iranian-regime-reconciliation-forces-emphasize-movement-civil-disobedience-change

رضا پہلوی کا ایرانی نظام بدلنے کے لیے سول نافرمانی کی تحریک پر زور

رضا پہلوی کا ایرانی نظام بدلنے کے لیے سول نافرمانی کی تحریک پر زور

لندن10فروری ( آئی این ایس انڈیا )

ایران میں انقلاب سے قبل کے سابق ولی عہد اورآنجہانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے فرزند محمد رضا پہلوی نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر مسلط مذہبی طبقے کے نظام کو ختم کرنے کے لیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کریں۔ انہوں نے ایرانی مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کو مجرم او ل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اپنے ایک بیان میں ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے کہا کہ عوام کی گردنوں پر مسلط مذہبی طبقے کی حکومت اب زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ ایرانی عوام کو موجودہ ظالم نظام کے خلاف گھروں سے نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سال 2018میں ایران میں اٹھنے والی احتجاجی تحریک نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام فرسودہ نظام کے مظالم سے نالاں ہیں۔ عوام کو ترقی اور خوش حالی چاہتے ہیں جب کہ موجودہ نظام عوام کو پسماندہ اور تاریکی میں رکھنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پرفوجی حملہ مسئلے کا حل نہیں ہوگا، موجودہ نظام حکومت جوہری پھیلاؤ کا سلسلہ پھربھی جاری رکھے گا۔ ایسے میں آخر کار عالمی برادری کو ایران میں زمام کارکی تبدیلی ہی پرمجبور ہونا پڑے گا۔ لہٰذا عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ آج ہی سے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کام شروع کر دے۔ان کا کہنا تھا کہ میں غیرملکی طاقتوں کو صرف تبدیلی کی حد تک تعاون کے لیے بلا رہا ہوں۔ میرا مقصد یہ نہیں کہ جس طرح عالمی طاقتوں نے عراق پرقبضہ کرلیا وہ اس طرح ایران پر بھی قبضہ کرلیں۔انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایران میں مسلح گروپ موجود ہیں جو کسی انقلاب کی صورت میں ایران کوعراق بنا دیں گے، رضا پہلوی کاکہنا تھا کہ ایران کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے لیے اسلحے کے استعمال کے قائل نہیں بلکہ وہ سول نافرنامی کی تحریک چلا کر حکومت بدلنے کے خواہاں ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کو ہمارے ساتھ کھلے دل کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگرسفارتی کوششیں اوراقتصادی پابندیاں کارگر نہ ہوئیں تو مجھے ایران کیخلاف عالمی جنگ کا اندیشہ ہے ؛لیکن میں عالمی برادری سے کہوں گا کہ جو کام وہ جنگ کے بعد کریں گے وہ جنگ سے پہلے کیوں نہیں کرتے، یعنی ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کے خلاف اٹھانے کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں