#Shame, #but, #not, #come'

’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘

دوستو! ہم گجراتی دوسرے موقع کے کیوں مستحق ہیں؟ ایک بار پھر
’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘

تحریر: آکارپٹیل…
ترجمہ وتبصرہ: عبدالعزیز

کسی ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا اور اس کا مفہوم ادا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر زبان و ادب کی چاشنی اور انداز اور الگ الگ ہوتا ہے۔ آج (10فروری) انگریزی روزنامہ ’دی ٹائمس آف انڈیا‘ میں ایک مشہور صحافی آکار پٹیل (Aakar Patel) کا ایک طنزیہ مضمون “Friends, here’s why we Gujratis deserve a second chance, ek baar phir” کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ پہلے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے اور مز ا لیجئے:
’’دوستو! براہ کرم ہم گجراتیوں کو 2019ء میں ایک موقع اور عنایت کیجئے۔ ہم اس کے مستحق ہیں اور یہ آپ کے مفاد میں سب سے بہتر ہوگا۔ ہم آپ کو اس کا یقین دلاتے ہیں۔ آپ اسے تسلیم کریں یا نہ کریں یہ آپ پر منحصر ہے۔ ہم مختلف وجوہات کی بنا پر آپ سے مخاطب ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک آپ نے ہمارا سب سے اچھا رخ دیکھا ہی نہیں۔ ابھی تو ہم محض سکنڈ گیئر (Second Gear) ہی پکڑے تھے اور ابھی تو ہمارا پانچ ہی سال ہوا ہے اور پہیے پر ہیں (جبکہ دوسرے لوگ 67 سال تک پکڑے ہوئے تھے)۔ کیا ہم نے جہاز کا رخ 2014ء سے موڑ نہیں دیا۔ کوئی ایسااصول اور ضابطہ جس کا ہم نے بہترین مظاہرہ نہ کیا ہو اور تاریخ رقم نہ کی ہو۔ آگے بڑھئے؛ دفاع کے معاملے میں جو حکمت عملی ہم نے اپنائی ہے وسطی ایشیا میں اس کا کوئی جواب ہے؟ 2014ء میں مسلح افواج کے 165 افراد کی اموات ہوئیں جب میں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ گزشتہ سال صرف 183 افراد مارے گئے۔ آپ سن کر حیرت میں پڑ جائیں گے کہ کشمیر میں 2014ء میں ہمارے 46 جوان شہید ہوئے لیکن گزشتہ سال صرف 55 ہی شہید ہوئے اور 26 شہری مارے گئے جو غدارِ وطن تھے اور سنگ باری کر رہے تھے۔ گزشتہ سال 95 شہری کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ کتنی قابل تعریف بات ہے کہ یہ کام بغیر کسی سرجیکل اسٹرائیک کے انجام پایا۔ ماؤ نوازوں کے عروج کی بات کہی جاتی ہے لیکن 2014ء میں 85 جانیں تلف ہوئیں لیکن ہم نے اسے کنٹرول کرلیااور گزشتہ سال یہ تعداد 217 ہوگئی۔ شمال مشرق میں ہم نے فتحیابی حاصل کی۔ اموات کم ہوئیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ مکمل فرضی مڈبھیڑ کو نافذ کردیا۔ اس طرح ہم زبردست تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے۔ ان پر تف ہے جو غدارِ وطن بھی ہیں اور کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹارہے ہیں۔
ہماری خارجہ پالیسی بھی بہت کامیاب رہی۔ نیپال کے ساتھ ہم نے رشتے کی پیوند کاری کی اور ان کو بالکل مجبور کردیا۔ ان کو 2015ء فرسودگی اور پژمردگی میں مبتلا کردیا۔ 2017ء میںچینی اور ہندستانی بھوٹان سیاحت کیلئے گئے۔ بنگلہ دیش کا تو کچھ کہنا ہی نہیں۔ شہریت کے ترمیمی بل سے ہی وہ بے حال ہوگئے۔ مالدیپ میں بھی ہم نے اپنا ڈنکا اسی طرح بجادیا۔ سری لنکا بھی ہم سے آنکھیں نہیں ملا سکا۔ اس طرح ہماری خارجہ پالیسی کا سنہرا دور شروع ہوا۔
بے روزگاری چالیس سال میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت ہی فالِ نیک ہے کہ ایسا کارنامہ چالیس سال بعد ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس لئے ہوا ہے کہ عورتیں زیادہ گھر میں رہنے لگی ہیں اورملازمت سے ناطہ توڑ چکی ہیں کیونکہ وہ گھر میں اپنا صحیح وقت گزارنا چاہتی ہیں تاکہ خاندانی قدروں میں اضافہ ہو۔ یہی حقیقت ہے۔
ہجومی تشدد کی بھی بھرمار ہوئی ہے اور فرقہ جو دوسرے سے دور تھا وہ کم سے کم لڑائی اور جھگڑے میں قریب ہوگیا۔ ’’محبت نہیں تو عداوت ہی سہی‘‘۔
دوستو! اسی طرح کے بہت سے ترقیاتی کام انجام پذیر ہوئے ہیں۔ ایک ہی بہت بڑا ہمارا کارنامہ ہے کہ ہزار، پانچ سو کے نوٹوں کو ہم نے رد کردیا اور اس کی جگہ 2000کے نوٹ لائے۔ کیا یہ ترقی نہیں ہے۔ نئے نوٹوں کے حصول کیلئے قطار در قطار لوگ کھڑے رہتے تھے کوئی تنازع اور جھگڑا نہیں ہوا اور آج کوئی بھی یوپی اے کے زمانے کا نوٹ استعمال نہیں کرسکتا۔
دوستو! مختصراً ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کے پیش نظر آپ ہمیں دوبارہ ایک اور چانس (موقع) دیجئے تاکہ اس سے بڑے بڑے کارنامے ہم انجام دے سکیں۔ بنگالی احتجاج اور شاعری اور مٹھائی میں مشہور ہیں۔ اتر پردیش کے لوگ لوک گیت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور ہم گجراتی ٹوئٹر اور من کی باتوں کی وجہ سے اب کافی مشہور ہیں۔ اور لوک سبھا میں بغیر کسی مداخلت کے ہم گھنٹوں بولتے رہتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ہے کہ مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے لوگوں اور راجستھان کے لوگوں کا تو کچھ کہنا ہی نہیں کہ کب یہ سنجیدہ ہوئے؟ جنوبی ہند ستان تو جنوبی ہندستان ہے ان کا بھی کچھ کہنا نہیں۔ اچھی حکمرانی اور ترقی کے بارے میں کیا کہا جائے اور اچھے دن کا تو کوئی جواب نہیں۔
دوستو! اگر ان چیزوں کا آپ خیال رکھیں تو ہمیں ضرور واپس لائیں گے اور ایک موقع دیں گے۔ ایک بار پھر……‘‘۔
تبصرہ: مذکورہ مضمون اپنے دامن میں معنی کا ایک سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ کوزے میں سمندر ہے۔ کبھی کبھی طنز و مزاح میں جو بات کہی جاتی ہے اس کا جو اثر ہوتا ہے وہ بہت ہی دیرپا ثابت ہوتا ہے جو سیدھی سادی باتوں سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ اردو ادب میں اکبر الہ آبادی کے طنزیہ اشعار بہت ہی معنی خیز ایک ایک شعر ایک ایک مضمون کے برابر ہوتا ہے۔ جیسے:
مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
شیخ بھی خوش رہے شیطان بھی ناراض نہ ہو
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو
بس خدا سمجھا ہے اس نے برق کو اور بھاپ کو
برق گر جائے گی اک دن اور اڑ جائے گی بھاپ
دیکھنا اکبر بچائے رکھنا اپنے آپ کو
لیلیٰ نے کوٹ پہنا، مجنوں نے سایہ پہنا
ٹوکا جو میں نے بولے بس بس خموش رہنا
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑگیا
پوچھا جو ان آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہیں لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑگیا
خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
در اصل نریندر مودی کی شرارت اور گندی ذہنیت اور ان کی پارٹی اور ان کی مدر پارٹی کی جو مفسدانہ ذہنیت ہے اس کی ترجمانی کرنا کوئی آسان نہیں کیونکہ ہندستان کو جس پریشانی اور مصیبت میں ڈال دیا ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔ لوگ اس کی پالیسی سے بیحد پریشان ہیں۔ ہر محاذ پر وہ ناکام ہے مگر اس کا منہ بند نہیں ہے اور وہ اپنی ناکامی کو فرقہ پرستانہ رنگ دے کر چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ پہلے تو اس کا غلام اور امیت شاہ ملک میں پچاس سال تک حکومت کرنے کی بات کہہ رہا تھا ۔ اب اس کا نعرہ ہے ’’مودی ایک بار اور‘‘۔ ’’اب کی بار 400 پار‘‘۔ بے حیائی اور ڈھٹائی دیکھئے کہ سارے ضمنی انتخابات میں ناکامی ہوئی ایک دو کو چھوڑ کر اور تین بڑی ریاستوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اس کے باوجود کہا جارہا ہے ’’ایک بار اور‘‘۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ’بے حیا باش ہر چہ خواہی کن‘ (بے حیا ہوجاؤ جو جی میں آئے کرو)۔ مرزا غالبؔ سے معذرت کے ساتھ
پارلیمنٹ کس منہ سے جاؤ گے مودی …’شرم تم کو مگر نہیں آتی ‘
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں