Why are young children in the UK forced to live in parent homes

برطانیہ میں جوان بچے والدین کے گھروں میں رہنے پر کیوں مجبور ہیں؟

برطانیہ میں جوان بچے والدین کے گھروں میں رہنے پر کیوں مجبور ہیں؟

لندن 9 فروری ( آئی این ایس انڈیا )

برطانیہ میں جہاں سماجی طور پر مشترکہ خاندانی سسٹم رائج نہیں وہاں جوان بچوں کی ایک بڑی تعداد والدین کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں شہریوں کو رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ الگ مکانات کی عدم دستیابی ہی جوان اولاد کو والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق سنہ 1998سے 2017کے درمیان 20 سے 34 سال کی عمر کے جوانوں کے والدین کے ساتھ رہنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 20 لاکھ 40 ہزار سے 3 لاکھ 40 ہزار کے درمیان ہے۔برطانیہ کروس پارٹی کے مطابق ملک میں نوجوانوں کی تعداد 19 اعشاریہ 48 سے بڑھ کر 25 اعشاریہ 91 فی صد تک جا پہنچی ہے۔لویڈز بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 کے اندازوں کے مطابق برطانیہ میں مکان کی قیمت اوسط آمدنی سے 7 اعشاریہ 2 فی صد زیادہ ہے جبکہ سال 2007 میں کم قیمت میں آسانی کے ساتھ مکانات مل جاتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 25 سے 44 سال کی درمیانی عمر کے افراد کا الگ رہنے کے رحجان میں کمی آئی ہے۔ سنہ 2002 میں الگ تھلگ رہنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ80 ہزار تی اور سال 2017 کے دوران یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 30 ہزار تک آگئی ہے۔مشترکہ گھروں میں رہنے کے رحجان میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ گھروں کی قلت اور مکان کی قوت خرید کی صلاحیت کا نہ ہونا ہے۔برطانیہ کی سیفیٹس کمپنی کے ڈائریکٹر ڈینیل پنٹلی کا کہنا ہے کہ مملکت میں رہائشی سہولیات کا بحران تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور خاندان کی معاشی تشکیل نو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں