qatar-affected-american-media-website-ruined

قطر امریکی میڈیا پر کیوں اور کیسے اثر انداز ہوا: ویب سائیٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

قطر امریکی میڈیا پر کیوں اور کیسے اثر انداز ہوا: ویب سائیٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

قطر،10؍فروری(ایجنسیز)

خلیجی ریاست قطر نے اپنے مفادات کے حصول کے عالمی ذرائع ابلاغ پر اثر انداز ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق قطر نے امریکی ذرائع ابلاغ اور ان کے ساتھ وابستہ شخصیات کو بھی انگلیوں پر نچانے کی پالیسی اپنائی۔ اس طرح امریکی میڈیا کے دو الگ الگ دھارے سامنے آئے۔ ایک نے سماجی انصاف کی پالیسی اپنائی جب کہ دوسرے نے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ایک چھوٹی ریاست کے اثرات قبول کیے۔امریکا میں حالیہ متنازع بریک ڈائون کے بعد متعدد امریکی کمپنیوں جن میں BuzzFeed ،Gannett ،Yahoo ،AOL اور Huffington Post شامل ہیں، نے ایک معاہدہ کیا جس میں انہوں‌ نے اپنے چھوٹے چھوٹے مضامین کے ذریعے سماجی انصاف کو اپنے ابلاغی پروپیگنڈے میں اولیت دینے سے اتفاق کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکی میڈیا کے ایک دوسرے متوازی دھارے نے اپنے نامہ نگاروں اور ایڈیٹروں کو مخصوص لابی کے لیے کام کرنے کی پالیسی اپنائی۔ امریکا کے آن لائن جریدےThe Federalist میں شائع ہونے والے ڈیوڈ ریبوری کے مضمون میں امریکی میڈیا پر دوسرے ممالک کےاثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکی قومی سلامتی کے امور کے تجزیہ نگار امریکا میں ابلاغی مداخلت کی پالیسی کے ماہر کا کہنا ہے کہ سنجیدہ صحافت اور مخصوص ابلاغی پروپیگنڈے کی پالیسی پرچلنے والے دونوں دھاروں نے امریکی سیاست اور ابلاغ کو متاثر کیا۔ کرپشن، خیانت اور دھوکہ دہی سے متعلق کئی ایسی من گھڑت کہانیوں‌ نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو بھی متاثر کیا۔
ڈیوڈ ریبوری کا کہنا ہے کہ ابلاغی ڈرامے میں جو چیز ہمیشہ موجود رہی وہ سازشی عنصر ہے۔ یہ سازش مختلف مراحل میں اپنے انتقامی اور سام دشمنی کی بنیاد پر موجود رہی۔
دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے والی ریاست
ڈیوڈ ریبوری نے اپنے مضمون میں‌ امریکا میں نئے عدالتی دعوے نے ابلاغی پروپگنڈے کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کرنے میں مدد کی۔ اس پروپیگنڈے کا ہدف ری پبلیکن پارٹی کے الیوٹ پرویڈی نامی رکن کانگریس ہیں۔ ان کی ای میل ہیک کی گئی اور انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔
الیویٹ پرویڈی جو ماضی میں ری پبلیکن کی انتخابی مہم کے لیے فنڈ ریزنگ کرتے رہے ہیں، نے واشنگٹن کی ایک عدالت میں درخواست دی جس میں کہا گیا کہ تین امریکی ایک چھوٹی ریاست کے مفادات کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ یہ ریاست قطر ہے جو دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کرتی ہے۔
ان تینوں‌ نے قطر کے ناقد کو خاموش کرانے کی سازش کی اور اس کے لیے اس کی ای میل کو استعمال کیا گیا۔ اس کی شہرت کو داغدار کرنے کے لیے ای میل پر موجود مواد میڈیا میں شائع کرنے کی کوشش کر کے قطر کی دہشت گرد اور اسلامی تنظیموں کے لیے فنڈنگ پر تنقید کی سزا دی گئی۔
درخواست میں قطر کے مفادات کے لیے کام کرنے والوں میں نیک موزین ، گوی اللحام اور گریگ ہوارڈ کو شامل کیا گیا جن پر الزام ہے کہ وہ پرویڈی کے ای میل سے ملنے والے مواد کو نیویارک ٹائمز، McClatchy، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ میں شائع کراتے رہے ہیں۔
جعل سازی اور شہرت پر حملہ
پرویڈی کی ای میل سے چوری کیے گئے مواد کو شائع کرنےکے غیر ذمہ دارانہ عمل کی آڑ میں متعدد امریکی اخبارات نے ری پبلیکن رکن پر حملے کی راہ ہموار کی۔ ان اخبارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پرویڈی کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی دانستہ مہم چلائی تاکہ ان کی شہرت کو داغ دار کر کے انہیں امریکی سیاسی، ابلاغی اور عوامی حلقوں میں‌ بدنام کیا جاسکے۔ اس کے لیے انہوں نے جعلی اور من گھڑت کہانیاں‌ شائع کیں۔
قطر کی شیطانی چال
ڈیوڈ ریبوری نے اپنے مضمون میں قطر کی شیطانی چال سے پردہ اٹھایا۔ وہ لکھتے ہیں کہ قطر اخوان المسلمون اور اس کی فروعی تنظیموں، فلسطین کی حماس کو سرکاری سرپرستی میں معاونت فراہم کرتا رہا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ریبوری کا کہنا ہے کہ قطر نے امریکا میں اپنے متعلق حقائق کو چھپانے کے لیے بھی غیرمعمولی پیسہ خرچ کیا۔ قطر کی طرف سے امریکا میں ثقافتی سرگرمیوں کی آڑ میں اور سابق سیاسی فیصلہ سازوں کی حمایت کے حصول کے لیے بھاری رقوم تقسیم کی گئیں۔ تاہم قطر امریکا کی یہودی لابی کو اپنی طرف موڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جو یہ جانتی ہے کہ قطر دہشت گردی کی فنڈنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے مد مقابل کھڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں