muslims-religious-matters-darul_qaza-society-islamic-secure-muslim-maximum_rights-women-protection-law_sharia

مسلمان اپنے عائلی معاملات دارالقضاء میں لے جائیں معاشرہ اسلامی ہوتوخواتین زیادہ محفوظ ہیں،مسلم خواتین کوسب سے زیادہ حقوق دیے گئے پندرہ ریاستوں کی خواتین کی تحفظ قانون شریعت اوردستورہندکانفرنس

مسلمان اپنے عائلی معاملات دارالقضاء میں لے جائیں
معاشرہ اسلامی ہوتوخواتین زیادہ محفوظ ہیں،مسلم خواتین کوسب سے زیادہ حقوق دیے گئے
پندرہ ریاستوں کی خواتین کی تحفظ قانون شریعت اوردستورہندکانفرنس

حیدرآباد5فروری(آئی این ایس انڈیا)

حیدر آباد میںیک روزہ آل انڈیا خواتین کانفرنس کاانعقادہواجس میں پندرہ صوبوں کی خواتین شریک ہوئیں۔ پروفیسر شکیل صمدانی نے ’’تحفظ قانون شریعت اور دستور ہند‘‘ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کے نفاذ کی گارنٹی شریعت ایکٹ، ۱۹۳۷ کے ذریعہ دی گئی ہے۔ یہ قانون آزادی سے قبل انگریزوں کے ذریعہ بنایا گیا تھا جس میں مسلمانوں کے آئینی معاملات جیسے نکاح، مہر، طلاق، وقف، وصیت، ہبہ اور وراثت وغیرہ کے معاملات شامل ہیں۔ اگر ان معاملات میں دونوں فریق مسلمان ہیں تو قرآن اور سنت پر مبنی اسلامی قانون کا نفاذ کیا جائے گا۔ پروفیسر صمدانی نے کہاہے کہ ابھی تک شریعت ایکٹ لاگوہے اورہندوستانی عدلیہ کے ذریعہ مسلمانوں کے مقدمات قانون شریعت کے ہی ذریعہ کیے جارہے ہیں، یہ ایک الگ بات ہے کہ کہیں کہیں عدالتوں کے ذریعہ ایسے فیصلے آئے ہیں جس سے قانون شریعت کو نقصان بھی پہنچا ہیں لیکن اس کے باوجود عام طور پر عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لاء کی قانونی حیثیت کوبحال کررکھاہے۔پروفیسر صمدانی نے خواتین کے جم غفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام خاتون کی فطرت کے مطابق سب سے زیادہ حقوق دیتا ہے اور اگر معاشرہ اسلامی ہو تو مسلمان عورتیں سب سے زیادہ محفوظ اور با اثر ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے عائلی معاملات عدالتوں میں لے جانے کے بجائے دار القضاء میں لے جانا چاہئے تاکہ سرعت کے ساتھ اور بہت کم خرچ میں انصاف مل سکے۔ اخیر میں پروفیسر صمدانی نے کہا کہ کمزور طبقات بالخصوص دلتوں، پچھڑے طبقوں، خواتین اور مسلمانوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اورمعیاری لاء کالجز کا قیام کرنا چاہئے۔ اس کانفرنس کو تلنگانہ کے وزیر داخلہ محمود علی، ڈاکٹر عبیداللہ اعظمی، خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر سید شاہ حسینی خسرو، اقلیتی کمیشن کے صدر محمد قمرالدین اور دیگر نے خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں