kursi-par-namaz

کرسی پر نماز کی فقہی تحقیق

کرسی پر نماز کی فقہی تحقیق

تحریر: مفتی محمدشعیب اللہ خاں… ترتیب: عبدالعزیز

آج کل مساجد میں کرسیوں کا رواج عام ہورہا ہے اورلوگ عذر سے یا بلاعذر کے کرسیوں کو نماز کیلئے استعمال کررہے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ کرسی پر نماز پڑھنے کا رواج ابھی چند سالوں سے شروع ہوا ہے، اس سے پہلے بھی لوگ بیمار ہوتے تھے اور اعذار ان کو بھی لاحق ہوتے تھے؛ مگر کبھی لوگوں کو کرسی پر نماز کی نہیں سوجھی۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے اور سنا بھی جاتا ہے کہ لوگ اچھے خاصے ہیں، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے کی قوت پوری طرح رکھتے ہیں،اور اپنے گھروں سے چل کر مسجد آتے ہیں؛ مگر نماز کے وقت خود ہی کرسی کھینچ کر اس پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہ صورت حال اس بات کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ لوگوں میں تکاسل وتغافل ہے اور نماز کی اہمیت سے وہ بے خبر ہیں؛ لہٰذا ان کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ بعض اللہ کے بندے واقعی عذر اور شدید مجبوری میں کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا یہ عذر شرعی ومعقول ہوتا ہے، اور آج کل قویٰ کی کمزوریوں اور نئی نئی قسم کی بیماریوں نے اصحابِ اعذار کی بھی بہتات کردی ہے۔
الغرض! ایک جانب دین سے غافل اورلاپرواہ لوگ ہیں جو بلاوجہ و بلا عذر محض تن آسانی ولاپرواہی سے اور غفلت وسستی کی بنا پر یا محض شوقیہ یا فاخرانہ طور پر نماز کیلئے کرسیوں کا استعمال کرنے لگے ہیں، تو دوسری جانب ان حضرات کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر و خوف اور احکام الٰہی کی عظمت وجلالت موجود ہے اور وہ بھی کرسیوں کا استعمال کرتے ہیں؛ مگر اس وجہ سے کہ وہ واقعی معذور ومجبور ہیں۔
اس صورت حال میں علماء ومفتیان کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو اس سلسلے میں صحیح وغلط اوراچھے وبرے کی تمیز بتائیں اور شریعت کی روشنی میں اس کے احکام کو واضح کریں اور شریعت کے وصف امتیازی ’’اعتدال‘‘ کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلی قسم کے لوگوں کی بے اعتدالیوں پر تنبیہ کے ساتھ ساتھ واقعی عذر رکھنے والوں کیلئے شریعت کی عطا کردہ سہولتوں کو پیش کریں؛ تاکہ اصحاب اعذار ان سے منتفع ہوسکیں۔
زیر نظر تحریر اسی مسئلے کی تحقیق کیلئے لکھی گئی ہے اور اس میں ہم نے اس کے دونوں پہلوؤں کو واضح کیا ہے؛ تاکہ افراط و تفریط کی راہوں سے الگ اعتدال کے راستے پر قائم رہیں۔ واللہ اعلم۔
محوراوّل: بلاعذر کرسی پر نماز ناجائز ہے۔
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ہماری بحث کے تین محور ہیں: ایک یہ کہ بلاعذر کرسی پر نماز کا حکم، دوسرے عذر معقول کی وجہ سے کرسی پر نماز کاجواز، اور اس کے شرائط وقیود، اور تیسرے کرسی پر عذر کی وجہ سے جواز کی دلیل۔
لہٰذا سب سے پہلی بات ’’کرسی پر بلاعذر نماز کے حکم‘‘کے بارے میں عرض ہے کہ بلاعذرِ معقول کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں:
ٍعدم جواز کی پہلی وجہ:ایک وجہ یہ ہے کہ نماز میں قیام ورکوع وسجدہ فرائض میں داخل ہیں، اور بلا عذر ان میں سے کسی کو چھوڑ دینے سے نماز نہیں ہوتی،اور کرسی پر نماز پڑھنے والا ان تمام فرائض کو چھوڑ دیتاہے، قیام کی جگہ کرسی پر بیٹھتا ہے اور رکوع وسجدے دونوں کو چھوڑ کر محض اشارے سے ان کو ادا کرتا ہے، تو اس کی نماز کیسے ہوسکتی ہے؟ لہٰذا جو لوگ بلاعذر معقول کرسی پر نماز پڑھتے ہیں، وہ اپنی نمازوں کو ضائع کررہے ہیں، اور یہاں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو نمازیں پڑھی ہیں؛ لیکن جب اللہ کے یہاں پہنچیں گے تو ان کے نامۂ اعمال اس سے خالی ہوں گے؛ لہٰذا ایسے لوگ ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ اگر قیامت کے دن نماز کی محنت کرنے کے باوجود ہمارا نامۂ اعمال نماز سے خالی ہوتو کیا ہوگا؟
عدم جواز کی دوسری وجہ: دوسرے یہ کہ نماز دراصل اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی کے سامنے بندے کی بندگی، عاجزی و انکساری کا نام ہے اور اللہ کی جلالت کے روبرو خدا کے غلام کی تواضع وفروتنی سے عبارت ہے، اور کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں یہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے؛ کیونکہ کرسی پر بیٹھنے کی حالت عموماً عاجزی وانکساری کی نہیں ہوتی؛ بلکہ ایک حد تک یہ متکبرانہ ہوتی ہے، نیز اگرمتکبرانہ نہیں ہوتی تب بھی عرف عام میں بڑوں کے سامنے کرسی پر بیٹھنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے، یا کم از کم خلافِ ادب خیال کیا جاتاہے۔ اب غور کیجیے کہ کیا اللہ عز و جل کے دربارِ عالی شان ودرگاہ بے نیاز میں بلاوجہ کرسی پر بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا ہے؟ لہٰذا یہ صورت نماز کی مقصدیت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے۔
ٍ عدم جواز کی تیسری وجہ:تیسرے یہ کہ کرسیوں پر بیٹھ کر عبادت کرنے میں غیروں سے مشابہت پائی جاتی ہے؛ چنانچہ عیسائیوں میں رواج ہے کہ وہ اپنے چرچوں میں کرسیوں پر عبادت کرتے ہیں، یہ بات اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے کہ غیروں کی مشابہت اختیار نہ کی جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہوگا‘‘۔ (ابوداؤد:4033)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’وہ ہم میں سے نہیں جو غیروں سے مشابہت اختیار کرے، تم یہود سے مشابہت نہ کرو اور نہ نصاریٰ سے، یہود کا سلام انگلیوں کے اشارے سے اورنصاری کا سلام ہتھیلیوں کے اشارے سے ہوتا ہے‘‘۔ (ترمذی:2295)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ’’مونچھوں کو کٹاؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ،اور مجوسیوں کی مخالفت کرو‘‘۔ (مسلم:626، معرفۃ السنن بیہقی:440/1، مسند ابو عوانۃ:161/1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اسلام غیروں سے مشابہت اختیار کرنے کے سلسلے میں کس قدر حساس واقع ہوا ہے؟ جب اسلامی شریعت لباس وپوشاک،اور بال وکھال تک میں غیروں کی مشابہت کو پسند نہیں کرتا تو نماز جیسی اہم ترین عبادت اور مومن کی زندگی کے بنیادی مقصد کے بارے میں یہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ وہ غیروں کے طور وطریقے کے مطابق انجام دیا جائے؟
لہٰذا بلا عذر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا ناجائز ہے، اس طرح نماز پڑھنے والوں کی نماز بالکل بھی نہیں ہوتی، اور اس طرح پڑھی ہوئی نمازیں ان کے ذمہ علی حالہ باقی رہتی ہیں۔
محور دوم: عذرمعقول کی وجہ سے کرسی پر نماز جائز ہے
دوسری بحث یہ ہے کہ عذر ہونے کی صورت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ کیا کسی بھی عذر وتکلیف میں کرسی کااستعمال نماز کیلئے جائز نہیں؟ یا کچھ شرائط وقیود کے ساتھ جائز بھی ہے؟
مشقت سے احکام میں تخفیف: یہ جاننے سے پہلے ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہیے؛ تاکہ بات واضح وصاف طریقہ پر سامنے آجائے۔ وہ یہ کہ ہماری شریعت نہایت معتدل ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط؛اس لیے یہ بات تو یقینی ہے کہ عذر وتکلیف کی صورت میں اس میں تخفیف وسہولت دی جاتی ہے۔
چناں چہ شریعت کے اصول میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اس نے بیماری وتکلیف کو تخفیف احکام کا سبب مانا ہے۔
اسی کو فقہا یوں بیان کرتے ہیں کہ’’مشقت آسانی کا باعث بنتی ہے‘‘ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: 75/1، الاشباہ والنظائر للسیوطی:160/1)
اور یہ قاعدہ فقہیہ متعدد قرآنی وحدیثی نصوص سے اخذ کیاگیاہے، جیساکہ فقہاء نے ثابت کیا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ عبادات میں تخفیف کے سات اسباب ہیں،اور ان میں سے ایک مرض کو بھی لکھا ہے۔ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: 75/1، الاشباہ والنظائر للسیوطی:160/1)
مشقت کے درجات واحکام:لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ہر قسم کی تکلیف، مرض اس سے مراد نہیں ؛ بلکہ وہ مرض وتکلیف جس سے انسان کو شدید پریشانی لاحق ہوتی ہے، ورنہ تھوڑی بہت تکلیف تو ہر کام میں ہوتی ہے، حتیٰ کہ خود نماز پڑھنا بھی ایک مشکل کام ہے، اسی طرح بعض امراض خفیفہ میں بھی تھوڑی بہت مشقت ہوتی ہے؛ جیسے سردرد، یا معمولی زخم کی تکلیف وغیرہ؛ مگر ان کی وجہ سے تخفیف نہیں دی جاتی۔
اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ مشقت دو قسم پر ہے: ایک وہ مشقت جو عبادت سے اکثروبیشتر جدا نہیں ہوتی، جیسے وضو وغسل میں سردی کی مشقت، اور طویل دن اور سخت گرمی میں روزے رکھنے کی مشقت… پس اس قسم کی مشقت کا عبادات کے ساقط ہونے میں کسی بھی وقت اعتبار نہیں، اور رہی وہ مشقت جو غالب طور پر عبادات سے جدا ہوتی ہے، اس کے کئی مراتب ہیں: پہلی بڑی اور پریشان کرنے والی مشقت ہے، جیسے جان پر یا اعضاء پر یا اعضاء کے متعلقہ فوائد پر خوف کی مشقت، پس یہ مشقت موجبِ تخفیف ہے؛ دوسری معمولی و ہلکی مشقت، جیسے انگلی میں معمولی درد ہونا، یا سر میں معمولی سا چکر ہونا یا معمولی سی طبیعت کی خرابی، پس اس کا کوئی اثر نہیں اور نہ اس کا کوئی لحاظ ہوتا ہے؛ اور تیسری ان دو کی درمیانی مشقت، جیسے رمضان میں بیمار آدمی نے روزہ رکھنے سے مرض کے بڑھ جانے کا خوف کیا، یا بیماری سے دیر سے صحت یاب ہونے کا اندیشہ کیا،پس اس کیلئے روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔ (الاشباہ والنظائر لابن نجیم: 82/1، الاشباہ والنظائر للسیوطی:168/1)
الغرض مشقت وبیماری اسبابِ تخفیف میں سے ہے؛ مگر ہر تکلیف وبیماری نہیں؛ بلکہ وہ جس میں انسان کو ناقابلِ برداشت تکلیف پیش آئے اور وہ اس کو سہار نہ سکے۔ (جاری)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں