیسٹ جرنلسٹ ”کے ایوارڈ سے نوازا۔ 2014ئمیں غیر سیاسی تنظیموں کے متحدہ محاذ نے 371 (جے) کیلئے کامیاب جِدوجہد کرنے والوں میں ڈاکٹر ماجدداغی کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں” 371 جہدکار ” کے ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر ماجدداغی کی سماجی خدمات کااعتراف کرتے ہ?وئے 2000ء میں ہندی پرچار سمیتی آندھرا پردیش نے ”سیوا ہیرو” اور”سیوابھوشن” کے اعزازات سے سَرفرازکیا تھا. اگسٹ 2017 میں بہمنی فاونڈیشن کی جانب سے انہیں ”گلبرگہ کے انمول رتن” کا ایوارڈ تفویض کیا گیا تھا. علاوہ ازیں 27/جنوری 2017ئکو ڈاکٹر قمرالاسلام کی 69 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ”کاروانِ ٹیپو سلطان شہید آرگنائزیشن” کی جانب سے ان کی ادبی، سماجی، صحافتی اور تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایس ایم پنڈت رنگ مندر گلبرگہ ہی میں ایک عظیم الشان تہنیتی تقریب میں ”سیوارتن” ایوارڈ عطا کرتے ہوئے انہیں توصیفی سند عطا کی گئی تھی. اس موقع پر ڈاکٹر شرن بسواپااپا مہاراج پیٹھا دی پتی شری شرن بسویشور سمستھان کلبرگی اور ڈاکٹر این دھرم سنگھ سابق وزیر اعلٰی ودیگر ممتاز قائدین بھی موجود تھے۔
ڈاکٹرماجدداغی کے تنقیدی وتحقیقی مضامین و مقالات ملک کے موقر جرنلس میں شائع ہوتے رہتے ہیں انہوں نے اب تک ریاستی و قومی سطح کے کئی کانفرنسس و سمینارس میں اپنے مقالات پیش کئے ہیں. کرناٹک ردو اکاڈمی بنگلور نے2011ئمیں ان کی قومی یکجہتی، بھائی چارہ، حْب الوطنی اور اخوت کے موضوع پر لکھی ہوئی نظموں کا مجموعہ ”زوالِ آدم”شائع کیا جس کی رسمِ اجراء4 عزت مآب گورنر کے ہاتھوں راج بھو ن بنگلور میں عمل میں آئی۔ اب تک ان کی پانچ کتابیں (1)” فن کے کچھ نئے تنقیدی زاویے ” تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ. (2)” زوالِ آدم” نظموں کا مجموعہ (3) ” شرن بسواپااپا مہاراج کی لائقِ ستائش سماجی وتعلیمی خدمات ” (4) ”عصری فکرِنو” (تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ.) کے علاوہ (5) ”ودیادھر” منتخبہ ہمہ لسانی مضامین کا مجموعہ منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ ڈاکٹرماجدداغی ہمہ لسانی ادبی تنظیم ”لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ” کے بانی سیکریٹری، کنوینئر کے بعد اب موجودہ صدر ہیں یہ تنظیم گزشتہ دو دہائیوں سے ہمہ لسانی ادبی خدمات انجام دے رہی ہے۔ شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی گلبرگہ میں 1991ء سے بحیثیت مہمان لکچرار درس وتدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔انھوں نے ادب اور صحافت سے متعلق کئی سیمیناروں اور کار گاہوں میں شرکت کی اور اپنے مقالات پڑھے۔انہوں نے CWDS (منسٹری آف ویمن ڈیو لپمنٹ اسٹیڈی) اور CFAR (وزارتِ تعلیم و تحقیق) کے اشتراک سے 5, 6 اور7/ ڈسمبر 2004ء4 میں اولڈاینکر بیچ ریاست گوا میں ماہرین مردم شماری، قانون،طبی، اخلاقیات، آبادی و سماجیات کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے سہ روزہ قومی سطح کے ورکشاپ ” sex selection & Female Peeticide” میں شرکت کی اور پیدائش سے قبل دخترکشی کے رجحان کی پ?ر ز?ور مزمت کرتے ہ?وئے اجلاس میں اسکے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا.اسی طرح سہ روزہ ”ساوتھ ایشن پیس کانفرنس اینڈپیس مارچ” اکھل بھارت رچناتمک سمیتی نئی دہلی کے زیر اہتمام 4، 5 اور 6/اگسٹ 2001ء4 کو چنئی میں صدر سمیتی محترمہ نرملا دیشپانڈے(صدرنشین گاندھی فاؤ نڈیشن دہلی وسابق رکن پارلیمان) کی دعوت پر کر ناٹک سے نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کی۔ ڈاکٹرماجدداغی نے 1995ئمیں رکن کرناٹک ا?ردو اکاڈمی کی حیثیت سے اپنی تین سالہ میعاد میں کئی یادگار پروگرام اور اہم اقدامات کیلئے موثر نمائندگی کی ہے۔ ڈاکٹرمحمدماجدعلی داغی کی پیدائش ضلع محمدآباد بیدر کی تاریخ سازاورادب پرور سرزمین چٹگوپہ (معین آباد) میں یکم/جون1961ء کو ہوئی جبکہ آپ کاآبائی وطن موضع موگھہ تعلقہ چنچولی ضلع گلبرگہ ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطنِ مالوف چٹگوپہ میں ہوئی اور اب گلبرگہ میں مستقل سکونت پذیر ہیں۔ دانش گاہِ گل و برگ’ گلبرگہ یونیورسٹی سے 1990ء میں اردو سے ایم اے کیا اور 13/جون 1995ء میں گلبرگہ یونیور سٹی نے ان کے تحقیقی مقالہ ”ضلع کرنول میں اردو زبان وادب، صحافت اور تعلیم کا مطالعہ۔ آزادی کے بعد” پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ہندی سمیلن الہ آباد سے 4 200ء میں ”سکشاوشارد” میں امتیازی کامیابی حاصل کی جو بی ایڈ کے مماثل ہے۔1980 ء کے بعد جن قلم کاروں نے گیسوئے اردو سنوارنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ان میں ایک اہم اور معتبر نام ڈاکٹر ماجدداغی کا ہے جو گزشتہ چار دہوں سے سرزمین دکن کے ادبی افق پر اپنی حیات آفرین فکر کی کرنیں بکھیر نے میں مصروف ہیں۔ڈاکٹر ماجدداغی بیک وقت شاعر’ ادیب اور صحافی و معلم کے مناصب جلیلہ پر فائز سماج کی ناہمواریوں اور ناانصافیوں سے نبرد آزماہیں اور عصری حسیت سے مملو تخلیقات کے ذریعہء4 ہم عصروں میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ڈاکٹرماجدداغی تقریبا دو دہوں سے ملک کے کثیر الاشاعت اردو روزنامہ منصف کے نمائندہ خصوصی کی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں, ایڈیٹر اِن چیف خان لطیف محمد خان نے ان کے حسن خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 2006ء میں انہیں ”بیسٹ رپورٹرآف کرناٹک” کے ایوارڈ سے نوازا۔ڈاکٹر ماجدداغی اتہاس رچنا سمیتی حکومت کرناٹک کے علاوہ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے موجودہ سیکرٹری کے اور کئی سرکاری و غیر سیاسی اداروں، تنظیموں، انجمنوں میں مختلف عہدوں پر بہ حسن و خوبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ماجد داغی کے رکن کرناٹک اردو اکیڈمی نامزد ہونے پر ممتاز سماجی خدمت گزاران جناب انوار الحق موتی سیٹھ، احمر الاسلام ، عادل سلیمان سیٹھ ، ساجد علی رنجولویو دیگر نے دلی مبارک باد پیش کی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں