#Modi, #Mamta, #tactics, #proved, #ultimate, #political, #outcome, #Defeated,

مودی کی تدبیریں الٹی ثابت ہوئیں !سیاسی رسہ کشی میں ممتا نے مودی کو مات دے دی

مودی کی تدبیریں الٹی ثابت ہوئیں !
سیاسی رسہ کشی میں ممتا نے مودی کو مات دے دی
عبدالعزیز
دیکھنے میں آتا ہے کہ بسا اوقات انسان ایک کام اپنے منصوبے کی خاطر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے ٹھیک نشانے پر تیر مار دیا مگر نتیجے میں ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے اسی کے ہاتھوں سے وہ کام لے لیا جو اس کے منصوبے کے خلاف تھا۔ اور وہ جو تیر مارنا چاہتا تھا اس کے سینے میں پیوست ہوگیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی 2014ء میں ہندستانی عوام کو بڑے بڑے خواب دکھاکر اور انھیں گمراہ کرکے جیت گئے اور ان کا کی حکومت کی مدت بھی اب پوری ہونے جارہی ہے۔ دو تین مہینے مشکل سے باقی ہیں۔ ضمنی اور تین بڑی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابات میں شکست سے ان پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی ہے اور جو بھی وہ کام کر رہے ہیں پانسہ الٹا پڑ رہا ہے۔ اونچی ذاتوں کو دس فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ ان کے خلاف ہی چلا گیا۔ بڑی ذات کے لوگ تو اس سے خوش نہیں ہوئے لیکن دلت اور کمزور طبقات کے لوگ ناراض و ناخوش ہوگئے۔ بجٹ میں کسانوں کو لبھانے کیلئے 6000 روپئے کی رشوت کا اعلان کیا۔ کسانوں نے اسے اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیا اور صاف صاف کہا کہ مودی کی غلط پالیسیوں سے جو روز مرہ ان کی پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ چھ ہزار کی رقم اس کی مداوا نہیں کرسکتی۔ یہ تجویز بھی ان کی ناکام ہوگئی۔ ان کو ایہ احساس ہوچلا ہے کہ ہندی بیلٹ میں ان کی سو سے زیادہ سیٹیں 2014ء کے الیکشن کے مقابلے میں کم ہونے والی ہیں۔ اس کمی کو مغربی بنگال اور اڑیسہ سے نریندر مودی پوری کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال کے بارے میں ان کی پارٹی کا خیال ہے کہ یہ علاقہ ان کیلئے بہت زر خیز ثابت ہوگا۔ گزشتہ ایک ماہ سے مغربی بنگال میں رتھ یاترا نکالنے کی پرزور کوشش کر رہے تھے بالآخر سپریم کورٹ سے مغربی بنگال میں سیاسی رتھ یاترا نکالنے کی اجازت مل گئی۔ پہلے کئی علاقوں میں رتھ یاترا نکال کر ہنگامہ آرائی اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ممتا حکومت نے بی جے پی کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ اس کے بعد مودی جی درگا پور کے اجلاس میں آئے اور جب انھوں نے دیکھا کہ بھیڑ بہت زیادہ ہے تو ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ وہ ممتا کو درکنار کرسکتے ہیں۔ اجلاس ہی میں انھوں نے کچھ اس طرح کا اشارہ کیا کہ ممتا کی حکومت کے خلاف کچھ نہ کچھ ہونا چاہئے۔ یوگی ادتیہ ناتھ کو جب ایک اجلاس میں شرکت کا موقع نہیں ملا تو فون سے ان نے مغربی بنگال کے عوام کو خطاب کیا۔
گزشتہ اتوار کو مودی جی کی سی بی آئی نے کلکتہ پولس کمشنر کو پوچھ تاچھ کرنے اور حراست میں لینے کا منصوبہ بنایا۔ مودی جی کا یہ منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہوا۔ نریندر مودی کو شاید یہ معلوم نہیں تھا کہ ممتا بنرجی میں اپنے مخالفین سے لڑنے اور مات دینے کا غیر معمولی حوصلہ ہے۔ بایاں محاذکی چونتیس سالہ مضبوط حکومت کو 2011ء میں ممتا بنرجی گرانے میں کامیاب ہوگئیں۔ کمیونسٹوں سے پالا لینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا لیکن ممتا نے کمیونسٹوں کو بھی مات دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ایسی شکست دی کہ آج تک مارکسی پارٹی یا باں محاذ ابھر نہیں سکا۔ مودی جی کے پاس آر ایس ایس کے کیڈرس ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے سہارے وہ ممتا کا وارا نیارا کردیں گے۔ لیکن جنرل الیکشن سے پہلی سیاسی مڈبھیڑ میں سی بی آئی کی مدد سے مودی ممتا کو زیر کرنا چاہتے تھے وہ زیر نہیں کرسکے۔ ممتا کی سیاسی جیت ہوئی اور پورے ملک میں ممتا کا چرچا ہونے لگا۔ مغربی بنگال میں مودی اور یوگی نے جو لہر پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اس کا خاتمہ بھی ایک’ہندستان بچاؤ دھرنا‘ سے ہوگیا۔ بجٹ سیشن کے بعد بجٹ کے بارے میں جو چرچا ہونا چاہئے تھا اس کے بجائے ممتا بنرجی کی بہادری اور دلیری کا چرچا ہونے لگا اور مودی-شاہ کے بزدلانہ قدم کی ملک بھر میں مذمت ہونے لگی۔ اپوزیشن پہلے سے زیادہ منظم اور متحد ہوگئی۔ اپوزیشن کے اتحاد کی صف میں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ بیجو پٹنائک بھی شامل ہوگئے۔ شیو سینا نے بھی سی بی آئی کے غلط استعمال کی مذمت کی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ حسب توقع ہوا ہے ۔ تین ججوں کی بنچ نے ہدایت کی ہے کہ سی بی آئی پولس کمشنر راجیو کمار سے پوچھ تاچھ کرسکتی ہے۔ راجیو کمار کو بھی سپریم کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی بی آئی کے ساتھ تعاون کریں اور سی بی آئی کا سامنا کرنے سے احتراز نہ کریں۔ سی بی آئی کو پوچھ تاچھ کا حق پولس کمشنر سے ضرور تھا لیکن جو طور طریقہ استعمال کیا گیا وہ قاعدہ اور قانون کے بالکل خلاف تھا۔ سی بی آئی کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ راجیو کمار سی بی آئی کا تعاون نہیں کر رہے تھے۔ اگر وہ تعاون نہیں کر رہے تھے تو انھیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا نہ کہ راجیو کمار کے گھر پر دھاوا بول دینا چاہئے تھا۔ راجیو کمار کوئی معمولی افسر نہیں ہیں جو فرار ہوجائیں گے۔ ان کو تو جب بھی قاعدے اور قانون کے مطابق بلایا جاتا یا سی بی آئی ان کے دروازے پر آتی تو وہ کسی طرح بھی عدم تعاون کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہ بات بھی پورے ملک میں روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ کوئی کتنا بڑا بھی مجرم ہو اگر وہ بی جے پی میں شامل ہوگیا یا بی جے پی کا دامن تھام لیا تو اس کو پناہ مل جائے گی اور سی بی آئی بھی اس سے پوچھ تاچھ نہیں کرے گی۔ مکل رائے ترنمول پارٹی میںنمبر دو پر تھے اور شاردا چٹ فنڈ میں جو گھپلا ہوا اس میں وہ اصل مجرم ہیں لیکن انھوں نے بی جے پی سے اپنا معاملہ طے کرلیا اور بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ آج ان کو سی بی آئی ہاتھ لگانے سے قاصر ہے۔ بی جے پی کی یہ دوغلی پالیسی پورے طور پر عیاں ہوگئی اور نریندر مودی بے نقاب ہوگئے۔
للت مودی، وجئے مالیا ، نیرو مودی اور میہول چوکسی جیسے لوگ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کی رقمیں بینک سے لوٹ کر فرار ہوگئے اور سی بی آئی تماشا دیکھتی رہی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ ایسے لوگ مودی حکومت سے یا مودی سے قریب تھے اس لئے ان پر سی بی آئی ہاتھ لگانا نہیں چاہتی تھی بلکہ ان کو باہر جانے کا آسان راستہ دکھادیا۔ اب جبکہ ملک میں واویلا مچ رہا ہے تو انھیں بیرونی ممالک کی عدالتوں کے ذریعے ہندستان میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ محض اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے جسے عوام خوب سمجھ رہے ہیں۔ پہلے ان کو باہر نکال دیا گیا اب اندر لانے کا ناٹک کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر کانگریس راہل گاندھی چوکیدار کو چور بتا رہے ہیں اور چوکیدار کو ہٹانے کیلئے عمل پیہم کر رہے ہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کے اندر پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں آنے سے جان آگئی۔ اور ممتا بنرجی کی کوشش پیہم سے بھی اپوزیشن میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ کانگریس کی رفتار اگر یہی رہی اور ممتا بنرجی جیسی لیڈر کی سرگرمی مسلسل جاری رہی تو فرقہ پرست اور فسطائی حکومت کے دن انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں