muslim-youths-arrested-aurangabad-mumbai-police-custody-14th_february-jamiat_ulema_maharashtra-provided-legal-assistance

اورنگ آباد اور ممبرا سے گرفتار مسلم نوجوانوں کو مزید ۱۴؍ فروری تک پولس تحویل میں بھیجا گیا جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے قانونی امداد فراہم کی

اورنگ آباد اور ممبرا سے گرفتار مسلم نوجوانوں کو مزید ۱۴؍ فروری تک پولس تحویل میں بھیجا گیا
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)نے قانونی امداد فراہم کی

ممبئی ، 05فروری(آئی این ایس انڈیا)

مہاراشٹر کے اورنگ آباد اور ممبئی سے قریب مسلم آبادی والے ممبرا سے گرفتا ۱۰؍ مسلم نوجوانوں کو آج اورنگ آباد کی خصوصی یو اے پی اے عدالت نے ۱۴؍ فروری تک مزید پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔اس معاملے میں گرفتار ملزمین ۱۔ سلمان خان ۔ محسن خان ۳۔ مظہر شیخ عبدالرشید ۴۔ محمد تقی ۵۔ محمد سرفراز عبدالحق عثمانی۶۔جمال نواب کو بروقت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج تمام ملزمین کو یو اے پی اے عدالت کے جج کے آرچودھری نے مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس)کی جانب سے گرفتار ملزمین کو مزید ۹؍دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے، حالانکہ استغاثہ نے ملزمین کی مزید ۱۴؍ دنوں کی پولس تحویل طلب کی تھی لیکن دفاع کی مخالفت کے بعد عدالت نے ملزمین کو ۹؍دنوں کے لیئے پولس تحویل میںبھیج دیا۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ خضر پٹیل ملزمین کے دفاع میں پیش ہوتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمین سے تفتیش تقریباًمکمل ہوچکی ہے لہذا اب انہیںمزید پولس تحویل میں نہیں دیا جانا چاہئے نیز ملزمین کے قبضہ سے جو حاصل کرنا تھا وہ بھی اے ٹی ایس حاصل کرچکی ہے ۔حالانکہ سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ ابھی تک ان کی تفتیش مکمل نہیںہے لہذا انہیںمزید ایام درکار ہیں تاکہ ملزمین سے تفتیش کی جاسکے ۔فریقین کی بحث کی سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے ملزمین کو ۱۴؍ فروری تک پولس تحویل میں بھیج دیا۔اسی درمیان دفاعی وکیل خضر پٹیل نے آج ملزمین کے اہل خان کو ملزمین سے عدالت کی اجازت حاصل کرکے ان کی ملاقات کرائی جو اورنگ آباد اور بیرون اورنگ آبادسے آئے ہوئے تھے۔داعش کے ہم خیال ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہا کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزا ر اعظمی نے کہا کہ ملزمین کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے نیزآج پہلا ریمانڈ مکمل ہوجانے کے باجود اے ٹی ایس کو ملزمین سے کچھ بھی پختہ ثبوت ہاتھ نہیں لگا جس کی بنا پر اس نے ملزمین کی مزید پولس تحویل طلب کی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃعلماء نے ایڈوکیٹ خضر پٹیل کی سربراہی میں وکلاء کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے نیز دہشت گردانہ معاملات کے تجربہ کار وکلاء (ممبئی و دہلی) سے بھی صلاح ومشورہ کیا جارہا ہے۔ممبرا اور دیگر شہروں سے اورنگ آباد پہنچے ملزمین کے اہل خانہ کے قیام و طعام کا بندوبست قاری امین الدین (جنرل سیکریٹری مراٹھواڑہ) اور مبین صاحب (جنرل سیکریٹری ضلع اونگ آباد) اوران کے رفقاء نے کیا تھا اور دوران سماعت اورنگ آباد سیشن عدالت میں بھی وہ ملزمین کے اہل خانہ کے ہمراہ موجودتھے۔واضح رہے کہ اے ٹی ایس نے ملزمین پر الزام عائد کیاہے کہ وہ ممنو ع تنظیم داعش کے ہم خیال ہیں اور وہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے ہیں ۔

کیٹاگری میں : هوم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں