wake_up-alcohol-up-uttarakhand-died-arrested-family-charged

یوپی-اتراکھنڈ میں شراب کی تباہی جاری:109افراد ہلاک،175گرفتار ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 2-2لاکھ زیر علاج افراد کو 50ہزار کا معاوضہ

یوپی-اتراکھنڈ میں شراب کی تباہی جاری : 109 افراد ہلاک، 175 گرفتار
ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 2-2لاکھ زیر علاج افراد کو 50ہزار کا معاوضہ

لکھنؤ10فروری ( آئی این ایس انڈیا )

زہریلی شراب کی وجہ سے اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں 100 سے زیادہ لوگوں کے مارے جانے کے بعد حرکت میں آئی یوپی کی حکومت اور انتظامیہ کارروائی کر رہی ہے۔ یوپی کے آبکاری محکمہ کے مطابق حادثہ پر اب تک 297 مقدمہ درج کرکے 175 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سہارنپور میں 10 پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت زہریلی شراب بنانے اور بیچنے والوں پر قومی سلامتی ایکٹ (قومی سلامتی ایکٹ) لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، دونوں ریاستوں میں اب تک کل 109 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔موت کی تعداد 100 کے پار جانے پرانتظامیہ نے غیر قانونی شراب بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف 15 دن کی مہم کا آغاز کیا ہے۔ سہارنپور میں اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 35 مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ سہارن پور سے چھاپہ ماری میں شراب سازی کے لیے کیمیکل دریافت کی گئی ،سہارنپور میں 16 گاؤں کے لوگ اس زہریلی شراب کی ہلاکت خیزی کی زد میں آئے تھے ۔یوپی سرکار کی سختی کے بعد غیر قانونی شراب کے خلاف پوری ریاست میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ غیر قانونی شراب کے ٹھکانوں پر پولیس شب خون مار رہی ہے۔ پوری مہم پر پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) نگرانی کر رہے ہیں۔اس دوران حکومت نے متاثرین کے اہل خانہ کے لئے معاوضے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 2-2 لاکھ اورزیر علاج افراد کو 50-50 ہزار روپے کا معاوضہ حکومت کی جانب سے دیا جائے گا۔واضح ہوکہ زہریلی شراب کی وجہ سے دونوں ریاستوں میں ملا کر اب تک 108 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جس میں یوپی میں 77 اور اتراکھنڈ میں 32 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ کے روڑکی میں اب تک 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ،جبکہ یوپی میں سہارنپور میں 69 (سہارنپور میں 46 اور میرٹھ میں 23) اور کشی نگر میں 8 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ دونوں ریاستوں میں موت کے اعداد و شمار میں اضافہ کا امکان ہے ؛کیونکہ روڑکی میں اب بھی کئی ’میکشوں ‘ کی طبیعت بہت ہی نازک بنی ہوئی ہے ۔دوسری طرف، راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے قومی ترجمان انل دوبے نے ریاست میں زہریلی شراب سے بڑی تعداد میں ہوئی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لئے ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ذمہ دار قراردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی لکھنؤ، اناؤ، کانپور اور کئی دوسرے اضلاع میں کارروائی کی ہوتی تو آج سہارنپور اور کشی نگر میں اس ہلاکت خیزی کا اعادہ نہیں ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں