#Country, #Duplication, #rogue, #Lord, #Save,

’ملک کو دوڈھائی شرپسندوں سے بچائیے‘

’ملک کو دوڈھائی شرپسندوں سے بچائیے‘
سابق وزیر اعلیٰ یوپی اکھلیش یادو کا ملک کے شہریوں کے نام ایک خط

ترجمہ وتبصرہ: – عبدالعزیز

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ مسٹر اکھلیش سنگھ یادو جو ہندی میں بولتے اور لکھتے پڑھتے ہیں۔ پہلی بار پورے ملک کے شہریوں کو خطاب کرنے کیلئے انھوں نے انگریزی زبان میں ایک خط لکھا ہے جو کئی انگریزی اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے ممتا بنرجی کے دھرنے اور جدوجہد کی کھل کر حمایت کی ہے اور ممتا حکومت پر حملے کو دستور اور آئین پر حملے کے مترادف کہا ہے۔ خط کا مضمون:
’’پیارے ہم وطنو!
آج میں آپ سے اس لئے مخاطب ہوں کہ دو ڈھائی افراد اور میڈیا کا ایک حصہ اس قدر شرپسندی اور فساد پر آمادہ ہے کہ جس سے ملک و قوم خطرناک دہانے پر ہے اور ایک ایک چیز تباہ و برباد ہورہی ہے۔

آج جو مغربی بنگال پر حملہ ہوا ہے وہ نہ صرف دستور کے اصولوں اور قدروں پر ہے بلکہ دستور ساز بزرگوں کے سنہرے خوابوں پر حملہ ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں بالکل واضح ہوگیا ہے کہ جمہوریت اور دستور کو بے دریغ مسلا اور کچلا جارہا ہے۔
فارمولا بالکل واضح ہے کہ جو اقتدار یا حکومت کی گدی کو سنبھالے ہوئے ہیں وہ اپنے حریفوں کو ہر طرح کی الجھنوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ قانونی جنگ کرکے، غلط اور بے بنیاد الزامات میں پھنسا کر ان کو غدارِ وطن اور غدارِ قوم کہہ کر اور اس طرح دوسرے غلط سلط الزامات لگاکر انتقامی کارروائی کر رہے ہیں اور 50سال تک اقتدار میں ٹکے رہنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
دو ڈھائی افراد جو ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں ملک بھر کے اپنے حریفوں کے درپے ہیں۔ ہمارا وزیر اعظم طاقتور نہیں بزدلی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہی کی پارٹی اور انہی کی کابینہ کا ایک فرد نیتِن گڈکری نے سچ کہا ہے کہ ’’جو اپنے گھر کو سنبھال نہیں سکتا وہ کیسے اتنے بڑے ملک کو سنبھال سکتا ہے‘‘۔ یہ دو ڈھائی افراد ممتا دیدی پر حملے کرتے وقت ان کے ماضی کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ یہ وہ بہادر اور جری عورت ہے جسے سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال جیوتی باسو کے دفتر سے اس کے بالوں کو پکڑ کر باہر گھسیٹا گیا تھا، محض اس لئے کہ وہ عصمت دری کرنے والے کے خلاف انصاف چاہتی تھی۔ یہ وہ بہادر اور جفاکش عورت ہے جس نے کمیونسٹوں کے 34سالہ اقتدار کے قلعہ کو مسمار کردیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہی وہ وقت ہے جب سارے ہندستانی مل جل کر بغیر کسی امتیاز مذہب و ملت اور ذات پات، ریاست و علاقائیت سے اوپر اٹھ کر دو باتوں پر رضامندی ظاہر کریں۔ اس وقت ملک میں سختی کے ساتھ قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ ایسے کمزور افسران کی ضرورت نہیں ہے جو سیاسی حریفوں کے خلاف مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ الیکشن کے پولنگ بوتھوں پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ آدھی رات کو چھاپے مارنے اور الزام تراشیوں کے ذریعہ الیکشن نہ لڑا جائے۔ میں عدلیہ، سی بی آئی، آئی اے ایس، آئی پی ایس اور تمام قومی اداروں سے گزارش کرتا ہوں کہ جن پر حملے ہورہے ہیں وہ اس مشکل گھڑی میں شرپسند عناصر پر غالب آنے کی کوشش کریں اور وہ حق و انصاف کیلئے کھڑے ہوجائیں تاکہ ایسے لوگ ایک مخصوص پارٹی کے انتخابی ایجنٹ نہ بن سکیں۔ میں اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جو قومی اداروں میں کام کرتے ہیں اور جو میڈیا میں کام کرتے ہیں وہ بغیر کسی خوف اور لالچ کے حق و انصاف کیلئے کھڑے ہوجائیں۔

آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں اور جس جماعت یا پارٹی کو پسند کرتے ہیں اسے ووٹ دیں مگر اس دو ڈھائی افراد کے معجون مرکب کو اس کی اجازت ہر گز نہ دیں کہ ملک کی بنیاد کو لرزہ براندام کردیں اور ملک تباہ و برباد ہوجائے‘‘۔

تبـصـرہ: – دو ڈھائی افراد (Two and a half men) سے مراد مودی، شاہ اور دول ہیں۔ کچھ مہینوں پہلے ارون شوری نے بھی یہی کہا تھا کہ ملک میں بدقسمتی سے دو ڈھائی افراد حکمرانی کر رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے اس وقت ملک کے معزز شہریوں کو جس دلسوزی اور اخلاص کے ساتھ خطاب کیا ہے اور گزارش کی ہے کہ دو ڈھائی افراد کے خلاف جو ملک و قوم کی ساری قدروں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں ان کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور ان کے پیغامِ امن کو ہر کوچہ اور گلی تک حکمت کے ساتھ پہنچانا چاہئے۔ خاص طور سے یوپی میں اس پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکھلیش اور مایاوتی کے انتخابی اتحاد سے دو ڈھائی افراد کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ ایک جوگی یا یوگی کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے جو مجرموں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور کمزوروں اور مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے یوگی ادتیہ ناتھ کو صحیح جواب دیا ہے کہ یوپی کو سنبھالے نہیں سنبھل رہا ہے اور بنگال میں آکر وعظ و نصیحت کر رہے ہیں۔ ایسے شخص کو کیا حق پہنچتا ہے جس کی ریاست میں امن و امان نام کی چیز نہیں ہے۔ جہاں پولس اور پولس افسران کو بھی دن دہاڑے قتل کردیا جارہا ہے۔ گائے کے نام پر لوگوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ آوارہ جانور کسانوں کی فصلوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ ان جانوروں کی رکھوالی اور پناہ کیلئے قانونی بندوبست کیا جارہا ہے اور اقلیتوں اور دلتوں کو حیران و پریشان کیا جارہا ہے۔ دو ڈھائی افراد کے ایسے لوگ چاپلوس اور خوشامدی ہیں جو اپنے آقا کے اشارے پر سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اکھلیش نے بروقت اپیل کی ہے، لہٰذا ان کی اپیل پر لوگوں کو لبیک کہنا چاہئے۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں