talk-intellectuals-religions-respect-all_religions-prof_tariq_mansoor

ہمیں تمام مذاہب کے دانشوروں سے گفتگو اور سبھی مذاہب کی عزت کرنی چاہئے: پروفیسر طارق منصور

ہمیں تمام مذاہب کے دانشوروں سے گفتگو اور سبھی مذاہب کی عزت کرنی چاہئے: پروفیسر طارق منصور

علی گڑھ،09 ؍فروری (آئی این ایس انڈیا)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی دینیات فیکلٹی کے شیعہ دینیات شعبہ میں’’ اکیسویں صدی کے چیلنجیز اور اسلام‘‘ موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شاہد مہدی نے کہا کہ ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے لہٰذا ہمیں تمام مذاہب کا بھر پور احترام کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر میں مسلمانوں کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں خواتین کے حقوق، مسلمانوں کو صحیح رہنما نہ ملنا اور مسلمانوں میں عدم تحریک خصوصی طور پرشامل ہیں انہوں نے کہا کہ اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ ان تمام چیلنجیز سے کیسے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ بے شک اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جس میں تمام چیلنجیز کا حل موجود ہے۔مہمانِ خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ آج کے دور میں ہم اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو نہیں دیکھتے بلکہ دوسروں کو قصور وار قرار دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف نفرت اور تعصب کے سبب ہو رہا ہے اس لئے ہمیں تمام مذاہب کے دانشوروں سے بات کرنی چاہئے اور سبھی مذاہب کی عزت کرنی چاہئے جس کے لئے ہم نے انٹر فیتھ سینٹر قائم کیا ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں سے گفتگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کا موضوع وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس موضوع پر بڑے پیمانے پر بھی پروگرام منعقد ہونا چاہئے۔دینیات فیکلٹی کے ڈین، شعبہ کے سربراہ اور پروگرام کے ڈائرکٹر پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے مہمانان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسولؐ سے کوسوں دور اورآخرت سے غافل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجیز دو قسم کے ہوتے ہیں ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ داخلی چیلنج میں تعصب کرنا، برائی اور نفرت کرنام بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنا شامل ہے جبکہ خارجی چیلنج میں آج اسلام کو دہشت گرد مذہب کہا جاتا ہے اور ان تمام چیلنجیز کا حل وہ ہے جو ہمیں قرآن دیتا ہے کہ بھلائی کی جائے، برائی سے بچا جائے اور صدق، عدل و احسان کو اپنایا جائے انہوں نے کہا کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو تو کامیاب و کامران ہوگے۔ پروگرام کے اعزازی مہمان پروفیسر علی محمد نقوی نے کہا کہ ہر دور میں نئے مسائل آتے رہتے ہیں لیکن ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جیسے18ویں صدی کے چیلنجیز کا مقابلہ سرسید احمد خاں نے کیا لیکن دورِ حاضر کے چیلنجیز میں تعلیم کا فقدان اہم ہے۔ اسی طرح شدید شکست خوردگی کا احساس اور ان تمام مسائل کا حل اسلام نے پیش کیا ہے بس ہمیں اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کا آغاز قاری محمد اعظم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر ہادی رضا نے نظامت کے فرائض انجام دئے جبکہ ڈاکٹر سید محمد اصغر نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں