developing-indian-muslims-education-better-values-crucial-development-country-frank_islam

ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم اور بہتر اقدار سے آراستہ کرنا ملک کی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے:فرینک اسلام

ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم اور بہتر اقدار سے آراستہ کرنا ملک کی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے:فرینک اسلام

نئی دہلی ،10فروری (ایجنسیز)

بہتر تعلیم غریبوں اور بے سہارالوگوں کو بااختیار بنانے میں بےحد کلیدی رول ادا کرتی ہے ۔کوئی بھی انسان خواہ وہ کسی بھی طبقہ یا خطہ سے تعلق رکھتا ہو، سخت محنت، لگن، جانفشانی، اچھے اخلاق اور جدت کی بنیاد پر کہیں بھی اور کسی بھی میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امریکی دانشور، ماہر تعلیم، انسان دوست، بزنس لیڈر اور ادیب جناب فرینک اسلام نے دہلی کے معروف ادارہ انڈیا اسلامک کلچرل سینڑ کے اڈیٹوریم میں کل شام ایک لکچر کے دوران کیا۔
مسٹر فرینک اسلام نے اپنے تقریبا ایک گھنٹے کے خطبہ میں تعلیم کی اہمیت پر سب سے زیادہ زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ خاص طور پر ہندوستانی مسلمان اپنا کھویا ہو ا وقار بہتر تعلیم کے ذریعہ ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنی غریبی اور پستی کا خاتمہ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک غریب آدمی بہتر تعلیم کے ذریعہ نہ صرف اپنا ذریعہ معاش عمدہ طریقے سے حاصل کر سکتا ہے بلکہ ساتھ ہی اسے سماج میں عزت بھی حاصل ہوتی ہے اور فخر سے زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اپنی آنے والی نسلوں میں بہتر تعلیم کے ذریعہ ہی اچھے اور کارآمد افراد پیدا کرسکتے ہیں جیسے کہ اچھے لیڈر، کامیاب تاجر، سائنس داں، انجنیر اور دوسرے میدان کے پیشہ ور لوگ۔
انھوں نے اپنی تقریر میں بین مذاہب ڈائلاگ پر خاص طور سے زور دیا کہ آج کے اس شدت پسندی کے ماحول میں یہ کتنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے دین اسلام سے بہت لگاؤ اور عقیدت ہے جو دوسرے مذاہب کے ساتھ ہم آہنگی، امن، انصاف اور محبت کی بات کرتا ہے۔
فرینک اسلام ہمیشہ ہی سماجی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔ تعلیم اور ثقافت کے میدان میں ان کے کیے ہوئے کاموں کی کافی تعریف ہوتی رہی ہے۔
ابھی حال ہی میں فرینک اسلام نے اپنی مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں ایک مینجمنٹ کا شعبہ قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں انھوں نے دو عالیشان عمارتیں بھی ایک خطیر رقم یعنی 14 کروڑ روپے کے خرچ سے تعمیر کرائی ہے جو ” فرینک اینڈ ڈیبی مینجمنٹ کامپلیکس ” اور ” فرینک انیڈ ڈیبی آڈیٹوریم ” کے نام سے جاتی ہیں ۔
فرینک اسلام ہندوستان سے 70 کی دہائی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ ہجرت کر گئے تھے جہاں نہ صرف انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ ساتھ ہی ایک کامیاب تاجر کے طور پر بھی بہت نام کمایا۔ انھوں نے بی اے تک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی سے حاصل کی تھی۔ آپ کی پیدائش اتر پردیش کے ضلع آعظم گڑھ میں ایک متوسط دین دار گھرانے میں ہوئی تھی۔ اور شروع سے ہی ان کے دل میں ملک و قوم کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ موجود تھا۔
اس پروگرام میں استقبالیہ خطبہ انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے دیا اور ساتھ ہی سنڑ کے روز مرہ کے کاموں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے عزائم کے بارے میں بھی لوگوں کو قدرے تفصیل سے بتایا۔
مسٹر سراج الدین قریشی ایک کامیاب تاجر کے ساتھ ساتھ ایک مشہور سماجی خدمت گار بھی ہیں اور ملک کے دانشوروں میں ان کا ایک اہم مقام ہے۔
اس پروگرام کو جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر، پروفیسر احتشام حسین اور علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے سابق وائس چانسلر ریٹائرڈ جنرل ضمیرالدین شاہ نے بھی خطاب کیا اور اپنے قیمتی خیالات سے نوازا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں