main_role-persian-urdu-promotion-islam-india-ali_haddad_adil

ہندوستان میں اسلام کے فروغ میں فارسی اور اردو زبان کا اہم رول: علی حدادعادل

ہندوستان میں اسلام کے فروغ میں فارسی اور اردو زبان کا اہم رول: علی حدادعادل

اردو یونیورسٹی میں انجمن فارسی اساتذہ کی بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح۔ ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر آزرمی دخت کا خطاب

حیدرآباد، 5 ؍فروری (ایجنسیز)

فارسی اور اردو زبانوں نے ہندوستان میں اسلام کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ دونوں زبانیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ان میں سے ایک زبان کا فروغ دوسری زبان کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ ممتاز اسکالر پروفیسر غلام علی حداد عادل، سابق اسپیکر، ایرانی پارلیمنٹ نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ انجمن استادانِ فارسی ہند (ایپٹا) کی 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس میں کے افتتاحی اجلاس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز،وائس چانسلر اردو یونیورسٹی نے صدارت کی۔ کانفرنس بعنوان ’’فارسی زبان و ادب میں دکن کا حصہ‘‘ میں ایران اور افغانستان کے مندوبین کے بشمول سارے ملک سے 100 سے زائد اسکالرس شریک ہیں۔ پروفیسر حداد نے اردو کو ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی ثقافتی وراثت کا منبع قرار دیا۔ پروفیسر حداد عادل نے ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو زبردست خراج پیش کیا اور کہا کہ انہیں ایران میں حد درجہ احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ہند ۔ ایران دوستی کو آزمودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر کبھی خزاں نہیں آئی۔ ہندوستان بالخصوص حیدرآباد کی گرمجوشی کا حوالہ دیتے ہوئے ممتاز ایرانی اسکالر نے ریمارک کیا کہ انہیں یہاں آکر گھر جیسا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے عہد وسطیٰ میں فارسی زبان کے رول اور اسلام کی اشاعت میں اس کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ’’ایران نے جس طرح فارسی کو علمی زبان بنایا ہے، ہمیں بھی اردو کو علمی زبان بنانا چاہیے۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ فارسی اردو کا لباس ہے۔ یعنی اس کا رسم الخط فارسی سے لیا گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ اس طویل تاریخ میں فارسی محض ادب و شاعری کی زبان ہی نہیں بلکہ سیاسیات، نظم و نسق، طب، سائنس وغیرہ کی زبان بھی یہی تھی۔ ہندوستان کی ممتاز فارسی اسکالر، محترمہ پروفیسر آزرمی دخت صفوی، صدر ایپٹا نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے سطح مرتفع دکن کو مختلف تہذیبوں اور زبانوں کی آماجگاہ قرار دیا۔ یہی وصف ہندوستان کا طرۂ امتیاز بھی ہے۔ انہوں نے مختلف مؤرخین کے حوالے سے کہا کہ ہندوستانی زبانوں پر فارسی کا اثر رہا رہے، جسے آج بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ صوفی اور بھکتی مکاتب فکر کی یکجائی نے دکن کی مشترکہ تہذیب کو وجود بخشا۔ حیدرآباد کے نظام حکمرانوں نے فارسی اور اردو زبان کی جو سرپرستی کی ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ دکن میں فارسی اور اس کے اثرات کا آغاز خلجی کی آمد سے قبل 13 ویں صدی میں ہوچکا تھا۔ مسلم حکمرانوں کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی زبانیں فارسی سے فطری طور پر متاثر رہیں۔ دکن میں بصری فنون، فارسی فن تعمیر کی درآمد اور ہندوستانی طرز کے ساتھ اس کے امتزاج پر بھی ایران کے واضح اثرات نظر آتے ہیں۔ پروفیسر صفوی نے فارسی زبان و ادب پر دکن اور بالخصوص حیدرآباد کے اسکالرس کے خدمات پر بھی روشنی ڈالی۔پروفیسر مظفر علی شہ میری، وائس چانسلر، ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی ، کرنول نے کہا کہ آندھرا پردیش کے رائلسیما علاقے کی خانقاہوں میں بڑے پیمانے پر فارسی ادب پر کتابیں موجود ہیں، لیکن اس پر تحقیق نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہ میری خانوادہ میں شہ میری اول ، شاہ کمال کے فارسی کلام جو مخطوطات کی شکل میں ہیں انہیں حاصل کرتے ہوئے ڈیجیٹل شکل دی جاسکتی ہے۔ ان کے علاوہ اختر کڑپوی کے مخطوطات بھی حاصل کرکے محفوظ کرنے اور تحقیق کیے جانے کے قابل ہیں۔ پدم شری موسیٰ رضا، صدر نشین ساؤتھ انڈین ایجوکیشنل ٹرسٹ اینڈ فورم فار ڈیماکریسی، چینائی نے چینائی کے کتب خانوں میں موجود فارسی مخطوطات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ ہندوستانی زبانوں میں فارسی الفاظ آج بھی مستعمل ہیں۔ پروفیسر ماہرو زادے عادل زوجہ ڈاکٹر غلام علی حداد عادل اور حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ شخصیت محترمہ لکشمی دیوی راج نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر احسان اللہ شکر الٰہی ، ڈائرکٹر، ریسرچ سنٹر ، ایران کلچر ہاؤس، نئی دہلی نے قدیم و جدید فارسی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حیدرآباد کی ممتاز فارسی اسکالر پروفیسر رفیق فاطمہ کو انجمن کی جانب سے ’’سندِ استادِ ممتاز‘‘ دی گئی۔ اس موقع پر ایران کے پروفیسر نصیری کے تدوین کردہ تاریخ فرشتہ کی چار جلدوں کا رسم اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر مہتاب جہاں، اسسٹنٹ پروفیسر ، دہلی یونیورسٹی کی تصنیف ’’کاوش‘‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ عامر حسن عابدی کی کتابیں یونیورسٹی لائبریری کو ہدیہ میں دی گئیں۔ پروفیسر عراق رضا زیدی، جنرل سکریٹری ایپٹا نے کارروائی چلائی اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، صدر شعبہ فارسی، اُردو یونیورسٹی نے شکریہ ادا کیا۔ فارسی اسکالر محمد مختار عالم نے قرأت کلام پاک پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں